Header Ads

Header ADS

پنڈت نہرو اور ویر ساورکر

پچھلے دنوں گوا سے خبر آئی کہ دسویں کلاس کے نصاب سے پنڈت نہرو کی تصویر نکال کر اس کی جگہ ہندوتوا icon ویر ساورکر کی تصویر  شامل کردی گئی ہے۔ہندوستانی  سیاست میں نہرو اور ساورکردونوں ہی کا بڑا  حصہ ہے۔ دونوں دو مختلف فکر کے نمائندے ہیں۔  ہندوستان کی دو بڑی سیاسی جماعتیں دونوں کے افکار اور نظریات کو مانتی ہیں۔دونوں کی نہ صرف پارٹیاں بلکہ افکار اور  نظریات بھی ایک دوسرے کی مخالف ہیں۔ نہرو سیکولر ازم اور جمہوریت کے علمبردار تھے جبکہ ساورکر ہندوتوا اور فاشزم کا عملبردار رہا۔

پنڈت نہرو  نے آزادی کی لڑائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔  اس کے لیے کئی مرتبہ جیل بھی گئے۔ انکے والد موتی لال نہرو  بھی آزادی کی لڑائی میں  پیش پیش رہے ۔ پنڈت نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی نے بھی جنگ آزادی میں حصہ لیا ۔ ہندوستان آزاد ہونےکے بعد پنڈت جواہر لال نہرو ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم بنے اور  یہ خدمت انہوں نے 17سال تک انجام دی۔ وزیر اعظم بننے کے بعد نہرو کے سامنے دیش کو پھر سے کھڑا کرنا بڑا چیلنج تھا۔ انگریزوں کی آمد سے پہلے  مغلوں کے زمانے میں ہندوستان دنیا کی سب سی بڑی معاشی طاقت تھا اسکی سالانہ GDP,  چھیبیس 26 فیصد کے قریب تھا۔انگریزوں کی تقریبا دو سو سال کی لوٹ کھسوٹ کے بعد ہندوستان معاشی طور پر تباہ ہوچکا تھا ۔ اسکا جی ڈی پی 26سے گھٹ کر 2 فیصد ہو  چکا تھا۔ دوسری طرف فرقہ پرستی اور فازشزم کا عفریت سر اٹھا چکا تھا۔ ملک دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ ان حالات میں پنڈت نہرو  نےدیش کو آگے بڑھایا۔ یہاں سائنسی  تحقیقی ادارے قائم کیے ، قانون کی حکمرانی،تجارت کے لیے ماحول، اقلیتوں کا  تحفظ ،سماجی ،سیاسی اور معاشی  اصلاحات کی، زراعت  کو ترقی دی۔ نہرو نے ہندوستان میں استحکام پیدا کیا اور ملک کو ایک جدید سیکولر نیشن اسٹیٹ بنایا جو ترقی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ان اقدامات کی بناء پر انہیں جدید ہندوستان کا معمار بھی کہا جاتا ہے۔

ساور کر نے اپنے ابتدائی زمانے میں آزادی کی لڑائی میں حصہ لیا تھا۔ برٹش مخالف سرگرمیوں کے الزام میں ساور کر کو  50 سال کی سزا سنائی گئی۔جیل نے ساور کر کے حوصلے پست کر دیے اور اس  نے رحم کی درخواستیں دینی  شروع کردیں۔اس نے 5  مختلف موقعوں پر رحم کی درخواستیں دیں آخر کار انگریزوں نے اسکی درخواست قبول کرکے اسے رہا کر دیا۔ اپنی رہائی کے بعد ساور کر نے دیش کی آزادی میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ بلکہ کانگریس کے تمام اقدامات کی مخالفت کرتا رہا۔ اس نے کانگریس کی تحریک عدم تعاون  کا بائکاٹ کیا اور ہندووں سے کہا کہ کوئی job نہ چھوڑیں بلکہ جو مسلمان job چھوڑ رہے ہیں اس کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔جیل سے  رہا ہونے کے بعد وہ ہندو مہا سبھا کا صدر بنا اور ہندوتوا  کے لیے کام کرتا رہا۔ہندو راشٹرکے قیام کے لیے بھر پور کوشش کیں۔ ساور کر پر مہاتما گاندھی کے قتل کا بھی الزام تھا لیکن بعد میں ناکافی ثبوتوں کی بنا پر اسکو رہا کر دیا گیا۔ اس کا رجحان نازی ازم کی طرف تھا 
 اپنی تقریروں اور تحریروں میں نازی ازم کی تعریف کرتا تھا۔  ساورکر گاندھی اور نہرو کے افکار کا شدید مخالف تھا۔ اسے ہندوتوا کے معمار کے طور ہر جانا جاتا ہے۔

بی جےپی سرکار ساورکر کو ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرہی ہے اس سے پہلے  پارلیمنٹ میں ساورکر کا مجسمہ لگایا جا چکا ہے۔ اسکول،کالجیز،روڈ، عمارتیں وغیرہ اس کے نام پر کی جارہی ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد کیا ہے؟ در اصل سنگھ ہندوستان کی امیج یا اسکے تصور کو بدلنا چاہتا ہے۔ ہندوستان کا تصور کچھ لوگوں سے مل کر بنتا ہے۔ گاندھی،نہرو،آزاد، امبیڈکر  ان لوگوں سے ہندوستان کا اصل تصور بنتا ہے۔ یہ تصور آزادی،مساوات، ملک سب کا ہونے کا احساس ان سب باتوں سے بنتا ہے۔ یہ تصور سنگھ کے ہندوستان کے تصور سے راست ٹکراتا ہے ۔ اس لیے سنگھ اس تصور کو ہی بدل دینا چاہتا ہے ۔ سنگھ ہندوستان کے ان اصل لیڈروں کی جگہ  ساور کر اور دین دیال اپادھیائے جیسے لوگوں کو پروموٹ کر رہا ہے۔تاکہ ہندوستان کا تصور جو ایک سیکولر تصور تھا اس کو بدل کر ایک ہندوتوادی تصور لوگوں کے ذہن میں بٹھایا جا سکے۔

کوئی تبصرے نہیں

merrymoonmary کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.