ششی تھرور اور ہندو طالبان
ششی تھرور کے ہندو پاکستان والے ریمارک کے بعد مسلسل تین واقعات ایسے ہوئے جس سے تھرور کی بات کو مزید تقویت ملتی ہے۔
بی
جے پی کے یوا مورچہ کے غنڈےسوامی اگنی ویش کے خلاف احتجاج کے دوران اچانک
ان پر ٹوٹ پڑے اور انھیں بری طرح مارا پیٹا۔ انکے کپڑے پھاڑ دیے۔سوامی اگنی
ویش کو زمین پر گراکر ،جوتوں لاتوں اور لکڑیوں سے پیٹا گیا۔ ۱۰۰ سے ۱۵۰ کے
قریب لوگوں نے سوامی اگنی ویش کو بری طرح مارا پیٹا۔ ۸۰ سال سالہ سوامی
انکے آگے ہاتھ جوڑ کر گڑگڑاتے رہےلیکن کسی نے انکی ایک نہ سنی۔ مارنے والے
جے شری رام کے نعرہ لگا رہے تھے۔ سوامی جی کا جرم یہ بتایا جارہا ہے کہ
انہوں نے بیف پر پابندی کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ بی جے پی منسٹر سی پی
سنگھ نے الٹے سوامی اگنی ویش پر ہی یہ الزام لگادیا کہ انہوں نے شہرت
حاصل کرنے کے لیے خود ہی یہ حملہ کروایاہے۔
دوسرا
واقعہ بنگال کے مدنا پور کا ہے جہاں وزیر اعظم کی ریلی سے واپسی کے وقت
بی جے پی ورکرس نے سیکورٹی کے لیے موجود پولس والوں کی پٹائی کردی۔ ایک
درجن سے زیادہ پولس والوں کو بی جے پی ورکرس نے بری طرح پیٹا جس میں سے کئی
زخمی ہوکر اسپتال میں بھرتی ہے۔ لکڑیوں اور لاٹھیوں سے پولس والوں کی بری
طرح پٹائی کی گئی۔بی جے پی کے ریاستی صدر نے کہا پارٹی اس طرح کے واقعات
کو پسند نہیں کرتی لیکن پولس والوں کو چاہیے تھا کہ پورے معاملہ کو ٹھنڈے
دماغ سے کنٹرول کرتے۔
تیسرا
کیس ششی تھرور کے بیان پر ہوئے ہنگامہ سے جڑا ہے۔ ہندوتوادیوں نے ششی
تھرور کے آفس پر توڑ پھوڑ کی اور تھرور کو پاکستان بھیج دو نعرے لگائے۔
ششی تھرور کو قتل کرنے کی بھی دھمکی دی گئی۔
ششی
تھرور اب بھی اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔اور موقف کو مزید واضح کرتے ہوئے
انہوں نے ٹویٹ کیا ’’ ایک سادہ سوال بی جے پی سے کیا گیا تھا کیا تم نے
ہندو راشٹرا کا سپنا چھوڑ دیاہے؟ اس کا جوب انہوں نے توڑ پھوڑ اور تشدد سے
دیا۔ انکا اصلی چہرہ آج انہوں نے ہمیں دکھا دیا۔ہندووں کی اکثریت کہے گی
یہ سنگھی غنڈے ہمارے نمائندے نہیں ہے"
ششی
تھرور نے اپنے موقف کو اور مضبوطی سے دہراتے ہوئے کہا ’’ وہ مجھ سے کہہ
رہے ہیں تم پاکستان چلے جاٗو۔انہیں یہ فیصلہ کرنے کا حق کس نے دیا ہے۔کیا
میں اس ملک میں صرف اس لیے نہیں رہ سکتا کہ میں انکی طرح کا ہندو نہیں
ہوں۔کیا اب ہندو ازم میں بھی طالبان ابھر رہے ہیں ؟
یہ
تینوں واقعات ملک میں ہو رہی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ سوامی اگنی
ویش ایک امن پسند آدمی ہے اور ایک سیمینار میں حصہ لینے جارہے تھے۔بندھوا
مزدوری کے خلاف عمر بھر جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ ورلڈ کونسل آف آریہ سماج کے
دس سالوں تک صدر بھی رہ چکے ہیں ۔ تاریخی دل چسپی کےلیے یہ بات بھی ذہن
میں رہے کہ یہ وہی آریہ سماج ہے جس کا بانی سوامی دیانند سرسوتی ہے۔ جس
نے اسلام اور عیسائیت کا مقابلہ کرنے کے لیے آریہ سماج کی بیناد ڈالی
تھی۔ہندوستان میں ہندوتوا کی بنیاد ڈالنے میں دیا نند سرسوتی کا اہم ترین
کردار ہے۔ بلکہ بعض لوگ اسے ہی ہندوتوا کی فکر کا اصل خالق قرار دیتے ہیں۔
لجپت رائے،ساورکر اور شردھانند جیسے لوگ اس کے شاگردوں میں رہے ہیں۔ آج
اسی ہندوتوا کے ماننے والوں نے آریہ سماج کے سب سے بڑے آدمی کی یہ
حالت کردی۔
دوسرے واقعہ
یہ بتاتا ہے کہ ہندوتوا کے غنڈے اب کسی قانون کی پیروی نہیں کرتے انکی
نظروں میں نہ کسی سرکاری ایجنسی کی کوئی اہمیت اور نہ کسی عدالت کی۔اسکی
وجہ یہ ہے کہ ان غنڈوں کو حکومت کی طرف سے نہ صرف کھلی چھوٹ بلکہ مکمل
تعاون مل رہا ہے۔ مرکزی وزیر جینت شرما نے بے شرمی کی انتہا کرتے ہوئے
ہجومی تشدد کے ملزموں سے ملاقات کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ اس سے پہلے
محمد اخلاق کے کیس میں مرکزی وزیر مہیش شرما اخلاق کے بے رحمانی قتل کو
ڈھٹائی کے ساتھ دفاع کر چکے ہیں۔حکومت کی طرف سے مل رہی شہ کی بنا پر اب
یہ عناصر کنٹرول سے باہر ہوچکے ہیں۔ششی تھرور بین الاقوامی شہرت کے حامل
شخصیت ہے اس سے پہلے وہ اقوام کے متحدہ کے جنرل سکریٹری کے لیے الیکشن لڑ
چکے ہیں۔ تھرور ممبر آف پارلیمنٹ بھی ہے اور اپوزیشن پارٹی کے بڑے لیڈروں
میں سے ہے لیکن اس سب کے باوجود انہیں بھی اپنی بات رکھنے کا حق نہیں دیا
جا رہا ہے۔ بی جے پی ،ششی تھرور پر مسلسل ہندووں کی توہین کا الزام لگا رہی
ہے۔
ان تینوں واقعات میں
مشترک بات یہ ہے کہ مظلومین کو ہی ذمہ دار ٹھہرا جا رہا ہے۔ ہر کیس میں
بی جے پی اپنا قصور تسلیم کرنے کے بجائے مجرموں کا دفاع کررہی ہے۔یہ تینوں
واقعات ہندوستان کے بدلتے منظر نامہ کی تصویر ہے۔فسطائیت پوری طرح بے نقاب
ہوکر سامنے آچکی ہے۔فسطایئت کا عفریت اب اتنا بے قابو ہوچکا ہے کہ اسکے
سامنے اپنے پرائے ،بڑے چھوٹے حتیٰ کے قانون بھی مجبور ہیں۔شاید ایسے ہی
حالات کے لیے فیض نے لکھا تھا
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد

کوئی تبصرے نہیں