Header Ads

Header ADS

راحت اندوری - جب میں مرجاؤں میری الگ پہچان لکھ دینا

 

اردو دنیا کے مشہور شاعر راحت اندوری آج دنیا سے رخصت ہوگئے۔

شام ڈھلے ہر پنچھی کو گھر جانا پڑتا ہے
کون خوشی سے مرتا ہے،مرجانا پڑتا ہے

راحت اندوری اردو دنیا کے بڑے شاعر تھے حالانکہ انکی شاعری ہمیشہ سے ادبی حلقوں میں تنقید کا موضوع رہی۔راحت اندوری مشاعروں کے شاعر تھے اور انکی شاعری کو اسی اعتبار سے سننا چاہیے ۔وہ ایک عوامی شاعر تھے۔ اردو ادب میں نظیر اکبر آبادی کو عوامی شاعر کہا جاتا ہے لیکن جو عوامی مقبولیت راحت کے حصہ میں آئی اردو شاعری کی تاریخ میں شاید ہی ویسی عوامی مقبولیت کسی اور شاعر کے حصے میں آئی ہو ۔پچھلی کئی دہائیوں سے راحت اندوری کی شاعری کو مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا رہا ہے۔ واقعہ یہی ہے کہ مشاعرے سے راحت اندوری کے چلے جانے کے بعد پنڈال خالی ہو جاتا تھا۔ اردو کی اس بدحالی کے دور میں غیر اردو داں طبقہ بھی راحت اندوری کی شاعری سے محظوظ ہوتا رہا ہے۔ اپنے آخری زمانے میں انکی مقبولیت مسلم عوام سے نکل کر ملک کی دیگر عوام میں بھی پھیل گئی تھی۔
ایسا نہیں تھا کہ راحت اندوری اردو ادب ،اسکے مشاعرے اور اسکی تاریخ سے واقف نہیں تھے راحت اندوری کی پی ایچ ڈی ہی اردو مشاعروں پر تھی لیکن وہ اردو کی بدلتی صورتحال سے واقف تھے۔

راحت اندوری نے مشاعرے اور شاعری کو نیا رخ دیا۔ بدلتے زمانے کے ساتھ شاعری کے پیٹرن اور انداز کو بھی بدل دیا۔ دنیا میں کامیابی انھیں کے حصے میں آتی ہئے جو تبدیلی کو وقت پر اپنا لیتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں اردو شاعر اسی کشمکش کا شکار ہیں جسے حفیظ نے بیان کیا تھا

مانگے ہے حفیظ اور ہی کچھ شعر کا بازار
کچھ اور طلب شعر کا میعار کرے ہے

راحت اندوری اس کشمکش کے شاعر نہیں تھے انکے سامنے ہدف واضح تھا۔ وہ عوامی شاعر تھے اور عوام کے دلوں پر انھوں نے راج کیا۔ بہر حال اردو دنیا کا ایک معروف اور ایک درجہ میں متنازع شاعر دنیا سے رخصت ہوگیا۔

آبادیوں میں ہوتے ہیں برباد کتنے لوگ
ہم دیکھنے گئے تھے تو برباد ہو گئے

میں پربتوں سے لڑتا رہا اور چند لوگ
گیلی زمین کھود کر فرہاد ہو گئے

بیٹھے ہوئے ہیں قیمتی صوفوں پہ بھیڑیے
جنگل کے لوگ شہر میں آباد ہو گئے

لفظوں کے ہیر پھیر کا دھندہ بھی خوب ہے
جاہل ہمارے شہر میں استاد ہو گئے


 

 

کوئی تبصرے نہیں

merrymoonmary کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.