Header Ads

Header ADS

دین دیال اپادھیائے۔ سرکاری فلاسفر

حالیہ دنوں ہندوستان بھر میں دین دیال اپادھیائے کے پوسٹرس اور بینرس لگائے گئے۔ یہ بینر اس طرح کے تھےکہ ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر ہے اور دوسری طرف  دین دیال اپادھیائے کی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی پورے ہندوستان کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ یہ ہندوستان کے اصل فلاسفر ہیں لیکن تعصب کی وجہ سے ان کو اب تک پہچانا نہیں جا سکا۔  اس لیے اپادھیائے کے 100ویں جنم دین کے موقع پر مرکزی سطح پر اور جہاں بی جے پی کی حکومتیں قائم ہیں وہاں ریاستی سطح پر بڑے پیمانے پر پروگرامس لیے جارہے ہیں۔یونیورسٹیز کو سرکیولر جاری کیے جارہے ہیں کہ اپادھیائے پر سیمینار کئے جائیں۔ لائبریریز میں اسکی کتابوں کے سیٹ رکھوائےجا رہے ہیں، وزیر اعظم  اور صدر جمہوریہ اور حکومت کے مختلف ذمہ دار  اپنی تقاریر میں  بار بار اپادھیائے کی شخصیت کو اجا گر کر رہے ہیں۔آسام میں دس کالجز کے نام اس کے نام پر رکھے گئے۔ مغل سرائے ریلوے اسٹیشن اور اس طرح کئی دوسرے ادارے،ریلوے اسٹیشن و کالیجیز اور سرکادی املاک کے نام اسکے نام پر رکھے جا رہے ہیں۔ غالبا یہ دنیا کا پہلا فلاسفر ہوگا جسے منوانے کے لیے  سرکاری مشنری بھر پورکوشش کر رہی ہے اور ایک سرکار اپنے ذرائع وسائل اور اپنی طاقت سے اسے فلاسفر ثابت کرنے میں لگی ہے۔اس لیے ہم اسے 'سرکاری فلاسفر' کہہ سکتے ہیں۔

ہمیں دیکھنا ہوگا کہ یہ فلاسفر کون ہے۔ کیا یہ کانٹ ہے،نتشے، ہیگل ہے  گاندھی ہے ، ٹیگور ہے ،وویکانند ہے یا اقبال ہےیا پھر شبلی ہے۔

اپادھیائے کے کام کا اگر جائزہ لیا جائےتو اسکا فلسفہ integral humanism  اسکا کارنامہ قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس فلسفہ کا جائزہ لیا جائے تو کاپی پیسٹ فلسفہ ہے۔اس میں  کوئی بھی خیال اس کا اپنا نہیں ہے بلکہ سب دوسروں سے ادھار لی ہوئی باتیں ہیں۔ اور سب سے زیادہ  چیزیں مہاتما گاندھی کے گاندھیائی سوشلزم سے چرائی گئی ہیں ۔پھر اپا دھیائے کا اصلی کارنامہ کیا ہے۔ اس کا اصلی کارنامہ یہ ہے کہ وہ سنگھ کا وفادار کارکن تھا ۔اور زندگی بھر سنگھ کے لیے کام کرتا رہا۔ بھارتیہ جن سنگھ کا پہلا صدر بھی رہا۔ سنگھ کے دوسرے لیڈروں کی طرح مسلمانوں کے بارے میں اس کی بھی وہی سڑی ہوئی ذہنیت تھی جس  کی سڑاند اور بدبو آج پورے ملک میں پھیل چکی ہے اور سانس تک لینا دشوار ہوا جا رہا ہے۔اپادھیائے کو سب سے زیادہ فکر اس بات کی تھی کہ  بٹوارہ کے بعد بھی مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد ہندوستان میں رہ گئی ہے اب اسکا کیا کیا جا سکتا ہے۔اتنی بڑی آبادی کو ہند مہا ساگر میں بھی نہین پھینک سکتے  ہٹلر جیسا آدمی یہود جیسی چھوٹی قوم کو ختم نہیں کر پایا۔ تو مسلما نوں جیسے بڑی آبادی کا کیا کیا جائے۔ اس کا حل یہ ہے کہ ان پر اپنا دبدبہ قائم کیا  جائے اور انہیں اپنے ماتحت رکھا جائے۔اور اسکے لیے وہ کہتا ہے کہ بہت جلد اور تیزی کے ساتھ انکا بھارتی کرن کرنا ہوگا۔اور اس کے لیے مسلمانوں پر یہ لازم ہوگا کہ وہ  ثابت کریں کہ وہ ہندوستانی ہیں اور انکی وفاداریاں ہندوستان کے ساتھ ہیں۔


 وہ کہتا ہے کہ مسلمانوں کے تین بڑے مسئلے ہیں ان میں سے سب سے بڑا مسئلہ جو ان کے بھارتی کرن میں رکاوٹ ہے وہ یہ کہ مسلمان بہت زیادہ مذہبی  ہوتا ہے اسکو ہر بات میں اسلام نظر آتا ہے اور وہ اس سے اس طرح چمٹا ہے کہ اس کو چھوڑنا اس کے لیے نا ممکن ہے۔    مسلمان بیت الخلاء جاتے وقت بھی خدا کا نام لیتا ہے۔ہر بات میں قرآن کی آیات پڑھتا ہیں۔ اس کا مذہب اس کے اندر رچ بس گیا ہے 

اپادھیائے کے اصلی خیالات یہی ہیں ۔ وہ سنگھ کے لیے بہت کارآمد تھا لیکن یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ بہت ہی دیش بھکت اور دیش کے لیے قربانی دینے والا آدمی تھا۔ حالانکہ آزادی کی لڑائی میں اپادھیائے کا کوئی کنٹریبیوشن  نہیں رہا۔ آزادی کے وقت اسکی عمر ۳۰ سال  تھی لیکن اس کا کوئی قابل ذکر کارنامہ تو دور کی بات معمولی کام بھی آزادی کے آندولن میں دکھائی نہیں دیتا۔

پھر سنگھ اس کو کیوں پروموٹ کر رہا ہے؟؟ ۔پارلیمانی سیاست کے ذریعہ ہندوستان بھر میں قبضہ کرنے کے بعد  سنگھ اب ہندوستان کی خیالی تصویر کو بدلنا چاہتا ہے۔ وہ تصویر جو گاندھی،نہرو،آزاد اور امبیڈ کر سے بنتی ہے۔ جس طرح نہرو کی جگہ  ساورکر کو پروموٹ کیا جا رہا ہے اسی طرح گاندھی  کی جگہ دین دیال اپادھیائے کو پروموٹ کیا جا رہا ہے۔ دیکھنا ہے جدید ہندوستانی کی اس تصویر کو بدلنے میں سنگھ کو کتنی کامیابی ملتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں

merrymoonmary کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.