سرِ شام کیا وہی شمسؔ تھا،جو ابھی یہاں سے گزر گیا
منفرد لب و لہجے کے شاعر شمس جالنوی طویل عمر کے بعد اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ شمس جالنوی کہ شخصیت اردو شاعری کی دنیا میں ایک خوبصورت آواز اور اثر انگیز شاعر کی حیثیت سے متعارف تھی۔شمس جالنوی کی خوبی یہ تھی کہ انھوں نے تین مصرعوں کو ایک مصرعہ بناکر غزل میں نیا تجربہ کیا۔ انکی مشہور غزل اسی پیرائے میں ہے۔
زرد زرد چہرے ہیں
زخم دل کے گہرے ہیں
وقت ہے تماشائی
وہ تسلی دیتے ہیں
زخم پر نمک رکھ کر
خوب ہے مسیحائی
بزم عیش سے فرصت
جب ملے چلے آنا
بے کسوں کی دنیا میں
شمس جالنوی کے یہاں اظہار کی سنجیدگی بھی ہے اور درد کی کسک بھی۔ انکے یہاں بردباری بھی ہے اور چھبن بھی۔وہ زندگی کی تلخیوں کا اظہار خوبصورت انداز میں کرتے تھے اور سننے والے اسے محسوس بھی کرتے تھے۔
دم بخود رہ گیا میں دیکھ کر اپنوں کا سلوک
شمس دامن میں میرے یاروں نے ڈالے پتھر
شمس جالنوی ایک فطری شاعر تھے ۔ انکے کلام میں تصنع کے بجائے زندگی کی حقیقتوں کا رنگ جھلکتا تھا۔
ہوش میں آ مجبوری کیسی
حسن عمل سے دوری کیسی
کعبہ دل کو توڑنے والے
تم کو ملو منظوری کیسی
غیر پہ آخر تکیہ کب تک
ہوگی تمنا پوری کیسی
شمس تمھارے ہوتے ہوئے بھی
چاروں طرف بے نوری کیسی
زرد زرد چہرے ہیں
زخم دل کے گہرے ہیں
وقت ہے تماشائی
وہ تسلی دیتے ہیں
زخم پر نمک رکھ کر
خوب ہے مسیحائی
بزم عیش سے فرصت
جب ملے چلے آنا
بے کسوں کی دنیا میں
شمس جالنوی کے یہاں اظہار کی سنجیدگی بھی ہے اور درد کی کسک بھی۔ انکے یہاں بردباری بھی ہے اور چھبن بھی۔وہ زندگی کی تلخیوں کا اظہار خوبصورت انداز میں کرتے تھے اور سننے والے اسے محسوس بھی کرتے تھے۔
دم بخود رہ گیا میں دیکھ کر اپنوں کا سلوک
شمس دامن میں میرے یاروں نے ڈالے پتھر
شمس جالنوی ایک فطری شاعر تھے ۔ انکے کلام میں تصنع کے بجائے زندگی کی حقیقتوں کا رنگ جھلکتا تھا۔
ہوش میں آ مجبوری کیسی
حسن عمل سے دوری کیسی
کعبہ دل کو توڑنے والے
تم کو ملو منظوری کیسی
غیر پہ آخر تکیہ کب تک
ہوگی تمنا پوری کیسی
شمس تمھارے ہوتے ہوئے بھی
چاروں طرف بے نوری کیسی


کوئی تبصرے نہیں