Header Ads

Header ADS

سائنس کا افسانوی کرن

انڈین سائنس کانگریس اسوسی ایشن (ICSA) ہندوستان کا سو سال سے زیادہ پرانا موقر ادارہ ہے۔ اس ادارہ سے ہندوستان بھر کے تیس ہزار سے زائد سائنس دان جڑے ہوئے ہیں۔  اس کا مقصد ہندوستان میں سائنسی فضا ہموار کرناّ، سائنس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنا ، اور سانئس میں نئے اکتشافات پر کانفرنس کرنا اور پیپرس شائع کرنا ہے۔ 

پنجاب میں جاری اسکی 106 ویں کانفرنس اس وقت تنازع کا شکار ہوگئی جب دو مہمانان نے جن میں سے ایک کے نام آگے ڈاکٹر اور دوسرے کے نام کے آگے سینیر سائنٹسٹ لکھا ہوا تھا سائنسی تحقیقات کے نام پر افسانے بیان کرنا شروع کر دیے ۔

ڈاکٹر کرشنن منن نے اپنے پیپر پریزینٹیشن میں کہا کہ " آئن اسٹائن اور نیوٹن نے دنیا کو گمراہ کیا ہے۔ انکی تھیوریز حقائق پر مبنی نہیں ہیں اس لیے اب وہ خود بہت جلد کشش ثقل کی نئی تھیوری پیش کرنے والے ہیں اور اس تھیوری میں بیان کردہ wave  کا نام وزیر اعظم نریندر مودی کے نام پر رکھیں گے۔ اور ڈاکٹر ہرش وردھن اے پی جے عبد الکلام سے بھی بڑے سائنسدان ہیں لیکن دنیا نے انہیں انکا جائز مقام نہیں دیا لیکن بہت جلد دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر لے گی" 

دوسرے قابل سائنس دان  ناگیشور راؤ تھے جنہوں نے یہ انکشاف کیا ٹیسٹ ٹیوب بے بی  کا جنم ویدک دور میں ہوچکا تھا اور کوروز ٹیسٹ ٹیوب بےبیز تھے۔ "

ابتدا میں اس طرح کے بیانات بی جے پی کے کم پڑھے لکھے اور جاہل قسم کے لیڈرس دیتے رہتے  تھے ۔جنہوں نے شاکھاوں  سے  تعلیم حاصل کی تھی ۔ اسکے بعد سرکاری منسٹرس نے بھی ایسے ہی انکشافات کرنے شروع کر دیے۔ یہاں تک کہ ہوم منسٹر راج ناتھ سنگھ، ہیلتھ منسٹر ڈاکٹر ہرش وردھن اور وزیر اعظم نریندر مودی بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے اور ایسے ہی بیانات داغتے رہے ہیں۔  وزیر اعظم نریندر مودی، راج ناتھ سنگھ اور بی جے پی کے دوسرے  لیڈرس سے تو خیر کوئی گلہ نہیں کہ انہوں نے جو کچھ علم حاصل کیا شاکھاوں سے ہی کیا اور ان بے چاروں کو علم و تحقیق کی دنیا کی ہوا تک نہیں لگی انہیں کیا پتہ کہ سائنس کی دنیا میں کیسے گفتگو کی جاتی ہے ۔انکی زندگیاں شاکھاوں میں نیم خواندہ قسم کے بھکتوں کے درمیان ہی گزری جہاں پرچارک کی ہر بات خود دلیل ہوتی ہے۔
 لیکن ڈاکٹر ہرش وردھن اور یہ دونوں حضرات جن کے نام کے اگے "ریسرچ اسکالر" بھی لکھا ہوا ہے اور ان لوگوں نےتو شاکھا کے ساتھ ساتھ جدید تعلیمی ادارے اور ریسرچ و تحقیق کی دنیا بھی دیکھی ہے جہاں بات کو تسلیم کرنے کا پیمانہ دلیل اور تحقیق ہوتی ہے نہ کہ کسی کی آستھا، وشواس یا اپنی تاریخ سے محبت۔  اس لیے ان حضرات  سے کم از کم یہ امید نہیں تھی کہ  اس طرح من گھڑت افسانے بیان کرینگے لیکن شاید شاکھا کی تعلیم کا اثر ہی یہی ہوتا ہے کہ آدمی عقل کا استعمال ہی معیوب سمجھ لیتا ہے۔

ساورکر ہندوراشٹر کے لیے  ہندووں کو متحد کرنا چاہتا تھا   لیکن ہندوؤں کو متحد کرنے کے لیے اسکے پاس کوئی کامن ایجنڈا نہیں تھا، ہندو مذہب کی حالت اتنی خستہ ہے کہ اس کی بنیاد پر متحد ہونا تقریبا ناممکن ہے، بلکہ تمام انتشار کی جڑیں اسی کے اندر پیوست ہیں۔
 اس لیے ہندوتوا کی بنیاد ہندو  قومیت پر رکھی گئی، قومیت کے جذبے کو ابھارنے کےلیے ماضی کی شاندار تاریخ کی ضروری ہوتی ہے۔ لیکن سنگھ کا مسئلہ یہ ہے اسکے پاس ایسی کوئی عظیم تاریخ ہے ہی نہیں جس پر کہ وہ اپنے کیڈر کو فخر کرنا سکھا سکے۔

 اکھل بھارتیہ اتہاس شکشن یوجنا، سنگھ کے ذریعے قائم کردہ ایک تنظیم ہے جو تاریخ کا مطالعہ کرتی ہے اسکے جنرل سکریٹری بال مکند پانڈے کہتے ہیں:
 " ہمارے بچے وہ تاریخ پڑھ رہے ہیں جو انہیں اپنے ماضی پہ شرمسار کرتی ہے۔ ہم ایسی تاریخ چاہتے ہیں جس پر وہ فخر محسوس کرسکیں"۔
  اس لیے سنگھ خود ساختہ تاریخ سازی پر اتر گیا۔ اور اس نے من گھڑت افسانوں کو تاریخ کی حیثیت سے باور کرانا شروع کردیا ۔ گولوالکر  bunch of thought میں اسی درد کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے:
 "نوجوانوں میں صحیح جذبہ اور طریقہ کار کا شعور پیدا کرنا ہوگا  اسکے لیے ہمیں لا محدود پیمانے پر قدیم اور جدید لٹریچر شائع کرنا ہوگا جو ہمارے قومی ہیروز اور انکے واقعات کو بیان کرے تاکہ ہمارے جدید ذہن کو رشی اور یوگی کے ورثہ پر فخر محسوس ہو ۔ ہمیں ہندو کی طرح ہی رہنا ہے اور ہمیں ہندو ہی کی طرح جینا چاہیے اور دنیا نے ہمیں ہندو ہی سمجھنا چاہیے" 

مرلی منوہر جوشی نے تعلیم کے بھگوا کرن کو واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مطلب "مقدس ہندوستانی روایات کی واپسی ہے۔"

اس لیے سنگھ ایک طویل عرصہ سے تاریخ  کے بھگوان کرن کی کوششیں کر رہا ہے ۔مودی حکومت کے دور میں یہ کوششیں اپنے عروج پر ہیں مودی حکومت قائم ہوتے ہی سنگھ نے ایک کمیشن بھارتیہ شکشا نیتی آیوگ کے نام سے قائم کیا ۔ یہ اپنی طرز کا پہلا غیر سرکاری کمیشن تھا جسکے ذمہ یہ کام تھا کہ موجودہ نظام تعلیم کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات حکومت کو دے کہ کس طرح موجودہ نظام تعلیم کا بھارتی کرن ہو سکتا ہے ۔اس کی ذمہ داری بدنام زمانہ ریٹائرڈ ٹیچر دینا ناتھ بترا کو دی گئی تھی ۔بترا ،سنگھ کی تعلیم میں کام کرنے تنظیم ودیا بھارتی کا جنرل سکریٹری تھا۔ جو نصاب تعلیم سنگھ ہندوستان میں رائج کرنا چاہتا ہے اسکا بڑا حصہ بترا نے ہی تیار کیا ہے ۔ بترا خالص سنگھی فکر کا آدمی ہے اور تاریخ کے نام پر من گھڑت قصے کہانیاں سنانے میں ماہر ہے ۔
بترا کی تاریخی معلومات کے مطابق ٹیلی فون ،گراہم بیل اور ہوائی جہاز وہائٹ برادران نے نہیں بلکہ ہندوستانیوں نے ان سے کئی ہزار سال پہلے ہی بنا لیے تھے ۔ اسی طرح ٹیسٹ ٹیوب بے بی،بھاپ کا انجن ،ٹیلی ویژن،ہوائی جہاز یہ سب چیزیں آج سے سات ہزار سال پہلے ہی ہندوستان میں بن چکی تھیں ۔ بترا کا یہ بھی یقین ہے کہ الجبرا بھی عربوں نے نہیں بلکہ ہندوستانیوں نے ہی ایجاد کیا تھا ،عربوں نے ہندوستانیوں سے سیکھ کر اپنے نام سے پھیلا دیا۔ بترا کی گمراہ کن شخصیت کو سمجھنے کے لیے ہندوستان ٹائمز میں چھپا کرن ناگر کر کا یہ بیان کافی ہے "آزادی کے بعد سے ہندوستان میں کئی تباہیاں آئی جیسے بٹوارا،چینی در اندازی،دہشت گردانہ حملے ،لیکن یہ تمام آفتیں اس سے کم ہے جو اب آنے والی ہیں ایک خطرناک اندرونی دشمن جو کہ وطن پرست ہونے کا دعویدار ہے ۔ جی ہاں میرا اشارہ دینا ناتھ بترا کی طرف ہی ہے۔ "

سنگھ مستقل طور نئی تاریخ  لکھنے کی کوشش کررہا ہے۔ بہت پہلے ہی  تاریخ کےایکسپرٹ عرفان حبیب نے بترا کی ان کوششوں کو تعلیم کا بھگوان کرن کے بجائے تعلیم کا افسانوی کرن قرار دیا ہے۔ لیکن بترا کی طویل عرصہ کی کوششیں رنگ لائی اب سائنس کانفرنس میں بھی اس طرح کے افسانے بیان ہورہے ہیں۔
شاید اسی لیے حفیظ نے کہا تھا ؂

مورخ تیری رنگ آمیزیاں تو خوب ہے لیکن 
کہیں تاریخ ہو جائے نہ افسانوں سے وابستہ

کوئی تبصرے نہیں

merrymoonmary کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.