Header Ads

Header ADS

سال2019 الیکشن اور مودی کی جیت ؛ میں میڈیا کے کردار پر ایک اقتباس

 سال2019 الیکشن اور مودی کی جیت ؛  میں میڈیا کے کردار پر ایک اقتباس

 زمانہ انتخابات میں میڈیا کا رول بہت اہم ہوتا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں میڈیا کا کردار کبھی بھی اتنا یک رخی نہیں رہا تھا۔ ہندوستانی میڈیا نے ضمیر فروشی اور بے شرمی کے سابقہ تمام ریکارڈز توڑ دیے۔ تقریباً تمام ہی بڑے چھوٹے میڈیا ہاؤسز مودی سرکار کے ماوٗتھ پیس کے طور پر کام کر رہے تھے۔    ہندوستان میں زیادہ تر میڈیا ہاوسیز بی جے پی یا سنگھ کے ہیں یا پھر ان سے متفق لوگوں کے۔ اس لیے پچھلے پانچ چھ سالوں میں میڈیا مکمل طور پر مودی کی ہر ناکامی کو چھپاتا رہا اور مستقل طور پر اسے ایک ایسےلیڈر کے طور پر پیش کرتا رہا جس نے غربت کو قریب سے دیکھا ،جو نیچے سے جدوجہد کرتا ہوا اوپر آیا ،جو عام آدمی کے درد کو سمجھتا ہے،ملک کے لیے انتھک محنت کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے اپنے آرام تک کی پرواہ نہیں ہے۔جو سنسار کی موہ مایا سے بے نیاز ایک فقیر ہے، فیصلہ کن قوت ارادی رکھنے والا کرشماتی لیڈر ہے۔ جو ملک سے باہر اور ملک میں موجود ملک دشمن قوتوں سے ٹکر لے رہا ہے ۔
 ہٹلر کا قریبی ساتھی گوبیل کہا کرتا تھا کہ کسی جھوٹ کو بار بار دہراؤ وہ سچ بن جاتا ہے۔ یہی کچھ ہندوستانی عوام کے ساتھ ہوا۔ سوشل ،الیکٹرانک اور بڑی حد تک پرنٹ میڈیا مسلسل پانچ سال تک یہ باور کراتا رہا کہ مودی ہی مسیحا ہے جو اسکے درد کا درماں کر سکتا اور عوام نے اس فریب کو سچ مان لیا۔



کوئی تبصرے نہیں

merrymoonmary کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.