Header Ads

Header ADS

کیا ہر ہندوستانی ہندو ہے

موہن بھاگوت کے بیان کہ"وہ ہندوستان کی 130کروڑ آبادی کو ہندو سمجھتے ہیں۔ چاہے وہ کسی تہذیب اور مذہب کے ماننے والے ہوں۔" پر ہفت روزہ دعوت میں میرا تبصرہ۔

 

 آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے حیدرآباد میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ "وہ ہندوستان کی 130کروڑ آبادی کو ہندو سمجھتے ہیں۔ چاہے وہ کسی تہذیب اور مذہب کے ماننے والے ہوں۔ کوئی اپنے آپ کو ہندو سمجھے یا نہ سمجھے لیکن سنگھ سب کو ہندو سمجھتا ہے ۔ " حالانکہ آگے انہوں نے ہندو ہونے کے لیے کچھ شرائط بھی بتائیں، جیسے کہ" ہندو ہونے کے لیے بھارت ماتا کی بھکتی کرنا اور ہندو تہذیب کو ماننا ضروری ہے ۔"

 بھاگوت نے یہ بات پہلی مرتبہ نہیں کہی ہے بلکہ بارہا وہ اسے بیان کرتے رہتے ہیں ۔ اس سے پہلے بھی انھوں نے کہا تھا " اگر انگلینڈ میں رہنے انگریز ، جرمنی میں رہنے والے جرمن اور امریکہ میں رہنے والے امریکن ہیں تو ہندوستان میں رہنے والے تمام لوگ ہندو کیوں نہ کہلائیں ۔ ہندوستان میں رہنے والے تمام لوگ ہندو ہیں چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں"

اگر ایک عام ہندوستانی کی نظر سے دیکھا جائے تو ایک سادہ سا مطالبہ ہے جس میں منطق بھی ہے اور اپیل بھی لیکن یہ بیان جتنا سادہ نظر آتا ہے اتنا ہے نہیں بلکہ اسکے پیچھے ایک مخصوص ذہنیت چھپی ہے ۔ اسلیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جب ایک عام ہندوستانی لفظ ہندو استعمال کرتا ہے تو کیا معنی ہوتے ہیں اور بھاگوت اس سے کیا مراد لیتے ہیں۔ 

ہندو لفظ کا قدیم استعمال جغرافیائی اصطلاح کے طور پر ہوتا تھا ۔اس علاقہ کو یہ قدیم نام ایرانیوں نے دیا تھا ۔ یہ لفظ سندھو سے بنا ہے جسکی بناء دریائے سندھ ہے۔یعنی دریائے سندھ کے مغرب میں رہنے والے لوگ یعنی ایرانی اس کے مشرق میں بسنے والے لوگوں کو سندھو کے نام سے پکارتے تھے ۔ وہیں سے رواج پاکر یہ لفظ ہندو بن گیا۔ مطالعہ مذاہب کے ماہر برطانوی ریسرچ اسکالر گیوین فلڈ (Gavin Flood) اپنی کتاب an introduction to Hinduism میں لکھتے ہیں " ہندو لفظ ابتدا میں ایک فارسی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوا تھا ۔ ان لوگوں کے لیے جو دریائے سندھ کے اس جانب رہتے تھے ۔ ہندو لفظ کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ دھیرے دھیرے یہ لفظ ان ہندوستانیوں کے لیے استعمال ہونے لگا جو جین, سکھ ،مسلمان یا عیسائی نہیں تھے ۔ ہندو لفظ کے ساتھ ازم 1830 میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں نے جوڈ دیا۔سامراجی طاقتوں کے ہندوستان آنے سے پہلے ہندوستانی معاشرہ ذات ،قبائل ،جماعت،فرقہ اور جغرافیائی بنیادوں پر بٹا ہوا تھا ۔ تامل ناڈو کے ہندو کو پنجاب کے ہندو سے کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ دونوں کے خدا، رسم و رواج، عبادات،کتابیں اور مقدس شخصیات الگ الگ تھی ۔ کوئی قدر ان میں مشترک نہیں تھی جو انھیں متحدہ قومیت کا احساس دلائے ۔ " 

سوامی وویکانند نے ہندو کو یوں بیان کیا " ہندو وہ ہے جو اپنے آپ کو ہندو سمجھے پنڈت جواہر لال نہرو لکھتے ہیں " ہندو ازم مطلب ہر انسان کے لیے ہر وہ چیز جو وہ چاہے اس طرح ایک تعریف یہ بیان کی گئی کہ " جو گائے کو مقدس مانے وہ ہندو انیسویں صدی میں جب ہندوؤں میں نشاۃالثانیہ کی تحریک چلی جس نے ہندوستانی معاشرے کو یکجا کرنا شروع کیا تو اس وقت ہندومت کے بجائے سناتن دھرم کا نام دیا گیا اس مہم میں برہمو سماج ،آریہ سماج اور سوامی وویکانند وغیرہ نے اہم رول ادا کیا ۔

 یہ اس لفظ کی حقیقت اور مختصر تاریخ ہے ۔ لیکن ہندو مذہب کی تاریخ میں زبردست موڑ اس وقت آیا جب ساورکر نے ہندوتوا کی نئی اصطلاح اور ہندو لفظ کی نئی تعریف پیش کی۔ ساورکر قوم پرست لیڈر تھا اور ہندوؤں کو متحد کرنا چاہتا تھا۔ ہندوؤں میں انتشار کی بنیاد مذہب ہی تھا اس لیے اس نے مذہب کے بجائے وطنیت اور قومیت کی بنیادوں پر ہندوؤں کو متحد کرنا شروع کیا ۔ اسنے ہندو لفظ کی نئی تعریف یوں بیان کی " ہندو وہ ہے جو اس بھارت ورش، سندھ سے سمندر تک کو اپنا آبائی وطن (جنم بھومی ) اور دھرم بھومی (مقدس زمین ) مانتا ہو ۔

 اس تعریف کے مطابق اس ملک کے اصل باشندے ہندو ہیں اور ہندو ہونے کے لیے دو شرائط درکار ہیں : اول یہ کہ یہ ملک آپ کا آبائی وطن ہو اور دوم یہ کہ آپ کا مذہب بھی یہیں پیدا ہوا ہو ۔ اس تعریف پر تنقید کرتے ہوئے بابا صاحب امبیڈکر کہتے ہیں " ہندو لفظ کی تعریف بہت چالاکی اور سوچ سمجھ کر کی گئی ہے ۔ مقدس زمین کی شرط لگاکر اس تعریف سے مسلمانوں،عیسائیوں اور یہودیوں کو خارج کردیا گیا ہے ۔ جبکہ بدھ ،جین اور سکھوں کو شامل کر لیا گیا ہے ۔ یہ ہندو مہا سبھا اور مسٹر ساورکر کا منصوبہ ہے ۔ یہ تعریف مسائل پیدا کرنے والی تعریف ہے "

اسی طرح آر ایس ایس کا بانی اور پہلا سنگھ سر چالک ہیڈگیوار لکھتا ہے " کسی مخصوص علاقے میں رہنے والے لوگ ایک قوم ہو ضروری نہیں ہے۔ بلکہ راشٹر نام ہے ایک قوم ، ایک مذہب،ایک نسل ،ایک ہی روایت اور ایک ہی ذہن و فکر کے لوگوں کا ایک مخصوص خطے میں رہنے کا۔ اگر مختلف اقوام اور مختلف تاریخ و روایات کے حامل افراد ایک ساتھ رہتے ہوں تو وہ ملک نہیں کہلائے گا ۔ ہندوستان ہندوؤں کا ملک ہے اور یہ ہندوؤں کی آبائی سرزمین ہے ۔ اور انکی تاریخ ،مذہب اور روایات ایک ہی ہیں۔ اس لیے یہ ملک صرف ہندوؤں کا ہے۔(Amrutvachan -online book) 

گولوالکر،جو آر ایس ایس کا دوسرا چیف تھا اور جس نے سنگھ کی فکر کو مربوط طریقے سے پیش کیا اسی بات کو واضح کرتے ہوئے اپنی کتاب bunch of thoughts میں لکھتا ہے " آدمی اگر عیسائیت یا اسلام قبول کرتا ہے تو اس وقت وہ ہم وطن تسلیم نہیں کیا جائے گا حالانکہ وہ مشترک تہذیب رکھتا ہوگا۔ لیکن دوسرے ہندوؤں کی طرح ہندوستان اسکا آبائی وطن تو ہوسکتا ہے لیکن یہ اسکے لیے دھرم بھومی نہیں ہوگا۔ اسکی دھرم بھومی عرب یا فلسطین ہوگی اسی طرح اسکا نام اور لباس اسکے بیرونی ہونے کی نمائندگی کریگا۔ اسکی محبت تقسیم ہونگی۔ ہندو مت میں اسکی واپسی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ اپنی مقدس زمین یہاں کے علاؤہ کہیں اور مانتا ہو۔ 

اسی ہندوتوا کی تشریح اٹل بہاری واجپائی نے اس طرح کی تھی " مکہ ہندوستانی مسلمانوں کے مقدس اب بھی رہے گا لیکن انھیں ہندوستان ،مکہ سے زیادہ عزیز ہونا چاہیے۔ آپ مسجد میں جاسکتے ہو، نماز ادا کرسکتے ہو، روزہ رکھ سکتے ہو ۔ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ کو مکہ اور ہندوستان میں سے کسی ایک کو چننا ہو تو آپ کو ہندوستان ہی کو چننا ہوگا ۔ تمام مسلمانوں میں جذبات ہونے چاہیے کہ وہ اس ملک کے لیے جئیں اور اس ملک کے لیے مریں"( the nation 1998) 

اوپر کی تمام تحریروں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ موہن بھاگوت جب ہندو لفظ بولتے ہیں تو اس سے انکی مراد جغرافیائی ہندو یا ہندو مذہب والا ہندو نہیں ہوتی بلکہ ساورکر اور گولوالکر والا ہندو مراد ہوتی ہے۔ وہ ایسے مسلمان چاہتے ہیں جو نماز ،روزے کی چاہے تو پابندی کرے لیکن انکی زبان ،تہذہب، اخلاق اور آداب ہر چیز ہندو تہذیب کے رنگ میں رنگی ہو۔ دھرتی، جن کی ماں اور وطن الہ ہو۔ انکی نسلیں دیومالائی اور افسانوی کرداروں کو اپنا ہیرو تسلیم کریں، مسلمان اپنا تعلق الٰہی ہدایت سے توڑکر ،خود ساختہ ہندو کلچر میں ضم ہوجائے۔ جو وضع قطع میں بھلے مسلمان نظر آجائے لیکن انکی تہذیب وطن پرستی کے بت کے آگے سجدہ ریز ہو۔ 

 

کوئی تبصرے نہیں

merrymoonmary کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.