الیکشن کا اغوا
سیاست کے تعلق سے کسی نے سچ ہی کہا تھا:
Politics is not like a landscape but like moving clouds.
(سیاست زمین کے خطہ کی طرح نہیں ہوتی بلکہ حرکت کرتے بادل کی طرح ہوتی ہے۔)
زمینی
خطہ میں عام طور سے تبدیلیاں نہیں ہوتی ہیں،اس کے بر عکس بادل مستقل اپنی
ہیئت،شکل اور جگہ بدلتے رہتے ہیں۔ فی الوقت ہندوستانی سیاست کے لیے یہ بات
صحیح نظر آرہی ہے۔
مودی
اور شاہ کی مضبوط نظر آنے والی جوڑی پانچ ریاستوں کے انتخابات، رافیل
گھوٹالہ اور پرینکا کی یوپی میں زوردار ریلی کے بعد کمزور نظر آنے لگی تھی ۔
GST, Demonetisation,ڈیو لپمنٹ اور تجارت کے فروغ میں ناکامی، کسانوں کی
خودکشی، بڑھتی بے روزگاری،خواتین کے تحفظ میں ناکامی یہ ایسے مسائل تھے جن
کے ہوتے محسوس ہورہا تھا کہ مودی کا سحر ٹوٹ جائے گا۔
لیکن
اچانک پلوامہ حملہ اور اسکے بعد کی سیاست کے بدولت مودی سرکار ابھرتی
محسوس ہورہی ہے۔ پانچ سال تک تمام فرنٹس پر ناکامی کے بعد پلوامہ معاملہ پر
Mascular Nationalism کے استعمال سے مودی حکومت نے اچانک سے حالات کا رخ
بدل دیاہے۔
پلوامہ کے ایک واقعہ نے پانچ سال کی ناکامیوں پر پردہ ڈال دیا
خواب سے بیدار ہوتا ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اسے حکمراں کی ساحری
پلوامہ
سے پہلے بی جے پی کی حالت انتہائی خستہ ہوگئی تھی۔ کوئی بھی سنجیدہ تجزیہ
نگار اسے 180سے زیادہ سیٹ دینے تیار نہیں تھا۔ بی جے پی روز کچھ نہ کچھ نیا
کرنے کی کوشش کررہی تھی کچھ ایسا کہ جس سے صورت حال میں کچھ تبدیلی ہو۔
کبھی رام مندر کا ایشو، کبھی آخری وقت کی اسکیموں کا اعلان، لیکن اس سچویشن
سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی بلکہ ہر تدبیر الٹی ہی پڑ رہی
تھی۔ تبھی اچانک پلوامہ کا معاملہ ہوگیا اور بقول یوگیندر یادو "فوجیوں کے
خون پر رال ٹپکائی جانے لگی"۔ کہ اب کچھ نہ کچھ ہو سکتا ہے ۔ نیشنلزم کو
ابھارا جانے لگا کیونکہ نیشنلزم لوگوں کے سوچنے کی قوت کو ختم کردیتا ہے۔
پلوامہ
کے بعد سے مودی ہر تقریر میں اس کا کریڈٹ لے رہے ہیں اور اس کمال عیاری سے
لے رہے ہیں کہ اگر کوئی انکے کریڈٹ لینے پر سوال اٹھائے تو
وہ
anti national قرار دیا جارہا ہے, امیت شاہ وہ دعوے کر رہے ہیں جو خود
آرمی تک نے نہیں کیے۔ بی جے پی کے نیتا فوجی وردیوں میں ووٹ مانگتے پھر رہے
ہیں۔ اور کچھ نیتا تو اس سے بڑھنے والی سیٹیں بھی گننے لگے ہیں۔ یوگیندر
یادو نے اس پوری صورتحال کو "الیکشن کا اغوا" سے تعبیر کیا ہے ۔
سموئیل جانسن نے ایسی ہی صورتحال کے لیے کہا تھا
patriotism is the last refuge of a scoundrel.
دوسری
طرف بی جے پی یہ انتخاب کمال عیاری کے ساتھ لڑ رہی ہے۔ 2014ء کی طرح اس
الیکشن کو بھی پارلیمانی الیکشن کے بجائے صدارتی الیکشن کے طور پر پیش کرنے
کی کو شش کر رہی ہے اور اس میں کامیاب بھی ہوتی نظر آرہی ہے۔ صدارتی
الیکشن میں مقابلہ پارٹیوں کے درمیان نہیں ہوتا بلکہ لیڈرس کے درمیان ہوتا
ہے۔مستقل پروپیگنڈہ کے ذریعہ یہ بات عام ہندوستانیوں کے ذہن میں بٹھائی
گئی ہے کہ مودی ایک مضبوط قائد ہے۔ راہل گاندھی گو کہ اپنی پپو والی امیج
سے باہر نکل چکے ہیں لیکن عوام کی اکثریت ابھی بھی انھیں ایک قائد یا کم از
کم وزیر اعظم کے طور پر نہیں دیکھتی ہے۔ اس کے بر عکس مودی کے بڑ بولے پن
کی وجہ سے عام ہندوستانی انہیں ایک مضبوط لیڈر سمجھتا ہیں۔
موجودہ
زمانہ میں الیکشن جیتنے کے لیے سب سے زیادہ پیسہ کی ضرورت ہوتی ہے اور
فی الوقت بی جے پی پر دولت کی بارش ہورہی ہے۔ بی جے پی شروع میں بھی بنیا
پارٹی کے نام سے مشہور تھی لیکن مودی نے جس طرح کارپوریٹس کی خدمت کی ،اس
کے سبب بڑے صنعتی گھرانے بھی کوشش کر رہے کہ یہ سرکار ہی دوبارہ اقتدار میں
آئے تاکہ انکے مفادات کی زیادہ سے زیادہ تکمیل ہوسکے۔ دوسری طرف معاشی
طور پر کانگریس کی حالت خراب ہے۔ کانگریس کے پاس ڈونیشنس کی کمی ہے۔
کانگریس کو امیر لیڈرس کی غریب پارٹی کہا جانے لگا ہے۔
انتخابات
پر اثر انداز ہونے کے لیے میڈیا کا ہونا ضروری ہے۔ ہندوستانی میڈیا نے
ضمیر فروشی اور بے شرمی کے سابقہ تمام ریکارڈس توڑ دیے ہیں۔ ہندوستان کی
تاریخ میں میڈیا کا بیانیہ کبھی بھی اتنا یک رخی نہیں رہا۔ تقریباً تمام
ہی بڑے بڑے میڈیا ہاؤزیس مودی سرکار کے mouth piece کے طور پر کام کر رہے
ہیں۔
یہ تمام باتیں بلا
شبہ بی جے پی کے فیور میں جاتی ہے لیکن اب بھی بعض سروے بتارہے ہیں کہ
الیکشن میں سب سے بڑا ایشو بے روزگاری کا رہے گا۔ اگر انتخابات نیشنلزم کے
بجائے ملک کے اصل ایشوز پر ہوتے ہیں تو اس صورت میں مودی کا جیتنا تقریباً
نا ممکن ہے ۔اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ ملک کی عوام کیا واقعی اتنی ہی بے
وقوف ہے جتنی مودی-شاہ سمجھتے ہیں یا پھر مودی شاہ بے وقوف ہیں جو ہندوستان
کی عوام کو نہ جان سکے۔

کوئی تبصرے نہیں