Header Ads

Header ADS

طالب علم کا رویہ

امام غزالی نے احیاءالعلوم میں علم حاصل کرنے کے پانچ مراحل بتائے ہیں:
۱۔خاموشی ۲۔غور سے سننا ۳۔یاد کرنا ۴۔عمل کرنا اور ۵۔علم کو پھیلانا۔
خاموشی اور علم کا گہرا تعلق ہے ،آدمی کسی بھی صورت میں علم حاصل کرے چاہےمطالعہ کر رہا ہو ہا یا کسی سے راست استفادہ، ہر صورت میں خاموشی لازم ہے، خاموشی دراصل ادب ہے، اور ادب علم کی سیڑھی کا پہلا باب ہے۔
دوسرا مرحلہ غور سے سننا ہے، یہ مرحلہ اس وقت پیش آتا ہے جب آدمی کسی صاحب علم، مرشد یا استاد سے علم حاصل کر رہا ہو،اس مرحلہ میں طالب علم کوچاہیے کہ وہ صاحب علم کو اپنی بات کہنے کا موقع دے اور خود بات کو غور سے سنے،یہ نہ ہو کہ طالب علم اپنے علم کا اظہار کرنے بیٹھ جائے اور  صاحب علم کی بات ادھوری رہ جائے،یہ بات اخلاقی اعتبار سے بھی ٹھیک نہیں کہ صاحب علم کی موجودگی میں طالب علم شیخی بگھارے یا درمیان سے بات کاٹ کر اپنی ہانکنے لگے۔ 
اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ آدمی سوال نہ کرے، سوال تو علم حاصل کرنے کے ذرائع میں سے اہم ذریعہ ہے  آپؑ نے فرمایا " علم خزانہ ہے اسکی کنجیاں سوال ہے علم کے متعلق پوچھتے رہا کرو اس لیے کہ سوال کرنے سے چار آدمیوں کو ثواب ملتا ہے۔سائل کو، عالم کو ،سننے والوں کو اور جو ان سے محبت رکھتا ہے اسکو"۔

اسی طرح اہل علم کی بات کاٹ کر اپنی بات رکھنا بھی طالب علم کے لیے مناسب نہیں بلکہ اس میں صاحب علم کی تحقیر بھی ہےجبکہ ہمیں اہل علم کے احترام کا حکم دیا گیا ہے ۔ایک مرتبہ حضرت زید بن ثابت ؓ نے جنازہ کی نماز پڑھائی نماز سے فراغت کے بعد سواری کی لیے لوگوں نے خچر پیش کیا۔حضرت ابن عباسؓ تشریف لائے اورخچر کی لگام ہاتھ میں لیکر چلنے لگے۔حضرت زید ؓ نے فرمایا  ''اے رسولﷺکے چچا زاد بھائی آپ لگام چھوڑ دیں،''
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ''ہمیں یہی حکم ہوا ہے کہ اپنے بڑوں اور علماء کی تعظیم کریں۔''
 اللہ کے رسولﷺ نے یہاں تک فرمایا کہ" مومن خوشامد پسند نہیں ہوتا لیکن علم کے لیے اسکی اجازت ہے"۔

کوئی تبصرے نہیں

merrymoonmary کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.