تحریکات اور ذیلی تنظیمیں
جب تحریکات اپنی ارتقائی منازل طے کرتی ہیں تو ہر تحریک کو
معاشرے کے مختلف طبقات کو متوجہ کرنے اور اس تک اپنی دعوت پہچانے کی لیے
الگ الگ پلیٹ فارم بنانے پڑتے ہیں۔ یہ کام غایت درجہ احتیاط سے کرنے کا
ہوتا ہے اس میں حکمت، منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ تدبر کی بھی شدید ضرورت
ہوتی ہے،کیونکہ اس طرز کے کا موں میں بعض اجتماعی اور نفسیاتی خرابیاں
تحریک میں در آنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اور اگر اس طرح کے کام غیر تربیت یافتہ
افراد کے ذمہ دے دیے جائیں توقیادت کا چسکا، تحریک کی ساکھ سے فائدہ اٹھانے
کا رجحان اور خود پسندی، اس طرح کی بیماریوں کی تحریک میں پیدا ہونے کے
امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ساتھ
ہی تحریک کا بنیادی کام یعنی فکر سازی بھی متاثر ہوتا ہے لیکن ظاہر ہے یہ
کام بھی تحریک کی ضرورت ہوتی ہے اس کے لیے مناسب طریقہ یہ ہے کہ تحریک یہ
تمام کام خود کرنے کے بجائے ذیلی تنظیمیں قائم کرے اور یہ کام ان کے سپرد
کر دےاور خود بنیادی کام ہی پر فوکس کرے۔یہ بات نہ ضروری ہےاور نہ ہی ممکن
کہ ہر کام تحریک خود ہی کرنے بیٹھ جائے۔
ذیلی
تنطیمیں قائم کرتے وقت بھی چند باتیں پیش نظر رہنی چاہیے۔ تنطیمیں قائم
کرتے وقت ترجیح، تدریج اور توازن قائم کریں۔ ذیلی تنظیمیں بھی اتنی نہ ہوں
کہ ان پر توجہ دینا ممکن نہ ہوپائے۔ ذیلی تنظیموں کو کام کرنے کی لیے
آزادی دی جانی چاہئے ۔
ہندوستان
کے تناظر میں سنگھ کا ذیلی تنظیموں کا تجربہ طویل ہے۔اس معاملہ میں سنگھ
کا کلچر وسیع ہے۔سنگھ ذیلی تنظیمیں بنانے اور انھیں آذادی دینے کا قائل
ہے۔بارہا یہ ہوا کی ذیلی تنظیمیں سنگھ سے بغاوت کرجاتی ہیں اور سنگھ انہیں
آزاد کرکے اپنے پرچارکوں کو واپس بلا لیتا ہے۔ اس کے باوجود سنگھ ذیلی
تنظیموں کو آزادی دینا پسند کرتا ہے۔
ذہین
اور با صلاحیت لوگ نظم اور ڈسپلن تو پسند کرتے لیکن قید انھیں گوارا نہیں
ہوتی۔بے جا اور غیر ضروری قید میں صلاحتیں دم توڑ دیتی ہے۔
بندگی میں گھٹ کہ رہ جاتی ہے ایک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحر بے کراں ہے زندگی
قیادت
کوابھرنے اور اپنے جوہر دکھانے کی لیے آزادی درکار ہوتی ہے۔غیر ضروری نظم
سے باندھ کر نیک و سعید کارکن تو پیدا کیے جاسکتے ہیں لیکن انقلابی تحریکات
کی لیے جس طرح کے افراد درکار ہیں وہ کھلی فضا میں ہی پروان چڑھتے ہیں جس
طرح دریا کی روانی اسے زندگی عطا کرتی ہے اور جمع ہوا پانی بدبو پیدا کرتا
ہے اسی طرح آٓزادی ارتقاء لاتی ہے اور قید میں صلاحتیں دم توڑ دیتی ہے۔
مجھ سے تیرے حصار میں ٹہرا نہ جائے گا
میدان میرے واسطے میدان زندگی

کوئی تبصرے نہیں