2019 الیکشن اور مودی کی جیت
ہندوستان میں انتخابات ہوتے رہتے ہیں اور سرکاریں بدلتی
رہتی ہیں۔ عام طور پر سرکار اس لیے چنی جاتی ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں ملک
کا نظم و نسق کون سنبھالے گا۔ ملک کی معاشی پالیسی کیا ہوگی۔ ملک کی تعمیر
و ترقی کیسے ہوگی۔ بےروزگاری،غربت اور ملک کے دیگر مسائل سے سرکار کیسے
نپٹے گی۔ ترقی کی رفتار کیا ہوگی وغیرہ۔ عمومی طور پر انہیں بنیادوں پر
الیکشن ہوتے ہیں۔
ہندوستان کے اس دفعہ کے الیکشن اس
لحاظ سے اہم تھے کہ یہ الیکشن نہ صرف ملک کے نظم و نسق اور ترقی سے متعلق
تھے بلکہ یہ بھی طئے ہونا تھا کہ سرکاری سطح پر ہندوستان سیکولر جمہوری
ملک کی حیثیت سے باقی رہے گا یا فاشزم کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔
اس
سوال کو لیکر ہندوستان کے سبھی ذی فہم اور سنجیدہ لوگ پریشان اور خوف زدہ
تھے ۔ انکی پریشانی اور خوف بلا وجہ نہیں تھے یہ بات مودی حکومت نے چند
مہینوں میں ہی ثابت کردی۔
اب تک اس ملک کی بنیاد یہ
تھی کہ سرکاری سطح پر اسکا کوئی مذہب نہیں ہوگا اور ہر فرد کو آزادی ہوگی
کہ وہ اپنی پسند کا مذہب اختیار کرے،اس پر عمل کرے اور اسکی تبلیغ اور
ترویج و اشاعت کرے۔ ملک میں اکثریت اور اقلیت سب کو یکساں حقوقِ اور آزادی
حاصل رہیگی ۔ ان ہی دستوری بنیادوں پر یہ ملک بنا اور ان ہی بنیادوں پر
آزادی کے بعد سے اب تک چل رہا ہے۔
لیکن ہندوتوادی
طویل عرصہ سے یہ کوشش کرتے رہے کہ ہندوستان کی جمہوری فضا ختم ہو اور اس
ملک میں فاشسٹ قوتیں غالب آجائے۔ 2014میں یہ موقع انھیں نصیب ہوا جب مودی
سرکار اس ملک میں قائم ہوئی۔ پچھلے پانچ سالوں میں یہ حکومت مستقل طور پر
ہندوستان کی جمہوری روایات اور اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
جمہوری
نظام کی بقاء کے لیے جمہوری اداروں کا آزادنہ طور پر کام کرنا ضروری ہوتا
ہے۔ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اس حوالہ سے دنیا میں اس کی
تعریف کی جاتی رہی ہے کہ یہاں جمہوری اداروں کو آزادی حاصل ہے جیسے یہاں
الیکشن کمیشن حکومت کی دخل اندازی سے محفوظ رہتا ہے۔ فوج ملکی معاملات میں
دخل اندازی نہیں کرتی بلکہ سول اتھارٹی ہی ٖ فوج سے متعلق فیصلے بھی لیتی
ہیں۔اسی طرح عدلیہ،میڈیا , سرکاری ایجنسیاں وغیرہ دوسرے ادارے بھی آزاد
ہیں۔لیکن پچھلے پانچ سالوں میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ ہندوستان میں دستور
کا نفاذ کرنے والے اداروں کو کمزور کر دیا جائے بلکہ اس پورے
institutional framework کو ہی کمزور کر دیا جائے جو سرکار پر گرفت کر سکتا
تھا۔ قانون کی حکمرانی کے لیے لازمی ہوتا ہے کہ یہ ادارے آزادانہ طور پر
کام کریں۔ لیکن پچھلے پانچ سالوں میں ان اداروں کی آزادی تقریباً ختم کر
دی گئی ۔سی بی آئی،الیکشن کمیشن ،فوج ،میڈیا ،آر بی آئی یہاں تک کہ سپریم
کورٹ تک کی آزادی ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تمام اداروں کو سرکار اپنے
مقاصد کے لیے بے دریغ استعمال کر تی رہی ہے۔
دوسری
طرف پچھلے پانچ سالوں میں ملک کےعمومی حالات بھیانک منظر پیش کرتے نظر
آتے ہیں۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ پچھلے
پانچ سال سے مختلف بہانوں سے مسلمانوں کو ذہنی و جسمانی اذیتیں دی جارہی
ہیں۔انھیں بھیڑ کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر قتل کیا جارہا ہے اور اسکے ویڈیوز
بناکر وائرل کیے جارہے ہیں تاکہ مسلمانوں میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہو۔
کبھی گھر واپسی کے نام پر انکو ستایا جا رہا ہے۔ این آر سی کے بہانے
چالیس لاکھ لوگوں کو ملک کی شہریت سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اور
کہا جارہا کہ پورے ہندوستان میں این آر سی کروایا جائے گا۔ کبھی طلاق
ثلاثہ کے خاتمہ کے نام پرپرسنل لاء کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔بیف
پر پابندی عائد کرکے انھیں ہراسا ں کیا جارہا ہے مذہبی مقامات پر حملے کیے
جارہے ہیں،سیا سی طور پر مسلمانوں کو حاشیہ پرڈال دیا گیا ہے۔ پورے ملک میں
ان کو دہشت گرد،پاکستانی اور اینٹی نیشنل کہہ کر پکارا جا رہا ہے یہاں تک
کہ اسکولوں میں معصوم بچوں تک کو اس ذہنی اذیت سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
مسلمانوں
کی جان ،مال، عزت آبرو،مذہب، کلچر، اور نسل ہر چیز پر خطرے کے بادل منڈلا
رہے ہیں،سرکار قاتلوں کی نہ صرف پشت پناہی کر رہی ہے بلکہ انکو انعامات سے
نواز کر انکی حوصلہ افزائی بھی کر رہی ہے۔ سرکار کے منسٹرس مستقل طور
پرمسلمانوں کے خلاف ایسےبیانات دے رہیں ہیں جن میں انکی حب الوطنی کے ساتھ
دین و ایمان پر بھی اعتراضات کیے جا رہے ہیں، مسلم تعلیمی ادارے حکومت اور
ہندوتوادیوں کے نشانے پر ہیں جہاں ہمیشہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ پیدا کرنے کی کو
شش کی جارہی ہے۔
۔کانگریس
کے زمانے میں جو تھوڑی بہت سہولتیں مسلمانوں کو حاصل تھی ان کو بھی ایک
ایک کرکے ختم کیا جا رہا ہے۔ پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول
بنایا جا رہا ہے ٹیلی ویژن چینلس دن رات فرقہ وارانہ موضوعات چلا کر مستقل
طور پر پوری کمیونٹی کو بد نام اور ٹارچر کر رہے ہیں۔ ہر طرف دہشت ،خوف اور
تشویش کا ماحول ہے۔ یہ پانچ سال ہندوستانی مسلمانوں نے اس کرب کے ساتھ
گزارے ہیں اور گزار رہے ہیں۔ ملک کے یہ وہ عمومی حالات تھے جسکے سبب ہر
سنجیدہ شخص چاہ رہا تھا کہ مودی حکومت دوبارہ قائم نہ ہو۔
انخابات
سے قبل کسی کو بھی یہ گمان نہیں تھا کہ بی جے پی اتنی بڑی کامیابی درج کرے
گی ۔ لیکن سیاست کے تعلق سے کسی نے سچ ہی کہا تھا:
Politics is not like a landscape but like moving clouds.
(سیاست زمین کے خطہ کی طرح نہیں ہوتی بلکہ حرکت کرتے بادل کی طرح ہوتی ہے۔)
زمینی خطہ میں عام طور سے تبدیلیاں نہیں ہوتی ہیں،اس کے بر عکس بادل مستقل اپنی ہیئت،شکل اور جگہ بدلتے رہتے ہیں۔
ابتداء
میں محسوس ہورہا تھا کہ مودی اور شاہ کی مضبوط نظر آنے والی جوڑی پانچ
ریاستوں کے انتخابات، رافیل گھوٹالہ اور پرینکا کی یوپی میں زوردار ریلی کے
بعد کمزور نظر آنے لگی تھی جی ایس ٹی، نوٹ بندی،ڈیو لپمنٹ اور تجارت کے
فروغ میں ناکامی، کسانوں کی خودکشی، بڑھتی بے روزگاری،خواتین کے تحفظ میں
ناکامی یہ ایسے مسائل تھے جن کے ہوتے محسوس ہورہا تھا کہ مودی کا سحر ٹوٹ
جائے گا لیکن اس کے بر عکس اس دفعہ کا چناؤ مودی نے پہلے کی بہ نسبت زیادہ
بڑے مارجن سے جیتا ہے ووٹوں کا فی صد اور سیٹوں، دونوں میں اضافہ ہی ہوا
ہے۔ابتدا میں تو کوئی بھی سنجیدہ تجزیہ نگار بی جے پی کو 180 سے زیادہ سیٹ
دینے تیار نہیں تھا۔ خود سنگھ کے سروے کی یہی رپورٹ تھی۔ سنگھ اور بی جے پی
کے لیڈرس تک 200سے240تک کا اندازہ کر رہے تھے ۔ بلکہ سنگھ تو اتحادی
گورنمنٹ کے آپشن کے پیش نظر نتن گڈری کو بھی میدان میں لانے کی تیاری کر
رہا تھا۔ ظاہر ہے اگر مودی واضح اکثریت لانے میں ناکام ثابت ہوتا اس صورت
میں این ڈی اے کی دوسری پارٹیاں اسے اپنا لیڈر ہرگز تسلیم نہ کرتی، مودی کے
بالمقابل گڈکری زیادہ قابل قبول ہوتےلیکن ہندوستانی عوام نے مودی کو ایک
بار پھر واضح اکثریت سے کامیاب کردیا۔
سوال
یہ ہے کہ مودی ترقی کے محاذ پر ناکام رہنے کے باوجود کامیاب کیوں ہوئے اور
اپوزیشن بالخصوص کانگریس چونکہ نیشنل پارٹی ہے ناکام کیوں رہی۔
بی
جے پی کی فتح میں جن عناصر نے اساسی کردار ادا کیا ہے ، اُن میں سے
نمایاں فیکٹر اپوزشن کا بودا پن، پلوامہ خود کش حملے کے پس منظر میں بولا
گیا بے تحاشہ جھوٹ ، ہندوتوا ، صنعتکاروں کا فراہم کردہ اربوں روپے کا
چندہ اور مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ رہے۔
الیکشن
جیتنے کے لیے صرف حکومت کی ناکامیاں گنوانا کافی نہیں ہوتا بلکہ ان
ناکامیوں کو بے اطمینانی میں بدلنا ہوتا ہے اور اسکے بعد عوام کو یہ یقین
دلانا ہوتا کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے متبادل لیڈر شپ موجود ہے ۔
اپوزیشن مودی کی ناکامیاں تو گنواتا رہا لیکن اسکو عوامی بے چینی میں تبدیل
کرنے میں ناکام رہا جس طرح بی جے پی اور سنگھ نے 2014 میں کرپشن کے موضوع
پر کانگریس کے خلاف کامیابی کے ساتھ یہ بے چینی پیدا کی تھی اور عوام کو
یقین دلایا تھا کہ مودی ہی وہ مسیحا ہے جو ان مسائل کو حل کرسکتا ہیں ۔راہل
گاندھی کا پورا الیکشن کیمپین رافیل کے گرد گھومتا رہا جسکے سبب وہ دوسرے
اور زیادہ بڑے ایشوز پر فوکس ہی نہیں کر پائے۔ وہ چوکیدار چور ہے کے نعرے
لگاتے رہے لیکن عوام نے اس نعرے کو تسلیم نہیں کیا بلکہ خود کانگریسی
رہنماوں تک نے انکے دعوے کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ اکیلے ریلیاں کرتے رہے لیکن
کانگریسی لیڈران نے انکا ساتھ دینا تو درکنار انکے فیور میں ٹویٹ تک نہیں
کیے۔
دوسری طرف بی جے پی
نے یہ الیکشن کمال عیاری کے ساتھ لڑا ہے۔گو کہ الیکشن پارلیمنٹری تھا لیکن
بی جے پی نے 2014 ہی کی طرح اسے صدارتی الیکشن بنا دیا تھا ۔ صدارتی
الیکشن پارٹیوں یا ممبر آف پارلیمنٹ کے درمیان نہیں ہوتا بلکہ شخصیات کے
درمیان ہوتا ہے۔ہندوستانی عوام ہیرو ورشپ میں زیادہ یقین رکھتی ہے۔ مودی کے
بڑ بولے پن اور میڈیا کے ذریعہ اس کی سپر مین والی امیج کے ذریعہ اسے ایک
مضبوط عوامی لیڈر کے طور پر پیش کیا جاتا رہا اسکے بر عکس نیشنل لیول پر
کوئی اس قد کا لیڈر دکھائی نہیں دیتا تھا ۔ راہل گاندھی گوکہ شریف النفس
اور نیک دل آدمی ہے اور شاید نہرو کے بعد کانگریس کی مرکزی لیڈر شپ میں
ایسے شخص ہےجس نے ہندوتوا کا بہت سخت نوٹس لیا لیکن وہ عوامی قائد نہیں بن
سکے ۔ وہ اپنی پپو والی امیج سے باہر تو آگئے لیکن لوگ ابھی بھی انہیں
اپنے وزیر اعظم یا قائد کے طور تسلیم نہیں کرتے ہے۔اس لیے نان کمیونل لوگ
بھی پوچھتے تھے کہ مودی نہیں تو کون ؟ ویسے بھی راہل گاندھی کے لیے کانگریس
جیسی زوال پذیر پارٹی کے ذریعہ مودی اور شاہ جیسے عیار،مکار اور چالاک
سیاستدانوں کا مقابلہ مشکل ہی تھا۔
فی
زمانہ انتخابات میں میڈیا کا رول بہت اہم ہوتا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں
میڈیا کا کردار کبھی بھی اتنا یک رخی نہیں رہا تھا۔ ہندوستانی میڈیا نے
ضمیر فروشی اور بے شرمی کے سابقہ تمام ریکارڈز توڑ دیے۔ تقریباً تمام ہی
بڑے چھوٹے میڈیا ہاؤسز مودی سرکار کے ماوٗتھ پیس کے طور پر کام کر رہے
تھے۔ ہندوستان میں زیادہ تر میڈیا ہاوسیز بی جے پی یا سنگھ کے ہیں یا پھر
ان سے متفق لوگوں کے۔ اس لیے پچھلے پانچ چھ سالوں میں میڈیا مکمل طور پر
مودی کی ہر ناکامی کو چھپاتا رہا اور مستقل طور پر اسے ایک ایسےلیڈر کے
طور پر پیش کرتا رہا جس نے غربت کو قریب سے دیکھا ،جو نیچے سے جدوجہد کرتا
ہوا اوپر آیا ،جو عام آدمی کے درد کو سمجھتا ہے،ملک کے لیے انتھک محنت کرتا
رہتا ہے یہاں تک کہ اسے اپنے آرام تک کی پرواہ نہیں ہے۔جو سنسار کی موہ
مایا سے بے نیاز ایک فقیر ہے، فیصلہ کن قوت ارادی رکھنے والا کرشماتی لیڈر
ہے۔ جو ملک سے باہر اور ملک میں موجود ملک دشمن قوتوں سے ٹکر لے رہا ہے ۔
ہٹلر کا قریبی ساتھی گوبیل کہا کرتا تھا کہ کسی جھوٹ کو بار بار دہراؤ وہ
سچ بن جاتا ہے۔ یہی کچھ ہندوستانی عوام کے ساتھ ہوا۔ سوشل ،الیکٹرانک اور
بڑی حد تک پرنٹ میڈیا مسلسل پانچ سال تک یہ باور کراتا رہا کہ مودی ہی
مسیحا ہے جو اسکے درد کا درماں کر سکتا اور عوام نے اس فریب کو سچ مان
لیا۔
اسی طرح فی زمانہ الیکشن لڑنے اور جیتنے کے لیے
سب سے فیصلہ کن فیکٹر پیسہ ہوتا ہے ۔فی الوقت بی جے پی پر دولت کی بارش
ہورہی ہے۔حالانکہ بی جے پی شروع سے ہی بنیا پارٹی کے نام سے مشہور تھی لیکن
مودی نے جس طرح کارپوریٹس کی خدمت کی ،اسکے سبب بڑے بڑے صنعتی گھرانے بھی
کوشش کر رہے تھے کہ مودی سرکار ہی دوبارہ اقتدار میں آئے تاکہ انکے مفادات
کی زیادہ سے زیادہ تکمیل ہو سکے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس الیکشن
میں دس ہزار کروڑ جبکہ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ساٹھ ہزار کروڑ
روپئے خرچ ہوئے اور اس میں آدھے سے زیادہ پیسہ اکیلے بی جے پی نے خرچ
کیے۔دوسری طرف کانگریس کی معاشی حالت خستہ ہے اسکے پاس ڈونیشنس کی کمی ہے۔
اسے امیر لیڈرس کی غریب پارٹی کہا جانے لگا ہے ۔
مودی
نے پچھلا الیکشن وکاس اور ہندوتوا کی بنیاد پر لڑا تھا اس دفعہ وکاس کا
کہیں کوئی ذکر ہی نہیں تھا۔ اس مرتبہ ہندوتوا کے ساتھ نیشنلزم تھا اور پہلے
کی بہ نسبت مودی کو زیادہ ووٹوں سے کامیابی ملی۔ الیکشن سے پہلے یہ محسوس
ہورہا تھا کہ مودی کا سحر ٹوٹ جائے گا۔ لیکن اچانک پلوامہ حملہ اور اسکے
بعد کی سیاست کے بدولت مودی سرکار دوبارہ ابھر گئی۔ پانچ سال تک تمام
فرنٹس پر ناکامی کے بعد نیشنلزم کے استعمال سے مودی حکومت نے اچانک سے
حالات کا رخ بدل دیا تھا۔
پلوامہ کے ایک واقعہ نے پانچ سال کی ناکامیوں پر پردہ ڈال دیا
خواب سے بیدار ہوتا ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اسے حکمراں کی ساحری
پلوامہ
سے پہلے بی جے پی کی حالت انتہائی خستہ ہوگئی تھی۔ بی جے پی روز کچھ نہ
کچھ نیا کرنے کی کوشش کررہی تھی کچھ ایسا کہ جس سے صورت حال میں کچھ تبدیلی
ہو۔ کبھی رام مندر کا ایشو، کبھی آخری وقت کی اسکیموں کا اعلان، لیکن اس
سچویشن سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی بلکہ ہر تدبیر الٹی ہی پڑ
رہی تھی۔ تبھی اچانک پلوامہ کا معاملہ ہوگیا اور بقول یوگیندر یادو "فوجیوں
کے خون پر رال ٹپکائی جانے لگی"۔ کہ اب کچھ نہ کچھ ہو سکتا ہے ۔ نیشنلزم
کو ابھارا جانے لگا کیونکہ نیشنلزم لوگوں کے سوچنے کی قوت کو ختم کردیتا
ہے۔
پلوامہ کے بعد سے مودی ہر تقریر میں اس کا کریڈٹ
لے رہے تھے۔ اور اس کمال عیاری سے لے رہے ہیں کہ اگر کوئی انکے کریڈٹ لینے
پر سوال اٹھائے تو وہ اینٹی نیشنل قرار پاتا۔
امیت شاہ وہ دعوے کر رہے تھے جو خود آرمی تک نے نہیں کیے تھے۔ بی جے پی کے
نیتا فوجی وردیوں میں ووٹ مانگتے پھر رہے تھے ۔ یوگیندر یادو نے اس پوری
صورتحال کو "الیکشن کا اغوا" سے تعبیر کیا تھا۔
سموئیل جانسن نے ایسی ہی صورتحال کے لیے کہا تھا
patriotism is the last refuge of a scoundrel.
اس
پوری صورتحال کو بی جے پی نے خوب بھنایا اور مودی کو ایک مضبوط اعصاب والا
قائد جو گھر میں گھس کر دشمن کو منہ توڑ جواب دے جا سکتا بتایا جانے لگا۔
خود مودی پہلے ،فوج نے کیا کہتے رہے ،پھر ہم نے کیا کہتے رہے اور آخر میں
بڑ بولے پن میں یہ تک کہہ بیٹھے کہ یہ میں نے کیا۔
دوسری
طرف اس انتخاب میں ہندو مذہبی انتہا پسندی کو خوب بھڑکایا گیا ۔ اپوروانند
کے مطابق "گڑبڑی ای وی ایم کے ساتھ نہیں بلکہ ہندو ذہن کے ساتھ کی گئی ہے
"۔
ہندومسلم تناؤ کوبی جے
پی نے انتخابی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔پرشانت جھا لکھتے ہیں کہ
’’اپنے اس مقصد کیلیے بی جے پی’پروپیگنڈے’اور‘جھوٹ’کا سہارا لیتی چلی آئی
ہے۔ جھوٹے ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے تھے او ربی جے پی کو یہ سب کرنے
میں کسی طرح کی شرم نہیں محسوس ہوتی ہے۔ بی جے پی کا یہ پروپیگنڈہ خوب
کام آیا کہ اس ملک میں وہ سیاسی پارٹیاں جو خود کو سیکولر کہتی ہیں
مسلمانوں کی منہ بھرائی کرتی چلی آرہی ہیں اور ہندوؤں کو نظر اندازکرتی
ہیں۔ یہ وہ پروپیگنڈہ تھا جس نے بہت سارے ہندوؤں، کو مسلمانوں کے خلاف
اْکسایا۔ ایک پروپیگنڈہ ہندوؤ ں کے غیر محفوظ ہونے کا بھی تھا۔ یہ جھوٹ
پھیلایاگیا کہ مسلمانوں کے ظلم سے تنگ آکر مغربی یوپی کے مسلم اکثریتی قصبہ
کیرانہ سے ہندو منتقل ہورہے ہیں۔‘‘ مودی کا پورا کیمپین ہی بھگوا تھا ۔
بنگال میں بی جے پی کئی سال سے ماحول کا بھگوا کرن کرنے کی کوشش کر رہی
تھی۔ بنگال میں پہلی مرتبہ ا س بار رام نومی کی ریلیاں دیکھی گئی۔ الیکشن
ریلیوں میں رام کی جھاکیاں بنائی جانے لگی۔ مودی اور شاہ خود جے شری رام کے
نعرے لگا کر ماحول کو خراب کرتے رہے۔ جے شری رام کا تعلق ہندو مذہب سے
نہیں بلکہ ہندوتوا سے ہے۔ اس نعرہ کے زریعہ بنگال کا سیاسی ماحول خوب گرما
یاگیا۔
اتر پردیش میں امت شاہ مہا گٹھ بندھن کے
ووٹروں کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے کہ ان کے لیڈران مسلمانوں کی
نازبرداری میں لگے ہوئے ہیں جس سے ایک طرف ہندو ذات پات کی حدود کو چھوڑکر
اپنے ان لیڈروں کوسبق سکھانے کے لئے بی جے پی کے حق میں متحد ہوگئے۔ یہ
ایک انتہائی شاطر چال تھی جوکامیاب ہوکر بی جے پی کے لئے ایک تاریخی مینڈیٹ
لائی۔ اکھلیش اور مایاوتی کو پتہ ہی نہیں چلا کہ کب ان کا ‘کور ووٹر’ دلت
اور یادو ان کے دامن سے کھسک کر بی جے پی کی جھولی میں گر گیا۔بنیاد پرست
ہندوؤں کے دل جیتنے کے لیے نریندر مودی نے تو الیکشن کے آخری دنوں یہ
ڈرامہ رچایا کہ کیدر ناتھ اور بدری ناتھ کے منادر میں پناہ لے لی۔ میڈیا
نے اس فوٹو کو جس میں وہ بھگوے رنگ کی چادر اوڑھے مندروں کی غار
میں’’عبادت‘‘ اور ’’گیان دھیان‘‘ میں یوں مگن ہیں کہ عالمِ استغراق میں اُن
کی آنکھیں بند ہیں خوب پھیلایا۔
اس
فر قہ ورانہ سیا ست کی انتہا یہ تھی کہ بھوپال سے دہشت گردی میں ملوث
پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو سابق وزیر اعلیٰ دگوجے سنگھ کے خلاف میدان میں اتار
گیا۔ جس نے مہاتماگاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی پذیرائی کرکے حیران و
ششد کردیا۔ لیکن ان سب فرقہ ورانہ اقدامات کا بی جے پی کو فائدہ ہوا۔ اس کا
اندازہ صرف ایک سروے سے لگایا جا سکتا کہ بھوپال کے ایک پوش علاقہ چار
املی کے پولنگ بوتھوں پر، جہاں صرف حکومت کے اعلیٰ عہدیدار رہتے ہیں، پرگیہ
سنگھ ٹھاکر کو 448ووٹ ملے، جبکہ دو مرتبہ وزیر اعلیٰ رہ چکے دگوجے سنگھ
صرف 150ووٹ حاصل کر پائے۔ ماحول اتنا زہر آلود تھا کہ سیکولر جماعتوں نے
بھی مسلمانوں سے ووٹ مانگنے سے پرہیز کیا۔ نہ مسلمانوں کو اپنی ریلیوں میں
بلایا۔ نہ مسلم محلوں میں ریلیاں کی۔حالانکہ اس کے باوجود ہندو ووٹروں نے
ان کو کوئی پذیرائی نہیں بخشی۔
ملک
کی تقسیم کے بعد ہندوتوادی عناصر کا خیال تھا کہ چونکہ مسلمانوں کو الگ
خطہ زمین دے دیا گیا ہے اس لیے اب یہ ملک ہندو راشٹر بننا چاییے۔ اور اس
ملک کی بنیاد ساورکر کے ہندوتوا کے نظریہ پر رکھی جانی چاہیے جس کے مطابق
اس ملک کا اکثریتی طبقہ ہی ملک کا اصل مالک ہوگا اور اقلیت کو اکثریت کے
رحم وکرم پر رہنا ہوگا اور اس ملک کی اکثریت ہندو ہے اس لیے یہاں انہیں کا
قانون چلنا چاہیے۔ 'ہندوتوا۔ ہندو کون ہے' میں اسی کو بیان کرتے ہوئے
ساورکر لکھتا ہے:
"ہندو وہ ہے جو اس بھارت ورش سندھ سے سمندر تک کو اپنا آبائی وطن اور مقدس سر زمین مانتا ہو۔"
اس
تعریف کے ذریعہ ساورکر نے بہت چالاکی سے براہیمی مذاہب (اسلام،عیسائیت اور
یہودیت) کو ہندوستانی ہونے سے خارج کردیا اور سکھ،جین اور بدھ مذہب کو
شامل کرلیا کیونکہ یہ مذاہب یہیں پیدا ہوئے اسکے برعکس مسلمانوں کی مقدس
زمین مکہ ہے اور یہودی اور عیسائیوں کی یروشلم۔
اس
نظریہ کی بنیاد پر اس زمانے کے ہندوتوادی ملک کی تعمیر چاہ رہے تھے لیکن
اس دور کے ہندوستانی لیڈران جن کو عوام کی عظیم اکثریت کی تائید حاصل تھی
وہ دوسری بنیاد پر ملک کی تعمیر چاہ رہے تھے۔
وہ
بنیاد یہ تھی کہ اس ملک کا سرکاری سطح پر کوئی مذہب نہیں ہوگا اور ہر فرد
کو آزادی ہوگی کہ وہ اپنی پسند کا مذہب اختیار کرے،اس پر عمل کرے اور اسکی
تبلیغ اور ترویج و اشاعت کرے۔ ملک میں اکثریت اور اقلیت سب کو یکساں حقوقِ
اور آزادی حاصل رہیگی ۔ ان ہی دستوری بنیادوں پر یہ ملک بنا اور ان ہی
بنیادوں پر آزادی کے بعد سے اب تک چل رہا ہے۔
ساورکر
نے ہندو مذہب کے سیاسی کرن کا تصور ہندوتوا کے نام سے دیا تھا آج وہ کامیاب
ہوتا نظر آرہا ہے۔ ہندو مذہب کے تعلق سے کہا جاتا تھا کہ یہ
روحانیات،بھائی چارگے اور محبت کا مذہب ہے ۔ ہندو کے اندر برداشت اور تحمل
کی قوت دوسروں سے زیادہ ہوتی ہے ۔ ہندو نے کبھی ہندوستان سے باہر نکل کر
کسی پر حملہ نہیں کیا کیونکہ وہ توسیع پسند نہیں ہے۔ ممکن ہے ماضی میں یہ
باتیں درست ہو لیکن موجودہ ہندوازم یہ نہیں ہے۔ ہندو نوجوان بہت زیادہ
assertive اور aggressive ہوگیا ہے۔ مذہبی روحانیت کی جگہ وطنی اور سیاسی
انتہا پسندی نے لے لی ہے۔ روحانی طور پر ہندو ازم کھوکھلا ہوچکا ہے۔مودی کے
زمانے میں ہی مراری باپو،آسارام باپو،رام دیو بابا ، اور سد گرو جگی جیسے
سیاسی مذہبی بہروپیوں کو بڑھاوا ملا۔ موجودہ زمانے میں یہی لوگ ہندو وں کے
مذہبی رہنما ہے اور سب کے سب سنگھ کے کلچرل نیشنلزم ازم کو پروموٹ کرتے
رہتے ہیں۔
وشو ہندو پریشد
ایک سیاسی ہندو دہشت گرد تنظیم ہے لیکن یہ ہندو مذہبی تنظیم تسلیم کی جاتی
ہے اور تمام سادھو سنت اس کے ممبر ہے ۔سنتوں کا کام دھرم اور محبت کی
تعلیم دینا تھا لیکن یہاں تو سنت گائے کی حفاظت کے نام پر پارلیمنٹ کا
گھیراؤ کر رہے ہیں،مسلمانوں کے خلاف اور بی جے پی کے لیے تحریکیں چلا رہے
ہیں۔ حیرت کی بات ہے وی ایچ پی ،بجرنگ دل اور سنگھ جیسی سیاسی تنظیمیں ہندو
مذہب اور کلچر پر مکمل طور سے قابض ہوگئی ۔
سنگھ
فی الوقت ہندو مذہب ،سماج اور کلچر کی ٹھیکیدار بنی ہوئی ہے اور ہندوؤں کا
ایک بڑا طبقہ بھی یہی تسلیم کرتا ہے۔ ہندووں کا احساس یہ ہے کہ کانگریس
میں زیادہ تر لبرل اور سیکولر قسم کے لوگ بھرے ہیں جنھوں نے مغرب میں تعلیم
حاصل کی ہے۔ وہ ہندو تہذیب اور مذہب کو نہیں سمجھتے ہیں انکے بالمقابل بی
جے پی ہندو کلچر اور مذہب سے زیادہ قریب ہے۔ اس لیے وہ بی جے پی کو اپنی
پارٹی سمجھتے ہیں اور کانگریس میں ایک قسم کی اجنبیت محسوس کرتے ہیں۔ یہ
بات سمجھتے کانگریس کو بہت دیر ہوگئی تب تک سنگھ ہندو مذہب کو اغوا کر چکا
تھا۔ راہل گاندھی کی مندوں کی یاترا اسی احساس کا حصہ تھی جسے مسلمان نرم
ہندوتوا سے تعبیر کر رہے تھے ۔ لیکن یہاں ایک طرف راہل گاندھی کی کچھ
یاترائیں دوسری طرف سنگھ کی سو سالہ مکارانہ جدوجہد۔ نتیجہ ظاہر ہے۔
یہ
تصور کرنا کہ بی جے پی صرف کمزور اپوزیشن کی وجہ سے جیتی ایک سطحی تجزیہ
ہوگا۔ بلکہ صحیح تجزیہ یہ ہے کہ اس نے اپوزیشن کو کمزور کر دیا ۔کوئی مضبوط
اپوزیشن ملک میں کھڑا ہونے ہی نہیں دیا۔ چانکیہ کا سام دام ڈنڈ بھید کا
فارمولہ استعمال کرکے اس نے اپوزیشن کو ختم کر دیا۔ راہل گاندھی ہندوتوا کے
تئیں سخت موقف رکھتے تھے انھیں ہندوستانی سیاست میں کبھی ابھرنے ہی نہیں
دیا گیا مستقل طور سے انکی امیج خراب کی جاتی رہی۔ کیجریوال،ممتا جیسے
اسٹریٹ فائٹرس کو طاقت کے استعمال سے دبا دیا گیا۔
اسی
طرح یہ بھی کہنا مکمل طور سے درست نہیں کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے لیے
مکمل طور سےمودی اور شاہ ذمہ دار ہیں۔ مودی اور شاہ نے ایک بنے بنائے ماحول
کا فائدہ اٹھایا ۔ ظاہر ہے دیا نند سرسوتی سے لیکر موجودہ زمانے تک
ہندوتوادیوں کی مستقل کوششیں ہیں اس ملک کو ہندورازشٹر بنانے کی۔ان کوششیں
کا عملی ظہور کبھی تو ہونا تھا۔ سنگھ کے رضاکار ہر انتخاب میں بی جے پی کے
لیے دیوانہ وار جدو جہد کرتے انکی کوششیں کبھی تو رنگ لانی تھی۔ ملک میں
اور ملک سے باہر ایک بڑی آبادی یہ خیال رکھتی ہے کہ مسلمان اس ملک کے لیے
بوجھ ہے کانگریس اور سیکولر پارٹیاں اپنی ووٹ بینک کی راج نیتی کے لیے ملک
کی سیکورٹی سے سمجھوتہ کرتی ہیں ۔ بی جے پی ہی ملک کو زیادہ محفوظ بنا
سکتی ہے۔
ہندوتوادی
تنظیمیوں نے مستقل پروپیگنڈہ کے ذریعہ ملک کی بڑی آبادی کو یہ یقین دلایا
دیا تھا کہ مسلمان اور سیکولر پارٹیاں ہندو مخالف ہیں،سیکولر پارٹیاں صرف
مسلمانوں کی منہ بھرائی کرتی ہے،مدارس اور مساجد دہشت گردی کے اڈے ہیں،
مسلمانوں کی کھانے کی عادتیں تک ہندو مخالف ہیں، بیف کھاتے ہیں، ہندووں نے
انھیں انھیں مذہبی آزادی دی ہے لیکن مسلمان بڑا دل کرکے رام مندر تک دینے
تیار نہیں ہے ،مسلمانوں نے کشمیری پنڈتوں پر ظلم کرکے انھیں وادی سے نکال
دیا۔
اسی طرح اسلام کے بارے میں یہ باتیں پھیلائی
جاتی رہی کہ اسلام خونخوار اور دہشت گرد لوگوں کا مذہب ہے جس کے ماننے والے
پوری دنیا میں مذہب کے نام پر ظلم کرتے ہیں یہ ظلم میں اتنے بڑھ جاتے ہے
کہ خود مسلمان تک انکے ظلم سے محفوظ نہیں ہے۔ یہ جانوروں کو بے دردی سے قتل
کرکے کھاتے ہیں، عورتیں پر ظلم کرتے ہیں انکی تہذیب بر بری تہذیب ہے۔اگر
انھیں حکومت کا موقع ملے تو دوسرے مذہب والوں کو ذمی بنا کر ان پر ظلم کرتے
ہیں۔
اسی طرح مسلمانوں کی
وطن سے محبت مستقل تنقیدوں کی زد میں رہتی ہے کہ انکے لیے اسلام اور
مسلمان پہلے وطن بعد میں ۔ یہ فلسطین،برما کے تو ریلیاں نکال سکتے لیکن
ہندوستان کے لیے کبھی ریلی نہیں نکالتے۔ یعقوب میمن جیسے دہشت گرد کے جنازے
میں تو لاکھوں لوگ آتے ہیں لیکن عبد الکلام جیسے دیش بھکت کے جنازے میں
مشکل سے پانچ سو لوگ تھے ۔انکی محبتیں پاکستان اور مسلم ملکوں کے لیے زیادہ
ہے اسکا اظہار وہ کرکٹ اور جنگ کے موقعوں پر کرتے رہتے ہیں۔
مسلم
سماج کے بارے میں یہ پھیلایا جاتا ہے کہ اس ملک پر قبضہ کرنے کے لیے یہ
زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں ، لو جہاد کے ذریعہ ہندو لڑکیوں کو پھسلا کر
مسلمان بناتے ہیں،ہندووں کو ورغلا کر،انکی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاکر انھیں
مسلمان بنایا جاتا ہے ۔مسجد کی سرحدیں بڑھانے کے لیے راستوں پر نماز پڑھتے
ہیں۔
تاریخ کے حوالے سے مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا جاتا
رہا ہے کہ اپنے دور حکومت میں ہندوؤں پر انھوں نے بے انتہا مظالم ڈھائے ،
مندروں کو توڑ توڑ کر مسجدیں تعمیر کی، ہندووں کو ڈرا کر اور انکی غربت کا
فایدہ اٹھا کر انکے مذہب کو تبدیل کیا گیا۔ ہندو عورتوں کو اٹھا لے جاتے
تھے اور ان پر بدترین درجہ کا جنسی تشدد کرتے تھے۔ مسلمانوں کی مکمل تاریخ
ظلم اور بر بریت کی تاریخ ہے۔ اس لیے اب ہندووں کے جاگنے اور ہزار سالہ بے
عزتی کا بدلہ لینے کا وقت آگیا ہے ۔
یہ
تمام باتیں ایک طویل عرصہ سے فضا میں پھیلائی جارہے تھی ۔ الگ الگ لہجہ
میں ،مختلف ذرائع سے ، کہی جارہی تھی۔ ان کا اثر کبھی تو ہونا تھا ۔ان تمام
باتوں کا اثرہمیں حالیہ انتخاب میں کھل کر نظر آتا ہے۔ اب ہمیں یہ تسلیم
کرلینا ہوگاکہ ہندوستانی عوام کے درمیان سیکولر ڈھانچہ پوری طرح تباہ
ہوچکاہے ۔ہندووں کی ایک بڑی تعداد نے ہندو قوم پرستی، راشٹرا واد اور دھرم
کے نام پر ہی ووٹ دیا ہے۔اعداد شمار کی جادو گری دکھاکر یہ ثابت کرنا کہ
ہندوستان کی اکثریت اب بھی سیکولر ہے حماقت ہے۔ اس حقیقت کو ہم جتنی جلدی
تسلیم کرلے اتنا ہی یہ ملک اور مسلمانوں دونوں کے لیے اچھا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں