Header Ads

Header ADS

گاندھی جی اور آر ایس ایس


بڑی شخصیات کے  ہر زمانے میں جہاں بڑی تعداد میں ماننے والے ہوتے ہیں وہیں ایک بڑی تعداد انکے مخالفین کی بھی ہوتی ہےُ۔ مخالفت بعض اوقات افکار و نظریات کی بنیاد پر ہوتی ہےاور کبھی شخصی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ مخالفتوں کے اسباب کم یا ختم ہوتے جاتے ہیں اور مخالف ،چاہنے والوں میں بدل جاتے ہیں۔

مہاتما گاندھی ہندوستانی تاریخ کی بڑی شخصیت ہے۔ اور شاید جدید ہندوستانی تاریخ کی سب سے بڑی۔ انکی زندگی میں بھی اور انکے مرنے کے بعد بھی لاکھوں لوگ انھیں اپنا رہنما تسلیم کرتے رہے ہیں۔

سنگھ، گاندھی جی کے زمانے میں انکی شدید مخالفت کرتا رہا۔ یہ مخالفت شخصی نہیں بلکہ طریقہ کار اور موقف کی بنیاد پر تھی ۔سنگھ کے ایجنڈے میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی جبکہ گاندھی جی مسلمانوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے تھے۔ ہندوتوادیوں کا احساس تھا کہ گاندھی جی مسلمانوں کی منہ بھرائی کی خاطر ہندوؤں کے مفادات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں اسی احساس کی بناء پر سنگھ اور ہندو مہاسبھا سے ماضی میں جڑے رہے گوڈسے نے بٹوارے کے پانچ مہینے بعد جنوری 1948 میں برلا ہاؤس کے لان میں گولی مارکر گاندھی جی کو قتل کر دیا ۔ گوڈسے نے پہلے گاندھی جی کے عظمت کے اعتراف کے طور پر جھک کر انہیں سلام کیا اور پھر گولی چلادی۔ گاندھی کے قتل کے بعد گوڈسے نے فرار ہونے کی کوشش نہیں کی بلکہ وہیں کھڑا رہا۔

گاندھی جی کے قتل کے الزام میں گوڈسے  کو سزائے موت دی گئی ۔ تختہ دار پر چڑھتے وقت گوڈسے کے پاس بھگواجھنڈا ، غیر منقسم ہندوستان کا نقشہ اور ،ستم ظریفی دیکھیے، گاندھی جی کی روحانی ڈکشنری گیتا تھی۔ 

گاندھی جی کے قتل کے فوری بعد سردار پٹیل نے جو  خود سنگھ کے  چاہنے والوں میں سے تھے  سنگھ پر پابندی لگادی۔ سنگھ سر چالک سمیت ہزاروں لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ شیاما پرساد مکھر جی کو لکھے گئے خط میں سردار پٹیل نے لکھا 
"میرے ذہن میں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہندو مہاسبھا کا انتہا پسند گروپ اس سازش میں شریک تھا۔ آر ایس ایس کی سرگرمیاں ریاست اور حکومت کے لیے خطرہ بن چکی ہیں"

پٹیل نے اپنا موقف گولوالکر کو واضح کرتے ہوے لکھا " ہندوؤں کو منظم کرنا اور انکی مدد کرنا ایک بات ہے لیکن اسکے  نام پر معصوم مردوں،عورتوں اور بچوں پہ ظلم  کرنا بالکل ہی دوسری بات ہے ۔۔۔۔ انکی تمام تر تقریریں زہر آلود ہوتی ہیں ۔ہندووں کو منظم کرنے اور اپنی حفاظت کے لیے انھیں تیار کرنے کے لیے ماحول زہر آلود کرنا ضروری نہیں ہے ۔اسی زہر کی بدولت ملک کو گاندھی جی جیسی بیش قیمت جان کی قربانی دینی پڑی ۔"

یہ ملک کی اس زمانے کی صورتحال تھی آج گاندھی جی کے قتل کے اکہتر سال بعد صورتحال بالکل مختلف ہے ۔ سنگھ ہندوستان کے طول و عرض میں پھیل چکی ہے۔ گوڈسے کو وہ عزت اور سمان مل رہا ہے جو شاید دنیا کے کسی Assassinکو نہیں ملا۔ سنگھ کی مضبوط حکومت ملک میں قائم ہے اور اسکا پرچارک دوسری مرتبہ ملک کا وزیر اعظم بن چکا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر سنگھ کا نقطہ نظر گاندھی جی کے تعلق سے بدل گیا ہے۔
اس سال 2019 میں گاندھی جی کا150واں جنم دن تھا۔گاندھی جی کا  جنم دن جس دھوم دھام سے بی جے پی اور سنگھ نے منایا ویسا کانگریس بھی شاید نہیں منا پاتی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی خود علی الصبح راج گھاٹ، گاندھی جی کی سمادھی پر شردھانجلی دینے پہنچ گئے۔
وزیر اعظم نے گجرات میں سابر متی آشرم کا دورہ کیا  جہاں گاندھی جی کی یاد میں پوسٹل اسٹمپ اور یادگار سکہ جاری کیا گیا۔ رات میں وزیر اعظم دس ہزار سے زیادہ تعداد میں مختلف گاؤں سے آئے سرپنچ یا انکے نمائندوں سے باپو کی تعلیمات پر خطاب کرنے والے تھے۔
بی جے پی پارٹی صدر امت شاہ نے رام لیلا میدان پہنچ کر ملک بھر میں گاندھی سنکلپ یاترا کا افتتاح کیا۔ جو 2اکتوبر سے شروع ہوکر 30جنوری یعنی گاندھی جی کی برسی پر ختم ہوگی۔جس میں ہر بی جے پی ممبر آف پارلیمنٹ کو لازم ہوگا کہ 150کلو میٹر کا فاصلہ پندرہ دن  میں طے کرے ۔مجموعی طور پر پانچ لاکھ کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا جانا ہے ۔ 
اس موقع پر مختلف ریاستوں میں مختلف پروگرامز کیے گئے۔ فرانس ،بنگلہ دیش اور کئی دوسرے ملکوں کے ہندوستانی سفارت خانوں میں گاندھی جینتی کا اہتمام کیا گیا ۔
اس موقع کو مزید یادگار بنانے کے لیے ملک  بھر میں غیر سنگین جرائم میں ملوث کئی سو قیدیوں کی جیل سے آزادی کا اعلان کیا گیا۔
اس خصوصی موقع پر نیویارک ٹائمز میں وزیر اعظم نریندر مودی کا مضمون"why India and world need Gandhi" شائع ہوا۔ 
سنگھ کے ترجمان پنچ جنیہ اور آرگنائزر میں گاندھی جی کی شان میں مضامین شائع ہوئے ۔ سنگھ سر چالک موہن بھاگوت اور سنگھ کے دانشور جی ایم ویدیا نے گاندھی جی کی خدمات اور زندگی کو خوب سراہتے ہوئے مضامین لکھے۔

ایک فطری سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ سنگھ کا نظریہ گاندھی جی کے تعلق سے بالکل بدل گیا ۔ ایک امکانی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ گاندھی جی کو endorseکرکے سنگھ اپنے دامن پر لگے انکے قتل کے دھبے کو دھونا چاہتا ہے ۔ دوسری امکانی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ سنگھ اپنے آپ کو ہندستان اور بیرون ہندوستان میں مزید قابل قبول بنانے کے لیے گاندھی جی کا سہارا لے رہا ہو جس طرح وہ دوسری ہندو شخصیات کو استعمال کرتا رہا ہے۔ 
سنگھ یہ تاثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ گاندھی جی بھی نرم ہندوتوا کے قائل تھے۔ جس طرح اس سے پہلے وہ شیواجی مہاراج، رانہ پرتاب اور گرو گوبند سنگھ کی سیاسی لڑائیوں کو ہندوتوا کی لڑائیاں بتانے میں کامیاب ہوچکا اب اسی طرح گاندھی جی کا بھی بھگوان کرن کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

گاندھی جی ایک شخصیت کا نہیں بلکہ ایک تصور کا نام ہے اور وہ تصور یہ ہے کہ یہ ملک صرف ہندووں کا نہیں بلکہ تمام ہندوستانیوں کا یکساں ہے۔
پارلیمانی سیاست کے ذریعہ ہندوستان بھر میں قبضہ کرنے کے بعد سنگھ ہندوستان کی خیالی تصویر کو بدلنا چاہتا ہے۔ 
یہ تصویر گاندھی،نہرو،امبیڈکر اور آزاد سے بنتی ہے ۔ 
سنگھ یہ تصور دینا چاہ رہا ہے کہ ہندوتوا ساورکر کے ذہن کی اپج نہیں ہے بلکہ قدیم زمانے سے آج تک  ہندوؤں کی غالب اکثریت ہندوتوا کی ہی علمبردار رہی ہے۔ آزادی کے بعد نہرو اور اسکی طرح کے بعض مغرب زدہ لوگوں نے ہندوستانی عوام کی خواہشات کے بر عکس اسے ایک سیکولر جمہوری ملک بنا دیا۔ اس لیے اب ضروری ہے کہ ماضی کی اس غلطی کو درست کیا جائے ۔ اگر فادر آف نیشن کے تعلق سے یہ بات عام کردی جائے کہ وہ نرم ہندوتوا کے قائل تھے تب ہندوستان کی نئی اور بھگوا تصویر بہت آسانی سے بن سکتی ہے۔ 

ستر سال ملک و قوم کی زندگی میں چھوٹا عرصہ ہوتا ہے لیکن اس عرصے میں ہندوستان کتنا بدل گیا۔کانگریس ہندو ووٹرز کی خوشنودی کے لیے ان ہی مسلمانوں سے دوری بنارہی ہے جنکی منہ بھرائی کے الزام میں گاندھی قتل ہوئے ۔ آر ایس ایس جس پر گاندھی کے قتل کے الزام میں پابندی لگی آج اس کی وراثت کی دعویدار بن کر کھڑی ہے۔ 

رت بدلی تو زمیں کے چہرے کا غازہ بھی بدلا  
رنگ مگر خود آسمان نے بدلے کیسے کیس


کوئی تبصرے نہیں

merrymoonmary کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.