تحریک خلافت اور این آر سی مخالف مظاہرے
ہندوستان بھر میں شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف مظاہرے جاری ہیں اور ہر گزرتے دن اس میں شدت آتی جارہی ہے۔ ان مظاہروں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کسی مخصوص مذہب کے ماننے والوں کے نہیں ہیں، بلکہ ہندوستان کے سبھی مذاہب کے لوگ اس میں شامل ہیں۔ چونکہ اس قانون کی زد مسلمانوں پر نسبتاً زیادہ پڑے گی اس لیے فطری طور پر اس میں مسلمانوں کی شمولیت زیادہ ہے لیکن مجموعی طور پر ہندوستان کے سبھی لوگ اس میں شامل ہیں۔ تحریک خلافت اور عدم تعاون کی تحریک کے بعد غالباً یہ دوسرا موقع ہے جب ہندوستان کے سبھی مذاہب کے لوگ کسی ظلم کے خلاف اتنے بڑے پیمانے پر ایک ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس تحریک میں اور تحریک خلافت میں کئی مماثلتیں دوسرے اعتبار سے بھی ہیں۔
تحریک خلافت اور ترک موالات کی تحریک میں بعض ہندو حلقوں نے ابتداء میں دوری بنائے رکھی تھی کیونکہ ان کی نظر میں خلافت ایک خارجی اور اسلامی مسئلہ تھا لیکن بعد میں انھیں اس کی حقیقت اور اہمیت کا احساس ہوگیا تھا۔ اس مسئلے نے مسلمانوں میں برطانوی استعمار کے خلاف بغاوت پیدا کی ہے اور سوال ظلم و جبر کے خلاف حق و انصاف کی مدد کا پیدا ہو گیا تھا۔ موجودہ مظاہروں میں بھی جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ہندوستان کی عوام یہ سمجھنے لگی ہے کہ یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملک کے دستور کو بچانے اور فاشزم کے خلاف حق و انصاف کی لڑائی لڑنے کا ہے ۔
تحریک خلافت میں انگریزوں نے بھرپور کوشش کی تھی کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان بد گمانیاں پیدا کرکے اس تحریک کو دبا دیا جائے۔ اس کے لیےانگریز، مسلم رہنماؤں بالخصوص مولانا محمد علی جوہر کے بیانات میں ہیر پھیر کرکے اور انہیں توڑ مروڑ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ آج کی حکومت بھی، گودی میڈیا اور آئی ٹی سیل کے ذریعے نعروں, تقریروں کے ویڈیوز اور امیجیز کو doctored کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔تحریک خلافت میں مسلمانوں کے بعض طبقات نے حصہ نہیں لیا تھا۔ انگریزوں کے خریدے ہوئے بعض طبقات نے،جن میں کچھ مذہبی لوگ بھی شامل تھے، ترک موالات کی تحریک کی مخالفت کی کہ ایسا کرنے والے فساد فی الارض کے مرتکب ہوئے ہیں اور ایسی تحریک جس کی کامیابی یقینی نہیں ہے شروع نہیں کی جا سکتی ہے۔
مرزا غلام احمد تو خیر تھا ہی انگریزوں کا وفادار۔ مسلمانوں کے بعض اقلیتی فرقے بھی اس تحریک سے الگ تھے۔ محمد علی جناح تو خلافت کے ادارے کو ہی تسلیم نہیں کرتے تھے اس لیے وہ اس مسئلے پر کانگریس سے علیحدہ ہوگئے تھے۔ بعض بڑے علما نے بھی ترک موالات کے خلاف قرآن و سنت کی دلیلوں سے فتویٰ دیا۔ موجودہ تحریک کی مخالفت میں بھی مسلمانوں کے بعض طبقات کی نمائندگی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔تحریک خلافت کی وجہ سے ہندوستانیوں میں اجتماعی طور پر احساس آزادی بیدار ہوگیا تھا اور پورا ملک انگریزوں کے جبر کے خلاف متحد ہوگیا تھا۔
آج بھی فاشزم کے خلاف احساس آزادی اجتماعی طور پر بیدار ہوا ہے اور ملک ظلم کے خلاف متحد ہوگیا ہے ۔ایک اور چیز جو بہت اہم ہے وہ یہ کہ خلافت تحریک کی طرح اس تحریک کے ذریعے بھی ملک و ملت میں پرانی قیادت کی جگہ ایک نئی قیادت ابھر رہی ہے۔
تحریک خلافت نے مسلمانوں میں پامرد رہنماؤں کے ساتھ ساتھ تازہ دم اور نوجوان کارکنان بھی پیدا کیے تھے۔ حالیہ تحریک میں یہی تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔تحریک خلافت سے پہلے مسلمانوں کے ذہن میں انگریزوں کی وفاداری کا جو بیج بویا گیا تھا اس کی جگہ برطانیہ سے نفرت کے جذبات پیدا ہوگئے تھے۔ موجودہ حالات میں بھی مسلمانوں کے اندر جو خوف کی نفسیات پیدا کی گئی تھیں کہ حکومت کے خلاف احتجاج نہ کریں ورنہ وہ سختی سے نمٹے گی۔ اس احساس کی بناء پر مسلمان اپنے حقوق کے لیے جمہوری طریقے سے بھی آواز اٹھانے سے کترانے لگے تھے۔ لیکن حالیہ مظاہروں کے دوران خوف کی نفسیات ختم ہوئی ہے اور مسلمانوں میں ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ پیدا ہوا ہے۔
تحریک خلافت اور حالیہ حکومت مخالف مظاہروں میں ایک اور دلچسپ مماثلت ہے وہ یہ کہاس وقت بھی ملک کی عام ہندو مسلم آبادی کے برخلاف ہندوتوا وادی لوگ تحریک خلافت کے مخالف تھے اور آج بھی صرف ہندتو وادی لوگ ہی اس پوری تحریک سے الگ اقتدار کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یعنی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہندتوا وادی طاقتیں کبھی بھی متحدہ ہندوستان کے ساتھ نہیں رہے بلکہ ان کی دلچسپی اور وفاداری یا تو صاحبانِ اقتدار کے ساتھ رہی یا انتشاری قوتوں کے ساتھ۔ ان کی فکر اور تحریک اقتدار اور انتشار کے سائے تلے ہی پروان چڑھتی ہے۔
تحریک خلافت اور ترک موالات کی تحریک میں بعض ہندو حلقوں نے ابتداء میں دوری بنائے رکھی تھی کیونکہ ان کی نظر میں خلافت ایک خارجی اور اسلامی مسئلہ تھا لیکن بعد میں انھیں اس کی حقیقت اور اہمیت کا احساس ہوگیا تھا۔ اس مسئلے نے مسلمانوں میں برطانوی استعمار کے خلاف بغاوت پیدا کی ہے اور سوال ظلم و جبر کے خلاف حق و انصاف کی مدد کا پیدا ہو گیا تھا۔ موجودہ مظاہروں میں بھی جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ہندوستان کی عوام یہ سمجھنے لگی ہے کہ یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملک کے دستور کو بچانے اور فاشزم کے خلاف حق و انصاف کی لڑائی لڑنے کا ہے ۔
تحریک خلافت میں انگریزوں نے بھرپور کوشش کی تھی کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان بد گمانیاں پیدا کرکے اس تحریک کو دبا دیا جائے۔ اس کے لیےانگریز، مسلم رہنماؤں بالخصوص مولانا محمد علی جوہر کے بیانات میں ہیر پھیر کرکے اور انہیں توڑ مروڑ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ آج کی حکومت بھی، گودی میڈیا اور آئی ٹی سیل کے ذریعے نعروں, تقریروں کے ویڈیوز اور امیجیز کو doctored کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔تحریک خلافت میں مسلمانوں کے بعض طبقات نے حصہ نہیں لیا تھا۔ انگریزوں کے خریدے ہوئے بعض طبقات نے،جن میں کچھ مذہبی لوگ بھی شامل تھے، ترک موالات کی تحریک کی مخالفت کی کہ ایسا کرنے والے فساد فی الارض کے مرتکب ہوئے ہیں اور ایسی تحریک جس کی کامیابی یقینی نہیں ہے شروع نہیں کی جا سکتی ہے۔
مرزا غلام احمد تو خیر تھا ہی انگریزوں کا وفادار۔ مسلمانوں کے بعض اقلیتی فرقے بھی اس تحریک سے الگ تھے۔ محمد علی جناح تو خلافت کے ادارے کو ہی تسلیم نہیں کرتے تھے اس لیے وہ اس مسئلے پر کانگریس سے علیحدہ ہوگئے تھے۔ بعض بڑے علما نے بھی ترک موالات کے خلاف قرآن و سنت کی دلیلوں سے فتویٰ دیا۔ موجودہ تحریک کی مخالفت میں بھی مسلمانوں کے بعض طبقات کی نمائندگی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔تحریک خلافت کی وجہ سے ہندوستانیوں میں اجتماعی طور پر احساس آزادی بیدار ہوگیا تھا اور پورا ملک انگریزوں کے جبر کے خلاف متحد ہوگیا تھا۔
آج بھی فاشزم کے خلاف احساس آزادی اجتماعی طور پر بیدار ہوا ہے اور ملک ظلم کے خلاف متحد ہوگیا ہے ۔ایک اور چیز جو بہت اہم ہے وہ یہ کہ خلافت تحریک کی طرح اس تحریک کے ذریعے بھی ملک و ملت میں پرانی قیادت کی جگہ ایک نئی قیادت ابھر رہی ہے۔
تحریک خلافت نے مسلمانوں میں پامرد رہنماؤں کے ساتھ ساتھ تازہ دم اور نوجوان کارکنان بھی پیدا کیے تھے۔ حالیہ تحریک میں یہی تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔تحریک خلافت سے پہلے مسلمانوں کے ذہن میں انگریزوں کی وفاداری کا جو بیج بویا گیا تھا اس کی جگہ برطانیہ سے نفرت کے جذبات پیدا ہوگئے تھے۔ موجودہ حالات میں بھی مسلمانوں کے اندر جو خوف کی نفسیات پیدا کی گئی تھیں کہ حکومت کے خلاف احتجاج نہ کریں ورنہ وہ سختی سے نمٹے گی۔ اس احساس کی بناء پر مسلمان اپنے حقوق کے لیے جمہوری طریقے سے بھی آواز اٹھانے سے کترانے لگے تھے۔ لیکن حالیہ مظاہروں کے دوران خوف کی نفسیات ختم ہوئی ہے اور مسلمانوں میں ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ پیدا ہوا ہے۔
تحریک خلافت اور حالیہ حکومت مخالف مظاہروں میں ایک اور دلچسپ مماثلت ہے وہ یہ کہاس وقت بھی ملک کی عام ہندو مسلم آبادی کے برخلاف ہندوتوا وادی لوگ تحریک خلافت کے مخالف تھے اور آج بھی صرف ہندتو وادی لوگ ہی اس پوری تحریک سے الگ اقتدار کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یعنی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہندتوا وادی طاقتیں کبھی بھی متحدہ ہندوستان کے ساتھ نہیں رہے بلکہ ان کی دلچسپی اور وفاداری یا تو صاحبانِ اقتدار کے ساتھ رہی یا انتشاری قوتوں کے ساتھ۔ ان کی فکر اور تحریک اقتدار اور انتشار کے سائے تلے ہی پروان چڑھتی ہے۔


کوئی تبصرے نہیں