Header Ads

Header ADS

تحریک اور تنظیم

تحریکی حلقوں میں اکثر یہ گفتگو زیر بحث رہتی ہے کہ تحریک کہیں تنظیم نہ بن جائے۔تحریک اسلامی کا مقصد  موجودہ معاشرہ کو آسمانی ہدایت کی بنیاد پر استوار کرنا ہوتا ہے۔ اس عظیم کام کو کرنے کے لیے ایک تحریک ناگزیر ہوتی ہے۔ تحریک سے مراد نظریات، افکار،عقائد اور اصولوں کو انسانی زندگی کے فکری او ر عملی میدانوں میں قائم کرنے کی کوشش ہے۔ اسلامی تحریک کا مقصد دین کی تجدید اور اسکی اقامت ہے۔یہ تحریک ایک عالمی عقیدہ اور آفاقی اصول لے کر اٹھتی ہے جو دنیا بھر کے انسانوں کو خطاب کرتی ہے۔  اس کے اولین مخاطب بلا شبہ مسلمان ہوتے ہیں لیکن اس تحریک کا مقصد موجودہ مسلمانوں کا غلبہ نہیں ہوتا ہے بلکہ تحریک اسلامی کا بنیادی مقصد پورے نظام زندگی میں تبدیلی ہوتا ہے۔


  ان نظریات کے حامل انسان باشعوری اور رضاکارانہ طور پر اس تحریک کے افراد ہوتے ہیں۔  یہ افراد کا ایک گروپ بھی ہو سکتا ہےا ور متعدد گروپ بھی۔ یہ مختلف علاقوں کے لوگ بھی ہو سکتے ہیں اور ایک ہی علاقہ کے بھی۔ ایک ہی خطہ سے انکا تعلق رہ بھی سکتا اور مختلف خطوں میں رہنے  بسنے والے  لوگ بھی ہوسکتے ہیں یہ افراد  اپنے نظریات او ر عقائد کا  دنیا کے سامنے تعارف کراتے ہیں۔ لوگوں کو’ اپنی‘ طرف نہیں بلکہ اپنے اصولوں کی طرف دعوت دینا انکی ذمہ داری ہوتی ہے۔


تحریک کو اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے ایک ڈھانچہ کی ضرورت ہوتی ہے جسے نظم یا  تنظیم کہا جاتا ہے۔ تحریک کے مقاصد کو حاصل کر نے کے لیے  تنطیم کی ضرورت ہوتی ہے۔بنا تنظیم کے تحریک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی۔ بنا تنطیم کے تحریک کے نظریہ کی حیثیت ایسےتخیل کی سی ہوگی جو فضا میں ابھرا اور بکھر گیا۔ خرم مراد اس طرح کی تنظیم کو تحریکی تنطیم کہتے ہیں۔اس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہے۔

’’ اول یہ کہ  وہ افراد کو منظم کرکے ایسا مجموعہ بنادے جسکی طاقت اور قوت افراد کے عام مجموعہ سے کئی گنا زیادہ ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ کام جو افراد انفرادی حیثیت میں نہ انجام دے سکیں وہ تنظیم انجام دے سکے‘‘ ۔تنظیم اور تحریک دونوں کے اپنے اپنے دائرے ہوتے ہیں ۔ان دونوں میں توازن اور اعتدال ضروری ہوتا ہے۔  تحریکات کے سفر میں مختلف مراحل کے دوران یہ توازن اور اعتدال بگڑ جاتا ہے۔بعض دفعہ تنطیم اپنے دائرے سے نکل کر تحریک کے دائرے میں داخل ہوجاتی ہے۔ اور دھیرے دھیرے وہ تحریک  پر غالب آنا شروع ہوتی ہے اور پھر اصل مقصد نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور تنطیم خود ہی مقصد بن جاتی ہے۔تنطیم کے وسا ئل اور ذرائع مقصد کے بجائے تنطیم کی بقا ،اسکی دیکھ بھال پر خرچ ہونے لگتے ہیں۔  تنظیم کا محور مقصد کی طرف پیش قدمی کے بجائے  سرگرمیاں(ایکٹیوزم) ہو جاتا ہے جس میں تنظیم کی کارکردگی رپورٹس اعداد و شمار سے بھری ہوتی ہے لیکن مقصد کی طرف پیش قدمی کا جائزہ لیا جائے تو شاید ایک قدم بھی اس جانب  بڑھا نہیں ہوتا ہے۔ روٹین اکٹیویٹی اسکے مزاج کا حصہ بن جاتی ہے۔ تنطیم ایک بوجھل اور مضمحل تنطیم ہوجاتی ہے اس کی رفتار سست ہوجاتی ہے۔ خرم  مرادکہتے ہیں اس صورت میں تنطیم ایک ارتقائی اور تحریکی تنطیم سے ایک maintenance تنظیم میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اسکے دو اہم اسباب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں

’’ اجتماعات کی کثرت تنظیم کو بوجھل کر دیتی ہے ہمیں چاہیے کہ ہر اجتماع کے بارے میں کیوں کا سوال کریں اور سوچیں یہ اجتماع آخر کیوں ہو رہا ہے۔اس طرح ہم بہت سارے اجتماعات اور میٹنگوں سے شاید چھٹکارا پا سکیں۔‘‘

 آگے لکھتے ہیں ’’ دوسری بات کمیٹیاں ہیں۔ یہ کمیٹیاں اور مجلس کی زیادتی بھی تحریکی تنظیم کو بوجھل کر دیتی ہے۔ جو کام افراد کو کرنا چاہیے تھا وہ اب کمیٹیوں کے ذریعہ کر نے کو کوشش کی جاتی ہے‘‘

خرم مراد نے صرف دو اثرات کا حوالہ دیا جن سے یہ پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ تنظیم کہیں maintenance  تنطیم تو نہیں بن گئی۔ 

اس مرحلہ پر تحریک جمود کا شکار ہوجاتی ہے اسمیں ہدف کی جگہ  بے جانظم اور حرکت کی جگہ فعالیت لے لیتی ہے۔وہ آگے بڑھنے کے بجائے جگہ پر ہی گھومتی رہتی ہے ۔ایسے حالات میں کوئی بڑی تبدیلی لانا تحریک کے لیے نا ممکن ہوجاتا ہے. اور وہ صلاحتیوں کا بد ترین مدفن ثابت ہوتی ہے ۔ بقول حفیظ


خاک سرگرمی دکھائے بے حسی کے شہر میں
برف کے ماحول میں رہ کر ٹھٹر جاتی ہے آگ

کوئی تبصرے نہیں

merrymoonmary کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.