تعلیم کا بھگوا کرن
تعلیم انسا ن کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے۔اسی کی
بنیاد پر مہذب اور جاہل انسان میں فرق کیا جاتا ہے۔تعلیم ہی قوموں کی ترقی
اور زوال کی وجہ بنتی ہے تعلیم حاصل کر نے کا مطلب صرف کالج یا یونیورسٹی
سے ڈگری حاصل کر لینا نہیں ہوتا۔ بلکہ تعلیم سے انسان کا کردار سنوارنا اور
تہذیب سکھا نا بھی مقصود ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے میں نظام تعلیم تین مقاصد
کے لیے استعمال ہو تا ہے۔
۱۔ملک کا سسٹم چلانے کے لیے درکار افراد تیار کرنے کیلیے
۲۔استعماری قوتیں اپنا غلبہ قائم کرنے کے لیے یا قائم رکھنے کے لیے بھی تعلیم کو بطور ہتھار استعمال کرتی ہیں
۳۔کسی خاص نظریہ یا فکر کے مطابق لوگوں کو ڈھالنے کیلیے
دنیا
میں عام طور پر پہلے قسم کا نظام تعلیم ہی رائج ہے۔ خود ہمارے ملک
ہندوستان میں اب تک یہی نظام تعلیم رائج ہے جس کا مقصد سماج کو درکار مختلف
صلاحیتوں کے افراد پیدا کرنا ہے۔ دوسری قسم کا نظام تعلیم استعماری قوتیں
غلام قوموں کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال کرتی رہیں ہیں۔جس کے بارے میں
اقبال نے کہا تھا
اک لرد فرنگی نے کہا اپنے پسر سے
منظر وہ طلب کر کہ تری آنکھ نہ ہو سیر
بیچارے کے حق میں ہے یہی سب سے بڑا ظلم
برے پہ اگر فاش کریں قاعدۂ شیر
سینے میں رہے راز ملوکانہ تو بہتر
کرتے نہیں محکوم کو تیغوں سے کبھی زیر
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے ، اسے پھیر
تاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب
سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے اک ڈھیر
تیسری قسم کا نطام تعلیم کسی قوم کی خاص ڈھنگ پر تربیت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یورپ
میں فاشزم کی ابتدا میں ہٹلر اور مسولینی نے اسی طرز تعلیم کو استعمال کیا
تھا۔ مسولینی نے Opera Nazionalle Balilla (ONB) نامی طلبہ اور ٹیچرس کی
تنطیم قائم کی تھی ۔ اس تنظیم کو حکومت خود چلاتی تھی اور اس کے ذریعہ
تعلیمی نظام میں فاشسٹ خیالات شامل کیے جاتے تھے۔اسی طرح ہٹلر کی نازی
پارٹی نے بھی پورے نصاب میں تبدیلی کرکے نظام تعلیم کو اپنے کنٹرول میں کر
لیا تھا۔
ہندوستان میں تعلیم کا بھگوا کرن اسی طرح کی کوشش ہے۔ اس طرح کے نطام تعلیم میں دو اہم اجزا ہوتے ہیں۔
اول
یہ کہ جس قوم کی تربیت کرنا مقصد ہوتا ہے اسکو اپنی تاریخ پر فخر کرنا
سکھایا جاتا ہے۔ اور اگر ایسی تاریخ نہ ہو تو ایسی تاریخ بنائی جاتی ہے
دوسرے یہ کہ ملک کے اندرکسی اقلیت کو تلاش کیا جاتا ہے اور اسے ملک کے تمام
مسائل کی جڑ بتایا جاتا ہے۔
بھگوا
کرن کی کوششوں کے پیچھے بھی یہی دو ایجنڈے ہیں۔ سنگھ نے بالکل ابتدا سے
ہی تعلیم کو ذہن سازی کا اصل ذریعہ بنایا ہے۔ سنگھ کا دوسرا سر چالک
گولوالکر ایک جگہ لکھتا ہے ’’نو جوان ذہنوں میں صحیح جذبہ اور کام کرنے کے
طریقہ کا شعور پیدا کرنا ہوگا اس کے لیے ہمیں لا محدود پیمانے پر جدید و
قدیم لٹریچر تیار کرنا ہوگا۔ایسا لٹریچر جو ہمارے قومی ہیروز اور انکے
واقعات کو بیان کرے تاکہ ہماری نئی نسل کو اپنے رشی اور یوگیوں کے ورثہ پر
فخر محسوس ہو۔‘‘ مرلی منوہر جوشی بھگوا کرن کو واضح کرتے ہوئے کہتا ہے۔
’’بھگوا کرن کا مطلب مقدس ہندوستانی روایتوں کی طرف واپسی ہے‘‘
ہندوستان میں جاری بھگوا کرن کی کوششوں کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
پہلا
مرحلہ وہ ہے جس میں سنگھ اقتدار سے دور رہا اور غیر سرکاری سطح پر بھگوا
کرن کی کوششیں کرتا رہا۔دوسرا مرحلہ اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب سنگھ کے
سیاسی بازو بی جے پی کو پہلی مرتبہ اٹل بہاری کے زمانےمیں حکومت بنانے کا
موقع ملا ۔ اسکا تیسرا مرحلہ 2014 میں نریندر مودی کے اقتدار سے شروع ہوتا
ہے اور یہ کوششیں ابھی تک جاری ہے۔
تعلیم کا یہ
بھگوا کرن بہت تیزی کے ساتھ جاری ہے ۔ اس کے اثرات طویل مدتی اور دور رس
ہونگے یہ آنے والی نسلوں کے ذہن میں کس درجہ فرقہ پرستی کا زہر گھولے کا اس
کا انداز لگانا مشکل ہے۔اس کے لیے صحیح اصطلاح وہی ہے جو دی ہندو اخبار نے
اختیار کی تھی
Saffronisation is nothing but intellectual terrorism.

کوئی تبصرے نہیں