Header Ads

Header ADS

اسلام اور تلوار

اسلام کی عام تصویر یہ بنادی گئی ہے کہ اسلام تلوار سے یعنی  قوت کے زور پر پھیلا ہے۔
یہ ماضی کا وہی مفروضہ ہے جو حال میں اسلام اور دہشت گردی کے پروپیگنڈہ کے نام سے ساری دنیا میں جاری ہے۔ اور اس پروپیگنڈے کا ایک شاطرانہ بیان یہ ہے کہ  تمام مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں لیکن تمام دہشت گرد مسلمان ہیں۔ یہ افسانہ ساری دنیا میں پھیلا دیا گیا کہ مسلمانوں کی تاریخ ہی ظلم اور جبر کی تاریخ ہے ۔ اس قوم کے افسانوں سے خون کی بو آتی ہے۔ 

اس  پروپیگنڈہ کو پھیلانے میں یہ بات بھی معاون ثابت ہوئی کہ مسلمانوں کو سیاسی غلبہ انکی دعوت کی قبولیت کے ساتھ ہی حاصل ہوگیا تھا۔ اصل بات سمجھنے کی یہ ہے کہ تلوار کے زور سے اسلام نہیں پھیلا بلکہ مسلمانوں کی حکومتیں پھیلی ہیں۔ اور یہ کوئی غلط بات بھی نہیں ہے۔ کیونکہ دنیا میں حکومتیں ہمیشہ طاقت ہی کے زور سے پھیلا کرتی ہیں۔ کیا دنیا میں کوئی حکومت دعوت سے بھی پھیلی ہے؟ سکندر اعظم سے لیکر نیپولین تک، چنگیز خان سے لے کر تیمور لنگ تک اورچندر گپت موریہ سے لےکر اشوک تک سب نے اپنی حکومت طاقت ہی کے زور سے قائم کی۔ موجودہ زمانے میں جو استعماری حکوتیں قائم ہوئی ہیں وہ بھی قوت ہی کے زور سے قائم ہوئیں۔ چاہے عظیم تر برطانیہ ہو، جسکے سامراج میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا، یا پھر اشتراکیت کا سرخ فتنہ، ہر ایک نے قوت ہی کے ذریعہ سے غلبہ حاصل کیا ہے. 

دوسری چیز جس کی وجہ سے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا جاتا ہے، عصر حاضر میں کچھ  مسلم تنظیموں کا ہتھیار اٹھا لینا ہے۔ حالانکہ ان میں سے بعض تنظیمیں موجودہ سپر پاورس ہی نے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلیے قائم کی ہیں. جب کہ بعض دوسری تنظیمیں جنہوں نے دنیا کے مختلف خطوں میں بحالت مجبوری ہتھیار اٹھائے ان میں سے اکثریت ظلم وجبر کا شکار تھی۔انکے ساتھ سیاسی بے انصافیاں نہ ہوئی ہوتی تو شاید یہ نوبت نہ آتی۔ اگر اسرائیل کا
ناجائز وجود  قائم نہ کیا جاتا تو حماس وجود ہی  میں نہیں آتی۔ دنیا میں جہاں بھی سماجی نا انصافیاں ہوتی رہی ہیں وہاں رد عمل کے طور پر لوگ ہتھیار اٹھاتے رہے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ ان کا مذہب کیا ہے۔

سماجی بے بسی ہر شہر کو مقتل بناتی ہے
کبھی نکسل بناتی ہے کبھی چنبل بناتی ہے۔

جہاں تک اسلام کی اشاعت کا سوال ہے اس کے وہی تین اسباب ہیں جن کا ذکر مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے کیا ہے. 
ایک اسکے سادہ عقائد اور دلکش عبادات۔ دوسرے مسلمان کی زندگی میں اسکی تعلیم کے حیرت انگیز نتائج۔ اور تیسرے مسلمانوں کا ذوق تبلیغ۔
یہی تین چیزیں ہیں جنکی وجہ سے اسلام دنیا میں غالب ہوا۔مسلمان چاہ کر بھی جبر نہیں کر سکتے تھے۔ کیونکہ اسلام کا بنیادی اصول یہی ہے کہ یہ دنیا آزمائش کے اصول پر بنی ہے اگر کسی کو جبراً اسلام قبول کروایا جائے تو یہ بات اللہ تعالٰی کی اسکیم کے خلاف ہوگی۔ قرآن مجید اس قاعدے کو صاف طور پر بیان کرتا ہے


 جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کس کا عمل اچھا ہے(الملک 2:67)

 اس امتحان کا بنیادی قاعدہ یہ ہے کہ انسان کو ارادے، انتخاب اور عمل کی مکمل آزادی دی  جائے۔ اگر کسی فرد کی یہ آزادی ہی چھین لی جائے تو پھر وہ اللہ تعالٰی کے حضور جواب دہ نہیں ہوگا۔اسلام کا جزا اور سزا کا پورا قانون ہی اسی اصول کے گرد گھومتا ہے۔ قران صاف طور پر کہتا ہے
دین میں کسی پر کوئی زبردستی نہیں(سورہ بقرہ) 

دوسری جگہ فرمایا

کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور انسان کی لیے کچھ نہیں مگر وہ جس کی اس نے سعی کی اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی پھر اس کا صلہ دیا جائے گا(نجم)

 انبیاء اکرام پر بھی یہ بات واضح کردی گئی کہ وہ کوئی داروغہ نہیں  بلکہ ان کا کام صاف طور سے پہنچا دینا ہے پھر اسکے بعد لوگ خود ذمہ دار ہیں
اب جس کا دل چاہے مانے اور جس کا دل چاہے انکار کردے(کہف. 29:18)

دین کی تبلیغ کے بارے میں اسلام کابنیادی قاعدہ یہی ہے۔مسلمان ہمیشہ اسی اصول کے پابند رہے ۔ اس لیے تاریخ سے ایسی کوئی مثال پیش نہیں کی جا سکتی کہ مسلمانوں نے جبراً کوئی تبدیلی مذہب کروایا ہو۔ سوامی ویکانند لکھتے ہیں کہ " یہ بات احمقانہ ہوگی اگر کہا جائے کہ ہندو قوت کے زور سے مسلمان بنا ئے گئے". رہا سوال  اس الزام کا کہ اسلام  جبر سے پھیلا ہےتو اس کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ یہ الزام ان لوگوں کی طرف سے لگایا جن کے اپنے ہاتھ معصوموں کے خون سے رنگے ہیں۔ اب ان سے صرف یہی بات کہی جا سکتی ہے 

اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت 
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

کوئی تبصرے نہیں

merrymoonmary کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.