Header Ads

Header ADS

ہندو خطرے میں ہیں

ٓآج کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت وائرل ہو رہا ہے جس میں ایک خاتون اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتی نظرآتی ہے۔ اسلامی عقائد اور عبادات کو ٹارگٹ کرتی ہے۔ نماز ،روزہ،حج اور دوسری عبادات کا مقصد مسلمانوں کی ہندووں کے خلاف تیاری بتاتی ہے تاکہ وہ  ان کا خاتمہ کر سکیں۔ نماز کو خلافت کا مِنی ٹرائل قرار دیتی ہے۔ ۱۹۲۱کی موپلا(کیرالا) کی بغاوت کا ذکر کرتے ہوئے ہندووں پر ہوئے مظالم کا ذکر کرتی ہے۔اس  گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کا مذہب ذہنی طورپر ہندووں کے خلاف  تیار کر رہا ہے تاکہ وہ ہندووں کا صفایا کر سکیں۔ ہندو خطرے میں ہیں اسے جاگنا چاہیے۔

دوسری طرف جب ہم ملک کے حالات کودیکھتے ہیں تو وہ  بالکل ہی دوسرا منظر ہیش کر رہے ہیں اقلیتوں بالخصوس مسلمانوں میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ پچھلے چار  سال سے    مختلف بہانوں سے مسلمانوں کو ذہنی و جسمانی اذیتیں دی جارہی ہیں۔ mob lynching کے بہانے انکا
قتل جاری ہے ۔ کبھی گھر واپسی کے نام پر انکو ستایا جا رہا ہے ۔
 تو کہیں فسادات میں انکی جان، مال ،عزت و آبرو کو برباد کیا جارہا ہیں۔ طلاق ثلاثہ کے نام  پرپرسنل لاء کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔بیف پر پابندی کے نام پر انھیں ہراسا ں کیا جارہا ہے۔ مذہبی مقامات پر حملے کیے جارہے ہیں،سیا سی طور پر مسلمانوں کو حاشیہ پرڈال دیا گیا۔مسلمانوں کو پورے ملک میں پیٹ پیٹ کر مارا جا رہا ہے ،پورے ملک میں ان کو دہشت گرد،پاکستانی اور anti national جیسے ناموں سے پکارا جا رہا ہے یہاں تک کہ اسکولوں میں معصوم بچوں تک کو اس ذہنی اذیت سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
  مسلمانوں کی جان ،مال، عزت آبرو،مذہب، کلچر، اور نسل ہر چیز پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں،سرکار قاتلوں کی نہ صرف پشت پناہی کر رہی ہے بلکہ انکو انعامات سے نواز کر انکی حوصلہ افزائی بھی کر رہی ہے۔ سرکار کے منتری مستقل  طور پرمسلمانوں کے خلاف ایسےبیانات دے رہیں ہیں جن میں انکی حب الوطنی کے ساتھ دین و ایمان پر بھی اعتراضات کیے جا رہے ہیں،مسلم تعلیمی ادارے حکومت اور ہندوتوادیوں کے نشانے پر ہیں جہاں ہمیشہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ پیدا کرنے کی کو شش کی جارہی ہے۔

The Uniform Civil Code,The Citizenship (Amendment) Bill, 2016,

The Enemy Property (Amendment & Validation) Bill, 2016

جیسے اقلیت مخالف بل پاس کیے جا رہے ہیں۔کانگریس کے زمانے میں جو تھوڑی بہت سہولتیں مسلمانوں کو حاصل تھی  ان کو بھی ایک ایک کرکے ختم کیا جا رہا ہے۔ پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول بنایا جا رہا ہے ٹیلی ویژن چینلس دن رات فرقہ وارانہ موضوعات چلا کر مستقل طور پر پوری کمیونٹی کو بد نام اور ٹارچر کر رہے ہیں۔ mob lynching رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے  ،غریب اور معصوم مسلمانوں کو بھیڑ کے ذریعہ قتل کر وایا جا رہا ہے۔ ہر طرف دہشت ،خوف اور تشویش کا ماحول ہے۔


ملک کے یہ حالات دیکھ کر اور یہ تقریر سن کر انسان کچھ دیر کے لیے حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ ظلم ہو مسلمانوں پر رہا ہے اور  فریاد ہندو کر رہا کہ اس پر ظلم ہو رہا ہے۔ در اصل یہ آر ایس ایس کی بڑی کامیابی ہے کہ اس نے اکثریت کو اقلیت کی ذہنیت عطا کردی۔ سنگھ نے بہت چالاکی سے لوگوں کی ذہن سازی کی ہے۔ اس نے اکثریت کو  یہ محسوس کرایا ہے کہ وہ اقلیت سے محفوظ نہیں ہے۔ پچھلے چار سال میں اس احساس کو بہت تیزی سے بڑھایا گیا۔ ایسا ملک جہاں کی 70 فی صد آبادی ہندووں کی ہے وہاں اس طرح کا (narrative) بیانیہ  قائم کیا  جانا حیرت کی بات ہے۔ اسمبلی سے لیکر پارلیمنٹ تک  اکثر یت کا مکمل کنٹرول ہے۔ تمام سرکاری ایجنسیاں ،سیکیورٹی ایجنسیاں،حکومتی ادارے، مکمل طور سے اکثریت کے پاس ہیں۔بیوروکریسی سے لیکر عدالتوں تک میں اکثریت چھائی ہوئی ہے۔

ملٹری،پولس،پریس، میڈیا،بزنس،یونیوریسٹیز،کالیجیز،تعلیمی ادارے، ہر جگہ اکثریت ہی اکثریت  ہے۔ اس سب کے باوجود ہندو خطرے میں ہیں۔

خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔

 یہی وہی پرانا کھیل ہے جو اس سے پہلے ذرا الگ ڈھنگ سے فلسطین میں کھیلا گیا تھا جس پر تبصرہ کرتے ہوئے نوم چومسکی نے کہا تھا 

’’ تم نے میرا پانی لے لیا، زیتون جلا ڈالے، گھر مسمار کر دیا، روزگار چھین لیا، زمین چرا لی، باپ قید کر دیا، ماں مار ڈالی، میری دھرتی کو بموں سے کھود ڈالا، میرے راستے میں فاقے بچھا دیے، مجھے کہیں کا نہ رکھا اور اب یہ الزام بھی کہ میں نے تم سے پہلے راکٹ کیوں پھینک دیا‘‘۔

کوئی تبصرے نہیں

merrymoonmary کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.