Header Ads

Header ADS

کھلے میں نماز پر پابندی

اتر پردیش پولس نے نوئیڈا(Noida) سیکٹر 58میں واقع دفاتر اور انسٹی ٹیوشنز(Institutions) کے نام ایک عجیب و غریب  نوٹس جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو کھلے علاقوں، مثلاً پارکوں وغیرہ میں نماز پڑھنے سے روکیں۔ چونکہ اس طرح کھلے میں ہفتہ میں ایک مرتبہ جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے اور وہی ملازم پارک یا کھلے میں نماز پڑھتے ہیں جن کے قریب کوئی مسجد نہیں ہوتی ہے۔ اس فیصلہ کے بعد مسلم ملازموں اور کمپنیز(Companies) دونوں کی مشکلات بڑھ گئیں۔ مسلم ملازموں کو یا تو جمعہ کی نماز چھوڑنی ہوگی یا اسکے لیے تکلیف اٹھا کر دور جانا ہوگا اور آفس ٹائمنگس میں زیادہ دیر کے لیے آفس سے باہر رہنا ہوگا۔ دوسری صورت میں اگر مسلمان کھلے علاقوں میں نماز پڑھتے ہوئےپائے گئے تو اس کے لیے دفاتر اور کمپنیز ذمہ دار ہونگے۔اب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کمپنی اپنے مسلم ملازموں کو  کمپنی کے باہر نماز پڑھنے سے کیسے روک سکتی ہے۔

پولس کا کہنا  ہے کہ اس طرح نماز پڑھنے سے فرقہ وارانہ ماحول خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔حالانکہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ نماز ایک بہت ہی پر سکون عبادت ہے۔ جس میس نہ کسی لاؤڈاسپیکر کا  استعمال ہوتا ہے اور نہ کوئی شورو غل ہوتا ہے۔ اور یہ عبادت بھی صرف 15 سے 20 منٹ میں ختم ہوجاتی ہے۔اور لوگ اپنے اپنے آفس کو لوٹ جاتے ہیں۔ اس سے کسی کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے  اور یہ کیسے  فرقہ وارانہ ہوگئی۔ دوسرا سوال یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ مسلمان ایک عرصہ سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہیں  تو  آج اچانک کیوں فرقہ ورانہ ماحول خراب ہونے لگا۔ اور کیا واقعی ماحول خراب کرنے کی کوئی کوشش مسلمانوں کی طرف سے ہوئی یا صرف اندیشہ کی بنیاد پر ہی پولس نے کاروائی کر لی ہے۔

اس سے پہلے اپریل میں گڑ گاوٗں میں بھی  اس طرح کی کوششیں کی گئیں،  کھلے میں نماز پڑھ رہے مسلمانوں پر ہندوتوا وادی تنظیموں نے  حملہ کرکے  نماز  رکوادی تھی۔اسکے بعد گڑ گاوٗں پولس نے بنا اجازت کھلی جگہوں پر نماز پر پابندی لگا دی تھی اب تقریبا وہی معاملہ نوئیڈا میں بھی کیا گیا۔ ہریانہ کے ایک منسٹر نے تو اس طرح نماز پڑھنے کو لینڈ جہاد ہی قرار دے دیا۔  جس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان نماز کے بہانے زیادہ سے زیادہ زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

سنگھ پریوار مسلم دشمنی کے لیے جن نکات  کے تحت ایک عرصہ سے ذہن سازی کرتا رہا ہے اس میں ایک بڑا نکتہ مسلمانوں کا کھلے میں نماز جمعہ ادا کرنا بھی ہے۔ ہندواتووادی فکر کے بالکل ابتدائی زمانے میں بھی مالویہ اور مونجے کی اسی قسم کی کوششیں نظر آتی ہیں کہ اپنے علاقوں میں سڑک پر نماز جمعہ رکوانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اور اسکے خلاف ماحول بھی بناتے رہے اور لوگوں کی ذہن سازی بھی کرتے رہے تھے۔

 حیرت کی بات یہ ہے کہ سنگھ پچھلے 90سالوں سے اپنی پریڈ اور شاکھاوں کے لیے اس طرح کے کھلے پارکس اور میدان استعمال کر رہا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ان شاکھاوں میں ہندوتوا کے نام پر دوسرے مذاھب کے لیے نفرت پیدا کی جاتی ہے ۔ لیکن اس سے کبھی فرقہ پرستی کا ماحول پیدا نہیں ہوا اورنماز جیسی پر سکون، روحانیت سے بھرپور، ڈسپلن،  اور بھائی چارہ پیدا کرنی والی عبادت پر یہ کہہ کر پابندی لگائی جارہی ہے کہ اس سے فرقہ پرستی بڑھ سکتی ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو آخر مسلمانوں کے جمع ہونے اور عبادت کرنے سے اتنا خوف کیوں ۔ منشی پریم چند جیسے مذہب بیزار آدمی نے نماز کی روحانی کیفیت اور سماج سے نابرابری  ختم کرنے کے پہلو کو واضح کرتے ہوئے لکھا ہے:

"وہ عید گاہ نظر آئی۔ جماعت شروع ہو گئی ہے۔ املی کے گھنے درختوں کا سایہ ہے نیچے کھلا ہوا پختہ فرش ہے۔ جس پر جازم بچھا ہوا ہے اور نمازیوں کی قطاریں ایک کے پیچھے دوسرے خدا جانے کہاں تک چلی گئی ہیں۔ پختہ فرش کے نیچے جازم بھی نہیں۔ کئی قطاریں کھڑی ہیں جو آتے جاتے ہیں پیچھے کھڑے ہوتے جاتے ہیں۔ آگے اب جگہ نہیں رہی۔ یہاں کوئی رُتبہ اور عہدہ نہیں دیکھتا۔ اسلام کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ دہقانوں نے بھی وضو کیا اور جماعت میں شامل ہو گئے۔ کتنی باقاعدہ منظم جماعت ہے، لاکھوں آدمی ایک ساتھ جھکتے ہیں، ایک ساتھ دو زانو بیٹھ جاتے ہیں اور یہ عمل بار بار ہوتا ہے ایسا معلوم ہو رہا ہے گویا بجلی کی لاکھوں بتیاں ایک ساتھ روشن ہو جائیں اور ایک ساتھ بجھ جائیں۔ کتنا پُر احترام رعب انگیز نظارہ ہے۔ جس کی ہم آہنگی اور وسعت اور تعداد دلوں پر ایک وجدانی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ گویا اخوت کا رشتہ ان تمام روحوں کو منسلک کئے ہوئے ہے۔"

پریم چند کو نماز دیکھ کر کیا احساس ہوتا تھا اور جدید ہندوستان کے سیاستدانوں اور پولس کو کیا احساس  پیدا ہوتا  ہے۔ یہ ہے وہ فرق جو جدید ہندوستان میں پیدا ہوگیا؂

زمینیں تنگ ہیں اب تو ہمارے ہی لیے اسکی 
کبھی ہم بھی تھے امجد اس چمن کے باغبانوں میں

کوئی تبصرے نہیں

merrymoonmary کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.