آخری مغل بادشاہ
ہندوستان میں مغلیہ حکومت ایک وسیع رقبہ پر طویل عرصہ تک
قائم رہی۔اس حکومت میں جہاں بابر،اکبر اور عالمگیر جیسے مضبوط بادشاہ گزرے
وہیں ہمایوں،شاہ عالم رنگیلے اور بہادرشاہ ظفر جیسے بد نصیب بادشاہ بھی
گزرے ہیں۔شاید ان سب میں سب سے کمزور حکومت بہادر شاہ ہی کی رہی ہو۔ شاہ
عالم کی حکومت کے تعلق سے کہا جاتا تھا سلطنت شاہ عالم ۔ازدہلی تا پالم
لیکن بہادر شاہ کی حکومت صرف اپنے قلعہ تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ عظیم
مغلیہ سلطنت جس کے بادشاہوں کےجاہ و جلال کا یہ عالم تھا کہ ان کے ابرو کے
ایک اشارے سے لوگوں کی تقدیریں بدل جاتی تھی انکی سلطنت کا خاتمہ دردناک
طور پر ہوا۔ 1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد مسلمانوں کی شوکت کا
آفتاب جب بر صغیر میں غروب ہوا تو آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو برما
میں قید کیا گیا تھا اور وہیں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ بہادر شاہ کی موت
درد ناک موت تھی کہتے ہیں بادشاہ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات ایک گیراج
میں بسر کئے۔ بہادر شاہ ظفر اپنی اس جلاوطنی کی زندگی سے سخت دلبرداشتہ
تھے۔اپنی بد نصیبی کو رویا کرتے تھے کہ اپنے ملک کے بجائے دیار غیر میں
دفنائے جارہے ہیں۔ اسی کرب کا اظہار اس شعر میں ہے
کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
بہادر
شاہ ظفر کو شدید صدمہ تھا کہ ایک طویل عرصہ تک ہندوستان میں زبردست حکومت
کرنے والی مغلیہ سلطنت کا آخری بادشاہ گمنامی اور بے چارگی کی موت مر رہا
ہے اورمستقبل میں اس کی قبر تک کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا کہا جاتا ہے
کہ بادشاہ نے جلا وطنی کی زندگی میں یہ اشعار کہے تھے حالانکہ بعض محققین
اس سے انکار کرتے ہیں۔
پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں، کوئی چادر پھول چڑھائے کیوں
کوئی شمع آ کے جلائے کیوں کہ میں بے کسی کا مزار ہوں
لیکن
تاریخ نے بہادر شاہ ظفر کے خدشات کو جھٹلایا۔مغل بادشاہوں میں کسی کو بھی
مرنےکے بعد وہ عزت اور احترام نہیں ملا جو بہادر شاہ ظفر کے نصیب میں
آیا۔
آزاد ہند فوج کے لیڈرسبھاش چندر بوس نے 1942
میں دہلی چلو کانفرنس شروع کرنے سے پہلے بہادر شاہ کی قبر پر جا کر نذرانہ
عقیدت پیش کیا تب سے ہی یہ روایت بنی کہ بر صغیر کا ہر بڑا آدمی جب
میانمار کے دورے پر جاتا ہے تو لازما بہادرشاہ کے مزار پر حاضری دیتا رہا
ہے۔ پندٹ نہرو سے لیکر من موہن سنگھ تک ہندوستان کے کئی بڑے لوگوں نے
بہادر شاہ کی قبر پر نہ صرف حاضری دی بلکہ چادر بھی چڑھائی اور وزیٹرس بک
میں اپنے تاثرات بھی درج کرائے۔
راجیو گاندھی نے ۱۹۸۷ میں اپنے سرکاری دورے کے دوران بہادر شاہ ظفر کے قبر کی زیارت کی اور وزیٹرس بک میں ظفر کے اس احساس پر کہ
کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
اپنے
تاثرات اس طرح درج کروائے’’ یہ بات درست ہے کہ ہندوستان میں تمہارے پاس
کوئی زمین نہیں ہے لیکن یہاں تمہارے پاس زمین بھی ہے اور تمہارا نام بھی
زندہ ہے۔میں ہندوستان کی آزادی کی لڑائی کے پہلے مرکز اور محور کو خراج
عقیدت پیش کرتا ہوں‘‘
اسی
طرح جب سابق ہندوستانی صدر اے پی جی عبدالکلام نے اس قبر کی زیارت ک تو نہ
صرف چادر چڑھائی بلکہ پھول چڑھا کر فاتحہ بھی کی اور وزیٹرس بک میں بہادر
شاہ
ظفر کے شکایت بھرے اشعار کا یہ جواب بھی لکھ آئے
You
wrote who will come to my grave.Today on behalf of my nation . I have
come, prayed and lit candles, offered chador and recited thefatiha. May
your soul rest in peace,
’’تم
نے لکھا کہ میری قبر پر کون آئے گا۔آج میں اپنی قوم کی طرف سے آیا
ہوں،دعا کیا،شمع روشن کی،چادر چڑھائی، اور فاتحہ پڑھا،دعا ہے کہ تمہاری روح
سکون میں رہے‘‘
گوکہ
بہادر شاہ کی حکومت کوئی طاقتور حکومت نہیں تھی اور نہ ہی بہادرشاہ کوئی
کامیاب بادشاہ لیکن اس کے باوجود بہادر شاہ کے نصیب میں مرنے کے بعد عزت
آئی اسکی وجہ یہ رہی کہ لڑائی کے وقت بہادر شاہ نے دشمن کے سامنے گھٹنے
ٹیکنے کے بجائے اس سے لڑکر جان دینے میں عزت سمجھی۔

کوئی تبصرے نہیں