Header Ads

Header ADS

تصورخلافت اور جاوید احمد غامدی کا موقف

غامدی صاحب کے دینی فلسفہ کی زد میں جہاں بہت سے اسلامی افکار آئے ہیں وہیں بعض قرآنی اصطلاحات بھی نہیں بچ سکی ہیں۔ خلافت بھی انہیں اصطلاحات میں سے ایک اصطلاح ہے۔ اس موضوع پر اپنے  مضمون "خلافت" میں لکھتے ہیں "اس میں شبہ نہیں کہ خلافت کا لفظ اب کئی صدیوں سے دینی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ لیکن یہ ہرگز کوئی دینی اصطلاح نہیں ہیں۔ دینی اصطلاح رازی،غزالی،ماوردی،ابن حزم اور ابن خلدون کے بنانے سے نہیں بنتی اور نہ وہ لفظ جسے مسلمان کسی مفہوم میں استعمال کرنا شروع کردیں دینی اصطلاح بن جاتا ہے۔ یہ اللہ اور اسکے رسول کے بنانے سے بنتی ہے اور اسی وقت قابل تسلیم ہوتی ہے جب ان کا اصطلاحی مفہوم قرآن وحدیث کے نصوص یا دوسرے الہامی صحائف سے ثابت کر دیا جائے ۔" 
غامدی صاحب کی یہ بات تو درست ہے کہ دینی اصطلاح رازی ،غزالی ،ماوردی، ابن حزم اور ابن خلدون کے بنانے سے نہیں بنتی لیکن کسی لفظ کی اصطلاحی حیثیت غامدی صاحب کے انکار سے بھی ختم نہیں ہوجاتی ہے۔ قرآن مجید میں کسی لفظ کی اصطلاحی حیثیت قرآنی علوم کے ماہرین اسکے استعمال کی بنیاد پر طے کرینگے۔ چونکہ لفظ خلافت ہمیشہ سے ایک قرآنی اصطلاح کے طور پر ہی استعمال ہوا ہے اور اب غامدی صاحب اسکا انکار کر رہے ہیں تو اس کے لیے انہیں مضبوط دلائل دینے چاہیے لیکن انکی گفتگو وزنی دلائل سے خالی ہے۔ 
مولانا ابوالکلام آزاد خلافت کے اصطلاح ہونے کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 
" خلافت عربی کا ایک مصدر ہے اسکا مادہ خلف ہے۔ اور اسی سے خلیفہ ہے۔ خلافت کے معنی نیابت اور قائم مقام کے ہیں۔ یہ لفظ بھی قرآن حکیم کے اختیار لغویہ میں سے ہے۔ یعنی عربی زبان کے ان لفظوں میں سے جن کو لغت میں عام معنی کے لیے استعمال کیا جاتا ہےمگر قرآن حکیم نے اپنے خاص مصطلحہ شرع معنی کے لیے اختیار کرلیا جیسے ایمان ،تقدیر،بعث،صلواۃ وغیرہ ذالک۔
 قرآن کی زبان میں خلافت اور استخلاف فی الارض سے مقصود زمین کی قومی عظمت و ریاست اور قوموں اور ملکوں کی سلطنت ہے۔" 

خلافت سے متلعق ایک سوال کے جواب میں کہ  نظام خلافت کس طرح قائم ہوتا ہے ۔ غامدی صاحب اس کا مذاق اڑاتے ہوئے فرماتے ہیں:
" یہ ایک افسانہ ہے۔ خلافت کوئی دینی اصطلاح نہیں ہے بلکہ جانشینی کے معنی میں استعمال ہوتی ہے۔ کوئی 'نظام خلافت' قسم کی چیز دین میں نہیں ہے جو لوگ 'نظام خلافت' قائم کرنا چاہتے ہیں، میں اکثر ان سے کہتا ہوں کہ وہ کیا چڑیا ہے بتا دیجیے اگر خلافت سے مراد عباسیوں اور امیوں کی حکومت ہے تو مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور آپ کو بھی نہیں ہونی چاہئے خلافت کوئی شرعی لفظ نہیں ہے اور اسکی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔" 

اسی طرح کے خیالات کا اظہار غامدی صاحب اپنی تحریروں اور گفتگو میں کرتے رہتے ہیں۔
غامدی صاحب کے استاذ امام مولانا امین احسن اصلاحی اپنی کتاب اسلامی ریاست میں خلافت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 
" ریاست کا اسلامی تصور اس اصطلاح کے اندر چھپا ہوا ہے جو اسلام نے ریاست کی تعبیر کے لیے استعمال کی ہے۔اسلامی لٹریچر پر نظر رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ اسلام نے اپنے اصولوں پر قائم شدہ سیاسی تنظیم کے لیے ریاست ،سلطنت یا حکومت کی اصطلاحیں نہیں اختیار کی ہیں۔ بلکہ خلافت،امارت یا امامت کی اصطلاحیں اختیار کی ہیں۔ خلافت کی اصطلاح اسلامی اصولوں پر قائم شدہ ریاست کے لیے ہوتی ہے۔ امامت یا امارت سے مراد وہ گورنمنٹ ہے جو خلافت کے اداروں کی تنفیذ کرتی ہیں۔"
اسی کتاب میں  خلافت کے صحیح اور بگڑے ہوئے تصور کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"ریاست کا اسلامی تصور سمجھنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے یہ حقیقت ملحوظ رکھنی چاہیے اسلام میں ریاست ایک ریاست نہیں بلکہ خلافت ہے۔ پھر ساتھ ہی یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ کسی چیز کا صحیح تصور اسکی معیاری شکل ہی سے اخذ کیا جا سکتا ہے۔ اس وجہ سے خلافت کی بھی صرف معیاری شکلیں ہی زیر بحث ہے اسکی بگڑی ہوئی شکلیں جن کی مثالیں تاریخ میں موجود ہے ہمارے لیے کار آمد نہیں ہیں۔"

خلافت کی صفات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں "یہ منصب اپنے مزاج کے لحاظ سے صرف ایک انفرادی نہیں بلکہ ایک اجتماعی اور سیاسی منصب بھی ہے۔ تمام انسانوں کو یا کم از کم ان سارے لوگوں کو جو اس منصب کی ذمہ داریوں پر ایمان رکھتے ہیں انفرادی طور پر بھی اس منصب کے فرائض پورے کرنے ہیں اور اجتماعی طور پر بھی اسکے مقاصد کو بروئے کار لانے کے لیے ایک نظام قائم کرنا ہے۔ کیونکہ اس نظام کے بنا اس کے مقاصد پورے نہیں ہوسکتے۔" 
مولانا امین احسن اصلاحی خلافت کو نہ صرف یہ کہ اسلامی اصطلاح قرار دے رہے ہیں بلکہ اس منصب کے فرائض کو ادا کرنے کے لیے ایک سیاسی نظام بھی لازمی قرار دے رہے ہیں۔ ان تمام تصریحات سے خلافت کی دینی حیثیت واضح ہوتی ہے۔ 

غامدی صاحب کو اصل اختلاف نہ لفظ سے ہے نہ اسکے معنی سے بلکہ اصل اختلاف اس اصطلاح کے پیچھے چھپے ہوئے تصور سے ہے۔ لفظ خلافت سے اسلامی نظام کا جو تصور ابھرتا ہے وہ غامدی صاحب کے فلسفہ دین سے راست ٹکراتا ہے۔ اس لیے غامدی صاحب نے اسکے اصطلاح ہونے سے ہی انکار کردیا۔وہ اسلامی اقتدار کو بھی پوپ کے روحانی اقتدار کے قسم کی کوئی چیز سمجھتے ہیں۔ لیکن اسلام روحانی اقتدار کے ساتھ ساتھ سیاسی اقتدار بھی چاہتا ہے بقول مولانا آزاد 
"قرآن حکیم کے نزدیک جو چیز خلافت ہے وہ خلافت فی الارض ہے یعنی زمین کی حکومت و تسلط ، پس اسلام کا خلیفہ ہوہی نہیں سکتا جب تک کہ زمین پر کامل اختیار اسے حاصل نہ ہوں۔ وہ مسیحیت کے پوپ کی طرح محض ایک آسمانی اور دینی اقتدار نہیں ہے جس کے لیے دلوں کا اعتقاد اور پیشانیوں کا سجدہ کافی ہو، وہ کامل معنوں میں سلطنت و فرماں روائی ہے۔ " (مسئلہ خلافت)

کوئی تبصرے نہیں

merrymoonmary کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.