روزہ کا اجر
اسلام میں عقائد کے بعد سب سے زیادہ اہمیت عبادات کی ہے۔
اسلام نے کئی عبا دتوں کو فرض قرار دیا جن کا بنیادی مقصد اللہ کی بندگی کا
اظہار ہے لیکن ساتھ ساتھ ان عبادات سے اطاعت اور فرمانبرداری کا ایسا
مزاج تشکیل پاتا ہے جو عابد کی پوری زندگی کو نیک عمل کے سانچہ میں ڈھال
دیتا ہے۔یوں تو تمام ہی عبادتوں کی غیر معمولی فضیلت بیان ہوئی لیکن ان
تمام عبادات میں صرف روزہ کو یہ مقام حاصل ہے کہ اس کی نسبت اللہ تعالی کی
طرف خاص ہے ۔حدیث قدسی میں آیا ہے ’’ ہر نیکی کا اجر دس سے سات سو گنا تک
ہوگا مگر روزہ رکھنا (یہ ایک ایسا عمل ہوگا جس کے اجر کی کوئی حد نہیں)
میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دونگا۔‘‘
اس
حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نیکی کا اجر اخلاص اور صدق نیت کی وجہ سے
دس گنا سے بڑھا کر سات سو گنا کر دیا جاتا ہے لیکن روزہ کا معاملہ اس سے
الگ ہے اس کا اجر اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے اور جتنا جاہے گا عطا
کرے گا۔
روزہ کی یہ فضیلت دو وجہوں سے نظر آتی ہے
اول یہ کہ روزہ باطن کے عمل کا نام ہے اور دوسرے یہ کہ روزہ دشمن خدا یعنی شیطان پر غلبہ کا نام ہے
روزہ کھانے پینے، شہوانی خواہشات سے رکنے کا نام ہے یہ تمام اعمال باطنی ہے۔ یہ ایسے اعمال نہیں ہے جوآنکھ سے نظر آئے۔
باقی
تمام عبادتیں آنکھ سے نظر آنے والی ہیں۔ نماز میں آدمی کو خدا کے علاوہ
خلق خدا بھی دیکھتی ہے، زکوٰۃ اگر خفیہ طریقہ سے بھی دی جائے تو کم از کم
لینے والے کو تو خبر ضرور ہوتی ہے۔ حج تو ہے ہی مکمل طور سے اجتمائی عبادت
،لیکن ان تمام کے بر عکس روزہ صرف اللہ اور بندہ کے درمیان ہوتا ہے۔
آدمی تنہائی میں کوئی چیز کھا یا پی لے تو کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا۔
روزہ
کی مدد سے انسان کو شیطان پر غلبہ پانے میں مدد ملتی ہے۔شیطان بندگان خدا
کو گمراہ کرنے کے لیے شہوات اور خواہشات ہی کے راستے اختیار کرتا ہے۔کھانے
پینے سے شہوات اور خواہشات کو قوت حاصل ہوتی اور بھوک سے ان کا زور ٹوٹتا
ہے۔روایت میں یہ بات آئی ہے کہ ’’شیطان ابن آدم کی رگوں میں خون کی طرح
دوڑتا ہے اس کے راستے بھوک اور پیاس کے ذریعہ تنگ کرو‘‘
روزہ
کی فضیلت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ روزہ آدمی کے اندر صبر پیدا کرتا ہے ۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ ’’ روزہ صبر کا نصف ہے‘‘ اور صبر کے بارے میں
ارشاد نبوی ہے ’’صبر آدھا ایمان ہے‘‘۔ صبر کے تعلق سے اللہ تعالیٰ کاارشاد
ہے ’’إِنَّمَا يُوَفَّى ٱلصَّـٰبِرُونَ أَجۡرَهُم بِغَيۡرِ حِسَابٍ۬ ’’صبر
کرنے والوں کو ان کا صلہ بے شمار ہی ملے گا‘‘۔ شاید اس لیے بھی اللہ
تعالیٰ نے روزہ کا اجر اپنے پاس محفوظ رکھا کہ وہ صبر کرنے والون کو بے
شمار جزا عطا کرے گا۔

کوئی تبصرے نہیں