تحریک اسلامی اور افرادی قوت
اسلام کے غلبہ کے لازمی ہے کہ اسلامی تحریک ایک سیلاب کی
طرح اٹھے اور پورے سماج پر غالب آجائے۔ اس غلبہ کے لیے ضروری ہے کہ تحریک
اسلامی کی افرادی قوت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے۔ ظاہر ہے اسلامی نظام کا
قیام کاغذی نقشوں اور زبانی دعوں پر قائم نہیں ہوگا بلکہ یہ افراد پر نافذ
ہوگا ۔اگر افراد ہی نہ ہوں تو ساری گفتگو ہی بے معنی ہے۔ ہندوستان میں
تحریک اسلامی کی افرادی قوت کا مسئلہ ہمیشہ سے زیر بحث رہا ہے۔ ماضی میں
ملک کے سخت حالات کے سبب اس پہلو پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا سکی۔
تقسیم
کے بعد ہندوستان میں افراتفری اور فسادات کے حالات، جما عت کی قیادت کے
بڑے حصہ کی پاکستان منتقلی، امت کی تہذیبی بقا، جان و مال کا تحفظ،
مسلمانوں کے شدید آپسی اختلافات، جماعت کا خود اپنی فکری بنیادوں اور
نظریاتی موضوعات پر لٹریچر کی تیاری وغیرہ۔ غالباً ان تمام عوامل کے چلتے
تحریک اسلامی افرادی قوت کے بڑھانے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے پائی۔
ایک
پہلو یہ بھی رہا کہ علماء دین کی شدید مخالفت کے سبب بھی عوام تحریک کے
قریب نہیں آپائی۔ جماعت کے لیے گوکہ تعصب اب بھی ہے لیکن پہلے کی بہ نسبت
کم ہوا ہے اس زمانے میں وہ اپنے عروج پر تھا۔ بعض واقعات یہاں تک سننے میں
آتے ہے کہ جس مسجد میں جماعت اسلامی کا کوئی فرد گیا اس مسجد کو لوگوں نے
دھوکر نکالا۔ لیکن اب حالات میں ویسی سختی نہیں رہی۔ جو امت جماعت اسلامی
کے بزرگوں کو ملی تھی اسکی بہ نسبت اب امت جماعت اسلامی کو اپنانے کے لئے
تیار ہے۔ بلکہ اسکی طرف رہ نمائی کی لیے بھی دیکھتی ہے۔
افرادی
قوت نہ بڑھ پانے کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ ابتداء میں افراد چھانٹ چھانٹ
کر لیے جاتے تھے۔ لیکن بعد میں بھی وہی روایت قائم رہی حالانکہ تحریک کے
ابتدائی دور میں یہ ناگزیر ہوتا ہے لیکن تحریک جب عوامی صورت اختیار کرتی
اس وقت اتنے سخت تقاضے رکھنا عملاً ممکن نہیں ہوتا۔ چھانٹ چھانٹ کر صرف
معیاری لوگ لینے سے ایک موثر گروہ تو تیار ہوگا لیکن عملی تجربہ سے یہ بات
ثابت ہوگئی کی ضروری نہیں کہ معاشرہ اسکی پشت پر کھڑا ہوگا۔
ایک
عام غلط فہمی اس ضمن میں یہ بھی ہی کہ تعداد مطلوب نہیں معیار مطلوب ہے۔
quantity نہیں quality چاہیے۔ لیکن یہ بات درست نہیں ہے تعداد بھی درکار
ہے۔ افراد ہی سے اثرات بڑھیں گے وسائل بڑھیں گے۔ معاشرہ خواہ کیسا ہی ہو
لیکن اصلاح اور تبدیلی اسی معاشرہ میں کرنی ہوتی ہے اور ان ہی افراد میں
کرنی ہوتی ہے اور اسی معاشرہ میں تبدیلی سے انقلاب کا راستہ پیدا ہوتا۔ ہے۔
تحریک
اسلامی کے نظم میں افرادی قوت کے بڑھانے کی اصل ذمہ داری مقامی جماعتوں کے
امراء اور ارکان جماعت کی ہوتی ہے۔ مرکز یا حلقہ اس میں کوئی خاص رول ادا
نہیں کر سکتے کیونکہ افراد سے راست رابطہ مقامی جماعتوں کا ہوتا ہے۔ وہ
ارکان جماعت ہی ہوتے ہیں جن کا معا شرہ میں افراد سے تعلق ہوتا ہے۔ مرکز
اور حلقہ کا کام صرف رہ نمائی کرنا ہوتا ہےاصل کام تو مقامی جماعتوں کو ہی
کرنا ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی بھی مقامی جماعت کی مضبوطی کا اندازہ
اسکی افرادی قوت سے لگایا جا سکتا ہے اور اسکا پیمانہ اسکے ہفتہ واری
اجتماع میں افراد کی تعداد ہوگا۔
کوئی
فرد اگر یہ تصور کرتا ہے کہ کہ افرادی قوت کے بغیر تحریک اسلامی اپنے
مقصد میں کامیابی حاصل کر لے گی تو اس تصور کےلیے حماقت سے کم کوئی لفظ
استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
افرادی
قوت تحریک اسلامی کے حق ہونے یا آخرت میں کامیابی کی دلیل نہیں ہے لیکن
دنیا میں اسکے مقصد کی کامیابی اسی سے جڑی ہے۔ خود قرآن مجید نے رسول ﷺ کی
فتح کا نقشہ کچھ اسی طرح کھینچا ہے ’’جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب
ہوجائے اور تم دیکھ لو کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے
ہیں''
تحریک اسلامی اپنے طویل سفر کے بعد جس مرحلہ
میں داخل ہو چکی ہے ۔اور جس قسم کے اقدامات وہ کرنا چای رہی وہ بنا افرادی
قوت کے ممکن نہیں۔ بنا افرادی قوت کے بڑے اقدامات ممکن نہیں اور بناء
اقدامات کے تحریک کی تصویر کچھ ایسی بنے گی کہ یہ کچھ elite کلاس مسلمانوں
کا کلب ہے جہاں کچھ لوگ بیٹھ کر ذہنی عیاشی کیلیے بڑے بڑے موضوعات اور
مسائل ہر گفتگو کرتے اور چل دیتے ہیں۔
ملک اور ملت کی
موجودہ صورتحال تحریک اسلامی کے فروغ کے لیے سازگار ہے بس ضروت اس بات کی
ہے کہ ہمارے افراد روٹین اکٹیویٹیز سےنکلیں اور اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زماں ومکاں اور بھی ہے

کوئی تبصرے نہیں