محاذوں کی کثرت
سید اسعد گیلانی اپنی کتاب 'تحریک اورجمود' میں تحریک اسلامی کےانحطاط کےخارجی اسباب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’
تحریک کی تھوڑی قوت بھی بہت تاثیر اور اور تغیر کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس کی
یہی قوت اگر مرکوز ہو کر معاشرے کو اپنی رو میں بہا نے کا کام مسلسل اور
پر زور طریقے سے کرتی رہے تو وہ کسی پہاڑی نالے کی مثل معاشرے کی چٹیل
بنیادوں تک پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن اگر نظریاتی اور
دعوتی یلغار مختلف مورچوں پر منقسم ہوجائے تو معاشرے کا بے ہنگم دیو اس
تقسیم شدہ قوت کو علیحدہ علیحدہ پاکر اپنے بے شمار بازووں میں جکڑنے کی
کوشش کرنے لگتا ہے۔جسطرح دریا کو نہروں اور نالیوں میں تقسیم کر دیا جائے
تو اسکے شاہ زور دھارے دم توڑ جاتے ہیں۔ اور وہ لہریں جو بڑے بڑے جہازوں کو
اٹھا کر پٹخنے کی صلاحیت رکھتی تھیں وہ نہروں اور نالیوں میں پہنچ کر اپنی
ساری قوت اور بہاو کھو دیتی ہیں۔"
نظریاتی
تحریکات کا بنیادی کام اپنے نظریہ کے مطابق لوگوں کی ذہن سازی ہوتا ہے
لیکن اگر تحریکیں اس کام کے بجائے مختلف محاذوں پرالجھ جائیں تو تحریکات کی
رفتار متاثر ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات وہ ان کاموں میں اتنی مشغول ہوجاتی ہیں
کہ اصل نصب العین دھندلا ہوجاتا ہے۔
اسی
طرح اسلامی تحریکات کا کام امت کو اقامت دین کے نصب العین کے لیے تیار
کرنا ہے۔ محا ذوں کی کثرت کی وجہ سے یہ تیاری متاثر ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ
کوئی فرد اگر تحریک سے نظریہ کے بجائے اسکے رفاہی، فلاحی، سماجی یا اسی طرح
کے کسی دلکش کام کو دیکھ کر وابستہ ہوتا ہے تواسکی فکری بنیادیں کمزور
ہوتی ہے اور اس کے ذہن میں تحریک کا نقشہ کسی این جی او کا ہی ہوتا ہے
اسلیے وہ اسی طرز کے کاموں کا اصرار کرتا رہتا ہے۔ اس طرح کے خام دلوں کے
عنصر پر اسلامی تحریک کی تعمیر تو بہت دور بنیاد بھی رکھنا مشکل ہوتا ہے۔جس
سےاقامت دین کا سفر دشوار اور منزلیں کٹھن ثابت ہوتی ہیں۔
عام
طور سے تحریکات اسلامی کی افرادی قوت کم ہی ہوتی ہے اب اگر اس کم قوت کو
بھی مختلف محاذوں پر بانٹ دیا جائےتو تحریک اسلامی کا زور ٹوٹ جائے گا اور
وہ کمزوہوجائے گی۔
یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ
ہندوستان میں تحریک اسلامی کے افراد اور وسائل محدود ہیں اس لیے ان ہی
امور پر توجہ دی جانی چاہیے جو ترجیحات کے اعتبار سے اولین توجہ کی مستحق
ہیں اور ظاہر ہے کہ نظریاتی تحریک کیلیے فکر سازی سے زیادہ اور کیا چیز اہم
ہو سکتی ہے؟
ضروری نہیں کہ تحریک اسلامی
ہرسیاسی،سماجی،معاشی ،ملکی،تہذیبی،عالمی مسئلہ کو حل کرنے بیٹھ جائے تحریک
ان میں سے ہر مسئلہ پر اپنا موقف رکھے گی اور اسے دنیا کے سامنے پیش بھی
کر ے گی لیکن اپنے محدود وسائل کے ساتھ اسکو حل کرنے کے لیے کود نہیں پڑے
گی۔
اسی طرح کثرت محاذ کا
ایک نقصان یہ بھی ہوتاکہ تحریک اسلامی کی قوت مختلف محاذوں پر تقسیم
ہوجانےکی وجہ اسے اسکی انقلابی روح ختم ہوجاتی ہے۔کیونکہ تحریک کی
فکر،محدود وسائل اور افرادی قوت ایک انقلابی جدوجہد میں لگنے کے بجائے الگ
الگ مورچوں پر بٹ جائے گی۔
اسی طرح تحریک اسلامی کا
مقابلہ سماج کی مختلف قوتوں کے ساتھ ساتھ نظام وقت سے بھی ہوتا ہےاگر اسکی
قوت تقسیم ہوگی تو یہ لڑائی اسکے لیے مشکل ثابت ہوگی اس لیے درست حکمت
علمی یہی ہوسکتی ہے کہ پوری قوت ایک ہی محاذ پر مرکوز رکھی جائے تاکہ اس سے
کچھ نتائج بر آمد ہو سکیں۔ تحریک اسلامی جتنے نئے محاذکھولے گی اتنی اسکی
قوت کم ہوتی جائے گی۔ دریا سے جتنی زیادہ نہریں اور نالیاں نکالی جائی گی
دریا کی لہریں اتنی ہی کمزور ہوتی جائیں گی پھر سیلاب لانا تو بہت دور کی
بات اسکی لہریں ساحل سے ٹکراکر اپنے وجود تک کا احساس نہیں دلا پائیں گی۔
اس طرح کی موجوں کے بارے میں صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ
اس موج کی قسمت پر روتی ہے بھنور کی آنکھ
جو دریا سے تو اٹھی ساحل سے نہ ٹکرائی

کوئی تبصرے نہیں