اسلام برائے ترقی
موجودہ زمانے میں انسان نے زبردست ترقی کی ہے۔ معاشی ترقی
کے ساتھ ساتھ انفرا اسٹرکچر بھی بہتر ہوا۔ دولت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔
مختلف بیماریوں کے علاج کے نئے نئے طریقے انسان نے ایجاد کیے،سفر کے لیے
نئے نئے ذرائع دجود میں آئے۔ communication کی دنیا میں زبردست انقلاب آیا
ہے،فطرت کی تسخیر وسیع پیمانے پر ہوئی ہے۔انسان چاند ہر جا پہنچا مریخ پر
جانے کی تیاریاں ہو رہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب دوسرے سیاروں پر بھی
انسان جا پہنچے۔اس ترقی کی معراج کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہے
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے
لیکن
ترقی کے موجودہ ماڈل میں کئی بنیادی خامیاں ہیں جسکی بدولت یہ ماڈل
انسانوں کے لیے مفید ثابت ہونے کے بجائے وبال جان بن گیا ہے۔انسانیت اس سے
ویسے فیض یاب نہیں ہو پارہی ہے جیسے ہونا چاہیے تھا۔
اس
ماڈل کی پہلی اور بنیادی خامی یہ ہے کہ یہ انسانی زندگی کے صرف ایک ہی
پہلو کی ترقی کی بات کرتا ہے اور دوسرے زیادہ اہم پہلووں کو نظر انداز کرتا
ہے۔اس ماڈل میں مادی ترقی کو ہی اصل ترقی سمجھا گیا ہے۔اسکے بر عکس اسلام
مادی ترقی اور روحانی ترقی میں اعتدال و توازن پیدا کرتا ہے۔ جس سے رحمت و
برکت کے دروازی کھلتے ہیں۔قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑی بڑی
طاقتور اور خوش حال قومیں جو اپنی فوجی و سیاسی قوت اور اپنی تعمیری
صلاحیتوں کے اعتبار سے بہت بلند مقام رکھتی تھیں، اس طرح تباہ و برباد ہوئی
کہ دنیا سے انکا وجود ہی ختم ہوگیا۔ اہم بات یہ ہے کہ اپنے عین عروج کے
زمانہ میں جب کہ انکے زوال کے آثار نظر نہیں آتے تھے وہ برباد ہو گئی۔
''
اور ہم نے جس بستی میں کسی نبی کو رسول بناکر بھیجا، اس کے باشندوں کو
مالی اور جسمانی مصائب سے آزمایاکہ وہ رجوع کریں پھر ہم نے دکھ کو سکھ سے
بدل دیا۔ یہاں تک کہ وہ پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ دکھ اور سکھ تو ہمارے
باپ دادوں کو بھی پہنچے ہیں۔ پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ اس کا
گمان نہیں رکھتے تھے۔ اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار
کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے، لیکن انھوں
نے جھٹلایا تو ہم نے ان کی کرتوتوں کی پاداش میں انھیں پکڑلیا۔'' (الاعراف
۷: ۴۹۔ ۶۹)
اسی طرح تاریخ
کا مطالعہ بھی قرآن کے اس قانون کی تصدیق کرتا کہ جن قوموں نے مادی ترقی کے
ساتھ روحانی ترقی میں توازن نہیں رکھا وہ برباد ہوئی۔ماضی میں یونان اور
روم کے انجام سے عبرت لی جا سکتی ہیا ور حال میں فرانس اسکی زندہ مثال
ہے۔مادی اور روحانی ترقی میں اعتدال نہ ہونے سے اجتماعی و سیاسی معاملات
میں فساد برپا ہوجاتا ہے۔اور ایسی خرابیوں کا ظہور ہوتا ہے جن کو قدرت کا
نظام زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتا۔ اور جب کوئی قوم برائی کی حدود پھلانگ
جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا قانون مکافاتِ عمل حرکت میں آ جاتا ہے اور اس
قوم کو برباد کردیا جاتا ہے۔ محترم جاوید احمد غامدی قرآن کے اس اصول کو
بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’قرآن مجید نے امت مسلمہ کی تشکیل کا جو نظام
پیش کیا ہے، اس میں مادی و سیاسی ترقی کو اس نے روحانی ترقی کے ساتھ بالکل
ہم آہنگ رکھا ہے۔ اس نے عقائد، عبادات، قانون اور اخلاق کا ایک نہایت
متوازن و معتدل نظام بنی نوع انسان کو عطا فرمایا ہے جس کو اختیار کرنے سے
وہ حقیقی سعادت یا ترقی حاصل ہو سکتی ہے جو دنیا و آخرت، دونوں کی صلاح و
فلاح کی ضامن ہے، لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس نظام کے چار جزو ہیں:
عقائد، عبادات، قانون اور اخلاق۔ یہ چاروں جزو اس نظام کے اجزاے لاینفک
ہیں۔ ان میں سے اگر کسی ایک کو بھی نظرانداز کر دیا جائے تو سارا نظام
بالکل درہم برہم اور بے برکت ہو کر رہ جائے گا۔ علاوہ بریں یہ حقیقت بھی
یاد رکھنی چاہیے کہ اس کے اجزاے ترکیبی میں اخلاق کا جو عنصر شامل ہے، وہ
صرف انفرادی یا محدود معاشرتی اخلاق ہی کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اس کے
اندر وہ اجتماعی و سیاسی اخلاق بھی داخل ہے جو کسی قوم کے عروج و زوال میں
اصلی عامل کی حیثیت رکھتا ہے۔اس نظام میں عقائد کا جو حصہ ہے، وہ ہم کو
زندگی کے بارے میں صحیح نظریات و تصورات دیتا ہے۔ ان نظریات و تصورات سے وہ
انفرادی و اجتماعی اخلاق وجود میں آتا ہے جو اصل مقصود ہے اور جس پر ہماری
دنیوی و اخروی سعادت کا انحصار ہے۔ عبادات کا نظام ان نظریات و تصورات کو
اور اسی کے ساتھ ساتھ اس اخلاق کو جو ان نظریات سے وجود میں آتا ہے،
استحکام اور پختگی بخشتا ہے۔گر کسی معاشرہ کی تربیت ٹھیک ٹھیک اسلام کے پیش
کردہ اس نقشہ کے مطابق ہو جس کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے تو وہ دنیا اور
آخرت، دونوں میں اس سعادت کا ضامن ہے جو انسان کی تخلیق کی غرض و غایت
ہے۔‘‘
اس ترقی کے ماڈل کی دوسری بنیادی خامی یہ ہے کہ
اس میں ترقی کا مرکزی نکتہ زیادہ سے زیادہ دولت پیدا کرنے کو رکھا گیا۔ اس
کے بر عکس اسلام میں ترقی کا مرکزی نکتہ انسانی زندگی کو رکھا گیا ہے۔
اسلام نے انسانی زندگی کو باقی تمام چیزوں پر مقدم رکھا ہے۔ روحانی قدروں
سے خالی سماج کا بنیادی ہدف جب یہ رکھ دیا جائے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دولت
پیدا کرے۔ تو انسان اسکے لیے کوئی بھی طریقہ اختیار کرسکتا ہے ا ور کسی بھی
حد تک گر سکتا ہے۔ پھر وہ انسانی تباہی کی لیے بننے والے ہتھیار ہو، یا
زندگی بچانے والی ادویات کی کالی بازاری،انسانوں کی اسمگلنگ ہو یا خواتین
کا استحصال، انسان کسی حد پر جا کر نہیں رکتا، اسکے سائنسی اکتشافات،
ٹکنالوجی،علوم و فنون ہر ایک کا بنیادی مقصد دولت کی پیداوار ہی قرار پاتا۔
اور پورا سماج اسی کے گرد گھومتا ہیں۔اس کا لازمی اور فطری نتیجہ یہ نکلنا
ہی تھا کہ دولت کچھ ہاتھوں میں مرکوز ہوجائے اور وہی ہمارے اپنے ملک میں
بھی ہوا۔ طاقتور طبقات سیاست اور حکومت پر قابض ہو گئے اور ایسی پالیسیاں
تشکیل دی جا رہی ہے جن کا فائدہ امیروں کو پہنچتا ہے۔غربت میں اضافہ ہورہا
ہے۔ دنیا میں اقتدار اور طاقت امیروں کے ہاتھوں میں مرکوز ہے۔عام آدمی کو
بنیا دی سہولتیں میسر نہیں۔ ہم اگر اپنے اطراف میں نظر دوڑائیں تو ایسے
مناظر نظر آئیں گے جن میں نادار، مسکین اور یتیم کوڑے سے کھانے پینے کی
چیزیں چنتے دکھائی دیں گے۔کسان خودکشی کر رہے ہیں اور حکومت سرمایہ داروں
کے قرض معاف میں کرنے مصروف ہیں۔غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار ایکوٹی اسٹڈیز
کی طرف سے جاری کردہ ’’انڈین ایکسکلوژن رپورٹ 2016‘‘ میں کہا گیا ہے کہ
پچھلے پچیس برسوں میں امیر اور غریب کے درمیان عدم مساوات میں اضافہ ہوا
ہے۔ ملک کو آزادی ملنے کے بعد سے ابتدائی چار دہائیوں کے مقابلے میں سن
انیس سو نوے کے بعد تین گنا اقتصادی ترقی ہوئی ہے۔ اسی طرح سن دو ہزار کے
بعد سے دس فیصد امیروں کی دولت میں بارہ گنا اضافہ ہوا ہے لیکن سب سے زیادہ
غریب دس فیصد افراد کی آمدنی محض تین فیصد بڑھ پائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق
سماج کے زیادہ بااثر طبقات کے مقابلے انتہائی پسماندہ سمجھے جانے والے
دلتوں، قبائلیوں اور مسلمانوں کے بڑے طبقے کو ترقی کا خاطر خواہ فائدہ نہیں
ملا ہے۔ ان تینوں مذکورہ طبقات کی سرکاری مراعات اور اسکیموں تک رسائی بھی
نسبتاً بہت کم رہی ہے۔زراعت کے حوالے سے ہی یہ بات بھی سامنے آئی کہ 2001ء
سے 2011ء کے درمیان تقریباً نو ملین کسانوں کو مختلف پریشانیوں کی وجہ سے
زراعت کا پیشہ ترک کرنا پڑا اور انہیں ذریعہ معاش کے لئے اپنا گھر بار چھوڑ
کر شہروں کی طرف نقل مکانی کے لئے مجبور ہونا پڑا۔ 1971ء میں نقل مکانی
کرنے والوں کی شرح 16.5 فیصد تھی جو 2011ء میں بڑھ کر 21.1160 فیصد ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق زراعت کی خراب صورت حال کی وجہ سے 1994ء سے 2014ء کے درمیان
تین لاکھ سے زائد کسانوں نے خود کشی کی۔‘‘پچھلے دنوں جھارکنڈ سے خبر آئی
کہ راشن کارڈ کے آدھار سے لنک نہ ہونے کی وجہ سے ایک خاندان کو راشن نہیں
ملتا اور راشن نہ ملنے کی وجہ سے اس گھر میں بھوک سے سسک سسک کر ایک بچی
نیدم توڑ دیتی ہے۔گزشتہ ہفتہ اتر پردیش کے بریلی ضلع سے خبر آتی ہے کہ ایک
بزرگ خاتون اس لئے اس دنیا سے چل بسیں کیونکہ راشن لینے کے لئے ان کو راشن
کی دکان پر جا کر فنگر پرنٹس لگانے تھے اور ان کی صحت اس بات کی اجازت نہیں
دے رہی تھی کہ ان کو وہاں لے جایا جا سکے۔ وہ راشن کی دکان جا نہیں سکیں
اس لئے ان کو راشن نہیں ملا اور راشن نہیں ملا تو ان کو اس دنیا سے جانا
پڑا۔ اس ترقی میں امیر امیر ہوتا جارہا ہے اور غریب بنیادی ضروریات کے لیے
بھی ترس رہا۔ دنیا کے ۰۹ فیصد وسائل و ذرائع (resources)پر ۰۱ فیصد لوگ
قابض ہے جبکہ باقی ۰۹ فیصد لوگ ۰۱ فیصد وسائل و ذرائع (resources) میں
زندگی گزارا کرنے پر مجبور ہے۔‘‘
موجودہ حالات کے
اندر وہ حقیقی ترقی جو دین و دنیا، دونوں کی فلاح و سعادت کی ضمانت دیتی ہے
وہ صرف مسلمانوں کے پاس ہے۔اس کا مظاہرہ کبھی پہلے مسلمانوں نے کیا تھا
اور اب بھی وہی اس کا مظاہرہ کر سکتے تھے، لیکن موجودہ زمانے میں اسکا کوئی
ماڈل موجود نہیں ہے۔موجودہ زمانے کی ترقی انسانیت کیلیے نافع ہونے کے
بجائے نقصان دہ ثابت ہورہی ہے۔ اسلام جس حقیقی ترقی کی بات کرتا ہے وہ ماضی
میں مسلمانوں کے دور میں ممکن ہوئی تھی۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ عہد وسطیٰ
کے اس دور کو یورپ dark ageقرار دیتا ہے۔اور مسلمان روشن اور تابناک دور
قرار دیتے ہیں۔مغرب دور جدید کو روشن دور کہتا ہے اور یہ ہمیں dark
ageدکھائی دیتا ہے۔
ہم دونوں میں ہیں اسی بات پہ تکرار
وہ دن کہے اور ہمیں رات لگے ہے

کوئی تبصرے نہیں