مودی،سنگھ اور ۲۰۱۹ الیکشن
آر ایس ایس میں سنگھ سر چالک کے بعد سب سے مضبوط عہدہ مہا
سچیو یعنی جنرل سکریٹری کا ہوتا ہے بلکہ پالیسی کے نفاذ کی اصل ذمہ داری
جنرل سکریٹری کی ہی ہوتی ہے سنگھ سر چالک کا کام صرف رہنمائی کرنا ہوتا
ہے۔سنگھ میں سر چالک کے لیے میقات (ٹرم)کی کوئی قید نہیں ہوتی جبکہ دیگر
ذمہ داران ہر تین سال میں بدل دیے جاتے ہیں۔موجودہ جنرل سکریٹری بھیا جی
جوشی ۲۰۱۵ میں تیسری مرتبہ جنرل سکریٹری بنے تھے ان کا ٹرم اس سال مارچ
میں ختم ہو رہا ہے۔بھیا جی جوشی تنظیمی مہارت اور پلاننگ کے لیے مشہور ہے۔
دنیا بھلے ہی ۲۰۱۴ میں بی جے کی کامیابی کے لیےصرف مودی کو ہیرو مانتی ہو
لیکن سنگھ میں ۲۰۱۴ الیکشن کی کامیابی کا ہیرو مودی کے ساتھ ساتھ بھیا جی
جوشی کو بھی مانا جاتا ہے۔بھیا جی جوشی نے ۲۰۱۴ الیکشن میں بی جے پی کی
انتخابی مہم میں سنگھ کی پوری قوت لگادی تھی۔اس سے پہلے سنگھ نے کبھی بھی
بی جے پی کےلیے انتخابات میں اس درجہ اور اتنی زور دار کوششیں نہیں کی
تھی۔
بھیا جی جوشی کے
زمانے میں ہی سنگھ اور بی جے پی کے تعلقات میں بہتری آئی تھی۔۲۰۱۵ میں
جنرل الیکشن میں جب یہ بات کہی جارہی تھی کہ بھیا جی جوشی کو بڑھتی عمر کے
سبب چلتا کر دیا جائے تو سنگھ نے صاف طور پر کہا کہ ’’جیتتی ہوئی جنگ کے
بیچ میں جنرل نہیں بدلے جاتے‘‘۔
سنگھ
کے پیش نظر ۲۰۱۹ الیکشن ہیں ۔اس الیکشن میں نوجوانوں کی بڑی تعداد ووٹ
ڈالنے والی ہے اس اعتبار سے سنگھ میں بھی تبدیلی کی لہر چل رہی ہے۔اور یہ
بات زور پکڑ رہی ہے کہ ہندوستان میں اکثریت نوجوانوں کی ہے اور ۲۰۱۹ الیکشن
میں وہی ملک کا مستقبل طے کریں گے اس لیے سنگھ میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے،
نئی اور کم عمر قیادت کو موقع دینے کی ضرورت ہے۔اس سال مارچ میں ناگپور میں
سنگھ کے تنظیمی انتخابات ہونے ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ قیادت میں بڑے
پیمانے پر تبدیلی ہوگی۔بھیا جی جوشی کا اس سال گھٹنے کا آپریشن ہوا ہے
اور اس کے لیے پورے ہندوستان کے دورے ممکن نہیں۔امید کی جارہی ہے کہ بھیا
جی جوشی کو آرام دے دیا جائے۔لیکن موہن بھاگوت اس کو ہٹانے کے حق میں نہیں
ہیں کیونکہ سنگھ کی طرف سے سیاسی معاملات ابھی تک وہی دیکھتا رہا ہے اور
بی جے پی کو قابو میں رکھنے میں کامیاب بھی رہا ہے۔ بھاگوت اچھی طرح جانتا
ہے کہ مودی کو کنٹرول کرنا آسان نہیں ہے۔اگر مودی کو قابو میں نہیں رکھا
گیا تو وہ بی جے پی کی طرح سنگھ پر بھی مکمل کنٹرول کر لےگا۔ جوشی ، مودی
کے مقابلے گڈکری ،راج ناتھ سنگھ اور توگڑیا کے قریبی ساتھیوں میں سے ہے۔
جوشی کا ماننا ہے گجرات میں توگڑیا کے ساتھ مودی نے زیادتی کی ہے۔اسی طرح
جوشی، مودی سے اس بات پر بھی ناراض ہے کہ صدارت کے عہدہ کے لیے سنگھ کے
پسندیدہ مرلی منوہر جوشی،جو سنگھ بیک گراونڈ رکھتا ہے اس کو نظر انداز
کرکے رام داس کوند کو صدارت دے دی گئی جو سنگھ کے سیوک نہیں رہے۔
اگر
بھیا جی جوشی کو موہن بھاگوت کے سپورٹ کے با وجود چلتا کر دیا جاتا ہے تو
انکی جگہ 'دتتاترے ہوسبولے' نئے جنرل سکریٹری ہو سکتے ہیں۔اگر ہوسبولے جنرل
سکریٹری بنتے ہیں تو اسکے سنگھ اور بی جے پی پر زبردست اثرات
پڑہنگے۔ہوسبولے مودی کے خاص ساتھیوں میں سے ہیں۔دونوں کے تعلقات پرانےاور
گہرے ہیں۔موہن بھاگوت ہوسبولے کے جنرل سکریٹری بننے کے مخا لف ہے کیونکہ
ہوسبولے کا راست تعلق سنگھ کی شاکھاوں سے کبھی نہیں رہا وہ اے بی وی پی کے
ذریعہ سنگھ میں آیا اور تنظیم میں اس کا قد بھی مودی کے وزیر اعظم بننے کے
بعد ہی بڑھا ہے۔ اگر ہوسبولے کو سنگھ میں نمبر ۲ کی پوزیشن دے دی گئی تو
بی جے پی کی طرح سنگھ میں بھی سب سے پاور فل آدمی مودی ہوجائے گا اور اس
نے جو حشر بی جے پی کا کیا وہی حالت وہ سنگھ کی بھی کر دے گا سنگھ اور بی
جے پی کے درمیان طاقت کا جو توازن ایک عرصہ سے قائم تھا وہ ختم ہوجائے گا
اور مودی، بی جے پی کی طرح سنگھ کو بھی نگل لے گا۔
دوسری
طرف ۲۰۱۹ الیکشن کے لیے امیت شاہ نے سنگھ سے بھر پور تعاون کی اپیل کی ہے ۔
سنگھ سمجھ رہا ہے کہ کرناٹک کے انتخابات بی جے پی کے لیے سخت ہیں۔ کیونکہ
عوام میں بی جے پی کے تئیں بیزاری بڑھتی جارہی ہے۔اب ۲۸۲ کا جادوئی نمبر بی
جے پی کے لیے حاصل کرنا مشکل ہے۔ سنگھ کے اپنے سروے کے مطابق بی جے پی کو
۲۰۰ سے ۲۲۰ کے قریب سیٹیں مل سکتی ہیں اس صورت میں سنگھ کے سامنے دو راستے
رہ جاتے ہیں۔
اگر بی جے پی ۲۲۵ سے زیادہ سیٹ جیتتی
ہے اس صورت میں مودی ہی وزیر اعظم ہونگے لیکن اگر بی جے پی ۲۲۵ سے کم سیٹ
لاتی ہے تو ۲۷۲ سیٹ کیلیے بی جے پی کو اتحادیوں کا سہارا لینا پڑے گا ۔مودی
اور شاہ نے اپنے اتحادیوں ٹی ڈی پی،شیو سینا،اکالی دل کی جو خراب حالت کی
ہے اسکے چلتے یہ پارٹیاں کبھی بھی مودی پر راضی نہیں ہونگی۔ اس صورت میں
سنگھ کو بھی موقع مل جائے گا کہ وہ اپنے کسی فیورٹ کو وزیر اعظم بنا ئے
۔اس صورت میں کیا مودی اس کو برداشت کر پائے گا ۔
لیکن یہ تمام باتیں مارچ میں سنگھ کی میٹنگ کے بعد ہی واضح ہونگی۔

کوئی تبصرے نہیں