حکمت کا مقام
حکمت کا دین میں غیر معمولی مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قران مجید میں جگہ جگہ کتاب کے ساتھ حکمت کا تذکرہ کیا۔
حضرت ابراہیم کی نسل کے تعلق سے فرمایا:
'ہم نے ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی'(سورہ نساء)
رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا:
'جو تم کو ہماری آیتیں سناتا ہے، اور تمہارا تزکیہ کرتا ہے اور تم کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔'(سورہ بقرہ)
قرآن کے دیگر مقامات پر بھی حکمت کا تذکرہ آیا ہے جیسے
'میں تم لوگوں کے پاس حکمت کے کر آیا ہوں'(سورہ الزخرف)
حضرت داؤد کے متعلق ارشاد فرمایا:
اس کو حکمت عطا کی تھی(سورہ ص)
حکمت کی اگر اتنی فضیلت آئی ہے اور اتنی قیمتی چیز ہے تو یہ جاننا بہت ضروری ہیکہ حکمت کہتے کسے ہیں؟
مولانا مودودیؒ حکمت کو پانچ چیزوں کے مجموعہ کا نام بتاتے ہیں:
"دین کی سمجھ، علم کی روشنی،بصیرت کا نور، تدبر کی صلاحیت اور تفقہ کی قابلیت۔"
حکمت
سے مراد دین کا صحیح شعور اور وہ فہم ہوگا جو دین کے احکامات کےاسرار ،
انکی علت اور مقاصد سے واقفیت پر مبنی ہو اور اس فہم کے استعمال سے مختلف
حالات میں دین کا صحیح انطباق کرسکے۔
مولانا
مودودیؒ آگے لکھتے ہیں: قوموں کی گمراہی کا بنیادی سبب حکمت کے استعمال
کا مفقود ہونا ہے۔ کوئی قوم جب حکمت کا استعمال کرنا بند کر دیتی ہے تو
دھیرے دھیرے وہ گمراہی کی طرف بڑھنے لگتی ہے۔
"
جب کبھی کوئی نبی آیا اس نے پیروؤں کو کتاب کے ساتھ حکمت بھی دی اور اسی
کی مدد سے لوگ سیدھے راستے پر قائم رہے۔ اس کے بعد ایک دور، جہالت اور
اندھی تقلید کا آیا جس میں حکمت غائب ہوگئی اور کتاب باقی رہ گئی۔کچھ عرصہ
تک لوگ محض کتاب کو لیے اس ڈگر پر چلتے رہے جس پر انکے اسلاف انھیں چلا گئے
تھے مگر اب ان میں گمراہیوں کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگئی کیونکہ وہ
چیز ان میں باقی نہیں رہی تھی جس سے وہ کتاب کو سمجھتے اور ہدایت کو ضلالت
سے ممتاز کرتے۔ رفتہ رفتہ ان کے قدم راہ راست سے ہٹنے شروع ہوئے۔ آخر کار
حکمت کے ساتھ کتاب بھی رخصت ہوگئی۔اور خدا کے بھیجے ہوئے دین کو مسخ کرکے
اوہام اور خرافات اور فکر و عمل کی گمراہیوں کا مجموعہ بنا دیا " (تفہیمات
حصہ اول)
یہ بات جہاں
انبیائے کرامؑ کی قوموں کے لیے صحیح ہے وہیں دینی جماعتوں اور اسلامی
تحریکات کے لیے بھی درست معلوم ہوتی ہیں۔ جماعتیں اور تحریکیں دین کے احیاء
اور اسکی تجدید کے لیے اٹھتی ہیں لیکن کچھ عرصہ بعد جب ان میں حکمت کا
استعمال بند ہو جاتا ہے تب وہ اپنے اسلاف کے قدیم طریقوں سے چمٹ کے رہ
جاتی ہے۔ وہ فرسودہ طریقے جو ماضی میں تو شاید کار آمد تھے لیکن اب انکی
حیثیت ایک بوجھ سے زیادہ نہیں ہوتی لیکن لوگ انہیں سینے سے لگائے گھومتے
ہیں۔اس صورتحال میں ہرنیا طریقہ انحراف نظر آتا ہے۔ یہ منزل جماعتوں اور
تحریکات کے لیے بڑی کٹھن ثابت ہوتی ہیں۔
بقول اقبالؔ
آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
اسی
طرح حکمت ہمیں یہ فہم بھی عطا کرتی ہے کہ جو نئی راہیں تلاش کی جارہی ہے
ان پر بھی غور و فکر کریں کہ منزل سے قریب لے جا رہی ہیں یا دور؟ کہیں
قافلے کی پشت منزل کی طرف تو نہیں ہوگئی ہے؟ کہیں جدت طرازی اور نئے نئے
طریقوں کے چکر میں بنیادی مقصد تو دھندلا نہیں گیا؟ کہیں نئے افکار اور
جدت فکر کے نام پر ہم گمراہی تو نہیں خرید لائے؟
اگر
جماعتوں اور تحریکات میں حکمت کا استعمال ختم ہو جائے تو وہ بھی قوموں کی
طرح گمراہی کا شکار ہوجاتی ہے یا کم از کم اپنے مقصد سے دور ہوجاتی ہیں اور
زمانے کو منور کرنے کے بجائے خود اجالے کی محتاج ہوجاتی ہیں۔
اور انکی کیفیت ایسی ہوجاتی ہے
ہائے رے نیرنگیاں، ہوں تو چراغ اب بھی مگر
روشنی رکھتا تھا پہلے اب دھواں رکھتا ہوں میں

کوئی تبصرے نہیں