روزہ کے درجات
امام غزالی نے احیاء العلوم میں روزہ دار کے ضبط نفس،پرہیز گاری اور اخلاص کی بنیاد پر روزہ کے تین درجات بیان کیے ہیں
1-عوام کا روزہ
2-۔خواص کا روزہ
3۔مخصوص ترین لوگوں کا روزہ
روزہ
کا پہلا درجہ تو یہ ہے کہ پیٹ اور فرج کو قابو میں رکھا جائے۔اس درجہ میں
روزہ دار ان چیزوں سے پرہیز کرتا ہے جو عام دنوں میں جائز ہوتی ہے جیسے
کھانا اور پینا۔روزہ دار اپنی خواہشات اور اپنا کھانا پینا اللہ کی رضا کے
لیے ترک کر دیتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اللہ کی محبت اور قربت اس کے نصیب
میں آتی ہے۔ اسی لیے آنحضرتﷺ نے فرمایا ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ
میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی خوشبو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ اچھی
ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ روزہ دار اپنی خواہش اور کھانا پینا صرف میرے
لیے چھوڑتا ہے اس لیے روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دونگا‘‘۔
یہاں تک کہ روزہ دار جو پیاس کی تکلیف اللہ تعالیٰ کے لیے برداشت کرتا ہے
اس کے لیے جنت میں دروازہ خصوصی طور پر ریزرو کر کے رکھ دیا گیا ہے حدیث
میں آیا ہے کہ ’’جنت کا ایک دروازہ ہے ریان (سیرابی کا دروازہ) اس دروازے
سے روزہ دار کے علاوہ کوئی اور داخل نہ ہوگا ۔ روزہ دار سے اسکے روزہ کے
بدلے میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا وعدہ کیا گیا ہے‘‘ ۔
اسی
طرح روزہ دار اپنی شہوانی خواہشات پر بھی قابو رکھتا ہے تاکہ اللہ سے اپنا
تعلق مضبوط کر سکے ۔ روزہ شہوت کے زور کو توڑتا ہے اور تعلق باللہ کے لیے
شہوت کے زور کو توڑنا لازمی ہے ۔ امام غزالی روزہ کے اسرار بیان کرتے ہوئے
فرماتے ہیں ’’شہوات کا تغیر یہ ہے کہ ان کا قلع قمع کیا جائے اس لیے کہ
شہوات شیاطین کی چراگاہیں ہیں۔ جب تک یہ چرا گاہیں ہری بھری اور سر سبزو
شاداب رہیں گی شیا طین کی آمدورفت بند نہیں ہونگی اور جب تک انکی آمدورفت
جاری رہی گی اللہ تعالیٰ کا جلال ظاہر نہ ہوگا حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں
اگر شیاطین انسانوں کے دلوں میں آنا جانا نہ رکھتے تو وہ آسمان کی
بادشاہت دیکھنے لگتے ‘‘
روزہ
کا دوسرا درجہ اس سے ایک قدم آگے کی منزل ہے یعنی آدمی پیٹ اور نفسانی
خواہشات کے ساتھ ساتھ اپنے اعضاء کو بھی قابو میں رکھے ۔ آنکھ،کان،زبان،
ہاتھ ،پاؤں اور دوسرے اعضاء کو گناہ سے باز رکھا جائے۔ آنکھ کا روزہ یہ
ہوگا کہ نظریں نیچی رہیں اور حرام اور مکروہ چیزوں کو نہ دیکھا جائے۔ ان
چیزوں کو بھی دیکھنے سے پرہیز کیا جائے جو حرام تو نہیں لیکن ان سے خدا کی
یاد سے توجہ ہٹتی ہو۔آپﷺﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ’’ نگاہ ابلیس کے زہر میں
بجھے ہوئے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔جو شخص اللہ کے ڈر سے اسے چھوڑ دے گا
اللہ تعالیٰ اسے ایسا ایمان عطا فرمائے گا جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں
محسوس کرے گا‘‘
زبان کا
روزہ یہ ہوگا کہ آدمی جھوٹ،غیبت،چغلی،بہتان،فحش گوئی اور ہر طرح کی زبان
کی آفات سے محفوظ رہے ۔ زبان زیادہ سے زیادہ ذکر الٰہی میں مشغول
رہے۔ثفیان ثوری فرماتے ہیں ’’ غیبت روزے کو بیکار کر دیتی ہے۔‘‘ مجاہد ؒ
فرماتے ہیں دو عادتین روزہ خراب کر دیتی ہیں ایک غیبت دوسری جھوٹ ‘‘۔ اسی
لیے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ’’ روزہ ایک ڈھال ہے اگر تم میں سے کوئی روزے
سے ہوتو فحش گوئی نہ کرے اور نہ جہالت سے پیش آئے اگر کوئی شخص لڑے یا
گالم گلوچ کرے تو کہہ دینا چاہیے کہ میں روزہ سے ہوں‘‘
دوسری
جگہ فرمایا ’’ جس نے روزہ رکھ کر جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں
چھوڑا اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ بھو کا پیا سا رہے ‘‘ روزہ صرف
بھوکے پیا سے رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ بھوک پیاس کے ذریعہ اپنے نفس کو
قابو میں کرنے کا نام ہے لیکن اگر آدمی بھوکا پیا سا تو رہے لیکن نفس بے
قابو ہی رہے تو ایسے روزے کا کیا حاصل اسی لیے آپﷺ نے فرمایا ’’ کتنے ہی
روزہ دار ہے جنکو اپنے روزہ سے پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں اور کتنے ہی
عبادت گزار ہیں جنکو اپنے قیام میں شب بیداری کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
روزہ
کا تیسرا درجہ یہ ہے کہ دل کو فاسد خیالات اور دنیاوی تفکرات سے بالکل پاک
رکھا جائے تمام توجہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف مرکوز ہو۔ اما م
غزالی یہاں تک لکھتے ہیں کہ ’’ اس طرح کا روزہ اللہ اور یوم آخرت کے علاوہ
کسی اور چیز میں فکر کرنے سے ٹوٹ جاتا ہاں اگر دنیا دین کے لیے مقصود ہو
تو اس میں فکر کرنے سے روزہ باطل نہیں ہوتا کیونکہ ایسی دنیا میں دین کے
لیے زاد راہ ہے‘‘۔ اس طرح کے روزہ کااصل مقصد یہ کہ انسان دنیا سے کٹ کر دل
کی گہرائیوں سے اللہ کی طرف متوجہ ہو اور غیر اللہ سے اعراض کرے۔

کوئی تبصرے نہیں