مودی حکومت.0 2
(ہفت روزہ دعوت)
مودی حکومت نے اپنے
پہلے ٹرم میں ایشوز کی بنیاد نیشنلزم پر رکھی تھی ۔ جے این یو، ملٹری کے
اختیارات میں اضافہ،بالاکوٹ اور پلوامہ ، اربن نکسل یہاں تک کہ نوٹ بندی
اور جی ایس ٹی جیسی حماقتوں کے حق میں بھی دلیل نیشنلزم ہی سے دی گئی تھی۔
دوسرے
ٹرم کی شروعات تھوڑے مختلف انداز سے ہوئی اس بار کے ایشوز مختلف ہیں۔
انسداد دہشت گردی قانون، ٹرپل طلاق کا مسئلہ ، آرٹیکل 370 کا خاتمہ، بابری
مسجد کا فیصلہ ، این آر سی اور اسکے بعد شہریت ترمیمی قانون۔ اس وقت پورے
ملک میں این آر سی اور سیٹیزن شب قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے ۔ بی جے پی
حکومت ٹس سے مس ہونے کے لیے تیار نہیں ہے ۔این آر سی آسام کا مسئلہ تھا بی
جے پی نے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ملک بھر میں پھیلا دیا۔
کہا
جا سکتا ہے کہ دوسرے ٹرم میں مودی حکومت کی پالیسی بدل گئی یا راست اصل
ایشوز پر آگئی ہے۔ نیشنلزم، ہندو نیشنلزم میں بدل گیا ۔ تمام ہی سرگرمیاں
مسلم مخالف رنگ لیے ہوئے نظر آنے لگی ہیں۔پہلے ٹرم کی بہ نسبت دوسرے ٹرم
میں بی جے پی اپنے نظریاتی ایشوز کو لیکر زیادہ جارحانہ موڈ میں نظر آرہی
ہے ۔
سوال یہ ہے کہ اس
صورتحال میں عوام کیا کریں ۔ حکومت کو قابو میں رکھنے کے جتنے ممکنہ آپشنز
ہو سکتے تھے بی جے پی نے پچھلے ٹرم میں بہت ہی عیاری اور چالاکی سے ختم
کردیے۔ جمہوری نظام کی بقا کے لیے جمہوری اداروں کا آزادنہ طور پر کام
کرنا ضروری ہوتا ہے۔ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اس حوالہ سے
دنیا میں اس کی تعریف کی جاتی رہی ہے کہ یہاں جمہوری اداروں کو آزادی حاصل
ہے جیسے یہاں الیکشن کمیشن حکومت کی دخل اندازی سے محفوظ رہتا ہے۔ فوج
ملکی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتی بلکہ سول اتھارٹی ہی ٖ فوج سے متعلق
فیصلے بھی لیتی ہیں۔اسی طرح عدلیہ،میڈیا وغیرہ دوسرے ادارے بھی آزاد
ہیں۔لیکن پچھلے پانچ سالوں سے یہ کوشش کی جاتی رہی ہےکہ ہندوستان میں
دستور کا نفاذ کرنے والے اداروں کو کمزور کر دیا جائے بلکہ اس پورے
institutional framework کو ہی کمزور کر دیا جائے جو سرکار پر گرفت کر سکتا
تھا۔ قانون کی حکمرانی کے لیے لازمی ہے کہ یہ ادارے آزادانہ طور پر کام
کریں۔
جمہوریت میں
پارلیمنٹ سب سے اہم ادارہ ہوتا ہے لیکن اس کی صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے
۔ کمزور سیاسی اپوزیشن ، حکومت کو اپنے ارادوں سے باز رکھنے میں مکمل طور
سے ناکام ہوچکا ہے۔ حکومت جیسے چاہے قوانین پارلیمنٹ سے پاس کروارہی ہے
لیکن اپوزیشن پارٹیاں بے بس اور مجبور ہیں قوانین کو روکنا تو درکنار وہ
ڈھنگ کا اعتراض تک درج نہیں کروا پا رہی ہیں۔
عوام
کے تحفظ کی ذمہ داری سیکورٹی ایجینسیوں کی ہوتی ہے لیکن حکومت سرکاری
ایجنسیوں کو اپنے مخالفین چاہے سیاسی مخالفین ہوں یا سول سوسائٹی کے افراد
کو ڈرانے اور دھمکانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ہر قسم کی مخالفت کو
دبانے کے لیے انکم ٹیکس، ای،ڈی،سی بی آئی اور دوسری ایجنسیوں کا بے دریغ
استعمال کر رہی ہے۔ سرکاری ایجنسیوں کا کچھ نہ کچھ غلط استعمال ہر سرکار
کرتی رہی ہے مگر اس حکومت نے سابقہ تمام حکومتوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
پولس تو بالکل سرکاری غنڈوں کے طرز پر استعمال کی جارہی ہے۔
اسی
طرح الیکشن کمیشن ایک دوسرا ادارہ ہے جس کے ذمہ ہندوستان میں شفاف اور
غیر جانبدارانہ انتخابات کروانا ہے۔ہندوستان کا الیکشن کمیشن اس کے لیے
دنیا میں مشہور بھی رہا ہے کہ غیر جانبدار رہتا ہے اور سرکار کی طرف اس کا
جھکاؤ نہیں ہوتا ہے۔لیکن پچھلے پانچ چھ سالوں میں الیکشن کمیشن کا رویہ
مستقل طور پر سوالات کے گھیرے میں ہیں۔
ہندوستان
میں فوج کو ہمیشہ سیاست سے علیحدہ رکھا گیا ہے۔ ملکی سیاست میں کیسی ہی
افتاد آ پڑے لیکن فوج ملکی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی تھی لیکن دھیرے
دھیرے یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ فوج کی مداخلت بڑھتی جارہی ہے۔آرمی چیف
بار بار پریس کانفرنسز کر رہے ہیں حالانکہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا
دوسرے انکے بیانات موجودہ حکومت کی آئیڈیالوجی سےکافی قریب محسوس کیے جا
رہے ہیں۔آرمی کی سیاسی معاملات میں مداخلت ایک خطرناک رجحان ہے جو پروان
چڑھایا جا رہا ہے۔
میڈیا
سے امید کی جاتی تھی کہ سرکار کی سچائیاں دنیا کے سامنے لائے گا لیکن پرنٹ
اور الیکٹرانک میڈیا کا بڑا حصہ حکومت نوازی میں لگا ہوا ہے۔ جو خریدے
نہیں گئے ان پر دباؤ بنایا جا رہا ہے۔میڈیا کا بڑا حصہ سرکار کا مائوتھ
آرگن بن گیا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں میڈیا کا narrative کبھی بھی اتنا
یک رخی نہیں رہا ہے۔
اس
پورے institutional eco system میں سپریم کورٹ وہ آخری ادارہ بچا ہے جس سے
کچھ امیدیں وابستہ ہیں لیکن جب کہ پورا سسٹم ہی کمزور ہوگیا تو سپریم کورٹ
اکیلے کب تک پورا بوجھ سہہ پائے گا۔ ۔ پچھلے پانچ سالوں میں ججوں کی
بھرتیاں جس طریقہ پر ہوتی رہی ہیں اس پر شک و شبہ کا اظہار کیا جاتا رہا
ہے،کورٹ کے بعض فیصلے مستقل سوالات کے گھیرے میں آئے ہیں۔حکو مت مستقل
کوشش کر رہی ہے کہ جمہوریت کے اس آخری ادارہ کو بھی قابو میں کر لیا جائے۔
حکومت
نے ایک ایک کرکے جمہوریت کا نفاذ کرنے والے سبھی ادارے پارلمینٹ، سرکاری
ایجنسیاں،میڈیا اور دیگر اداروں کو اپنے قابو میں کرلیا ہے ۔
ہندوستان
کے جمہوری ڈھانچے کے باقی رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ان اداروں کی آزادی
باقی رہے اگر یہ آزادی ختم ہوئی تو ہندوستانی جمہوریت بکھر جائے گی اور
سماج سے آزادی ختم ہوجائے گی۔ اسکے بعد ہندوستان میں امن و امان ،لا اینڈ
آرڈر کی کیا صورت حال ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔
ہندوستان
میں آزادی کو بر قرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اداروں کا تحفظ کیا جائے۔
اگر جمہوری ادارے ختم ہوجاتے ہیں تو اس صورت میں عوام کے پاس سرکاری نا
انصافیوں سے لڑنے کے آپشن کم سے کم ہوجاتے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ
جمہوریت، آزادی اور جمہوری اداروں کو کس طرح بچایا جائے اس پر نئی حکمت
عملی تیار کرنی ہونگی۔


کوئی تبصرے نہیں