ایک تھا سنت ایک تھا ڈاکٹر
The doctor and the saint
( The Ambedkar-Gandhi debate caste,race and annihilation of cast)
پر تبصرہ ہے۔
انگریزی
کتاب پینگوین پبلیکیشن سے شائع ہوئی ہے۔ کتاب میں کل 165 صفحات ہیں- مواد
دلائل اور تحقیقات سے بھرا ہوا ہے۔ طرز تحریر دلچسپ اور انداز بیان دل چھو
لینے والا ہے۔ کتاب شروع سے لیکر آخر تک قاری کو باندھے رکھتی ہے۔
اروندھتی
رائے رائٹر اور سوشل ایکٹیوسٹ ہیں۔ رائے کو انکی معروف کتاب the god of
small things کے لیے boker prize سے بھی نوازا جا چکا ہے ۔ ہندوستانی
سماج اور اسکے مسائل اروندھتی رائے کی تحریروں کا خاص موضوع ہوتے ہیں۔
زیر
تبصرہ کتاب بھی ہندوستانی تاریخ کے سب سے بڑے،طویل ، اجتماعی اور مذہبی
استحصال یعنی کاسٹ سسٹم کا تنقیدی جائزہ ہے۔ یہ کتاب ڈاکٹر امبیڈکر کی
معروف تصنیف annihilation of cast کے جدید ایڈیشن کے تعارف کے طور پر لکھی
گئی تھی۔ annihilation of cast ڈاکٹر امبیڈکر کی ایک ایسی تقریر ہے جو لکھی
تو گئی لیکن اسکو بیان کرنے کا موقع انھیں ہندوستان نے کبھی نہیں دیا۔
ہندوؤں کی اصلاحی تنظیم ذات پات توڈک منڈل نے امبیڈکر کو اعلیٰ ذات کے
ہندوؤں میں تقریر کے لیے مدعو کیا تھا لیکن پروگرام سے پہلے تقریر کا مواد
دیکھنے کے بعد پروگرام ہی کینسل کردیا گیا۔ منڈل کا احساس تھا کہ تقریر
راست طور پر ہندو مذہب پر حملہ ہے ۔ امبیڈکر نے تقریر کو شائع کرنے کا
فیصلہ کیا لیکن کوئی بھی بڑا پبلشر تیار نہیں ہوا۔ یہ کتاب چھوٹے موٹے
پبلشرز کے ذریعہ اب تک لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوچکی ہے ۔ پہلی مرتبہ جب
یہ کتاب شائع ہوئی تھی تبھی گاندھی جی نے اس پر اعتراض کیا تھا اسکے بعد
انکے اور امبیڈکر کے درمیان اس مسئلہ کو لیکر ہمیشہ جنگ رہی تھی۔
زیر
تبصرہ کتاب گاندھی اور امبیڈکر کی کاسٹ سسٹم کے متعلق کی گئی کوششوں کا
جائزہ ہے۔ گاندھی اسے باقی رکھنا چاہتے تھے جبکہ امبیڈکر اسے ختم کرنا
چاہتے تھے۔ گاندھی کی شخصیت ہندوستان اور مغرب میں ایک تاریخی حیثیت کی
حامل شخصیت ہے ۔ دنیا انہیں مہاتما کے نام سے جانتی ہے لیکن اگر کتاب کے
دلائل کو درست مانا جائے(اور انھیں غلط ماننے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی )
تو گاندھی کو مہاتما کے بجائے امیت شاہ کے الفاظ میں "چتور بنیا" کہنا
زیادہ مناسب ہوگا۔ کتاب کا بیانیہ یہ کہتا ہے کہ امبیڈکر کی دلتوں کے حقوق
کے لیے کی گئی جدوجہد کو گاندھی نے بہت عیاری اور چالاکی سے ختم کردیا۔ دلت
نہ ہندو فولڈ سے باہر جا سکے اور نہ ہی انکی ذلت بھری زندگی کا خاتمہ ہوا۔
مغربی
ممالک میں ہندوستان کی عمومی تصویر, روحانیت ، اہنسا،،تحمل ،مذہبی
رواداری، جمہوری اقدار ، سبزی پسند ،غیر توسیع پسند اور پر امن ملک سے
تعبیر کی جاتی ہے ۔ اس کا اندازہ رابرٹ بلیک ول ( Robert Blackwill,
departing US ambassador, 2003.) کے اس جملہ سے لگایا جاسکتا ہے ۔
India
is a pluralist society that creates magic with democracy, rule of law
and individual freedom, community relations and (cultural) diversity.
What a place to be an intellectual!... I wouldn’t mind being born ten
times to rediscover India.
ہندوستانی
کی اس صورت گری کا بہت بڑا کریڈٹ گاندھی جی کو جاتا ہے۔ ہندوستان اس امیج
کو مستقل بنائے رکھتا ہے ۔ اروندھتی رائے کے مطابق اس امیج کی وجہ سے بین
الاقوامی سطح ،پر دلتوں پر ہورہے مظالم کے خلاف کبھی آواز نہیں اٹھتی اور
انھیں اندرونی معاملات کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہئے ۔ دلیل کے طور
پر وہ ملالہ اور سوریکھا بھاٹمونگے کا کیس رکھتی ہیں ۔ ملالہ پر ظلم کے
خلاف پوری دنیا اٹھ کھڑی ہوتی ہے ۔ امریکی صدر سے لیکر اقوام متحدہ کا جنرل
سکریٹری تک اور میڈونا سے لیکر انجیلینا جولی تک سب ملالہ پر ہوئےظلم کے
خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ دنیا کی تقریباً تمام ہی بڑی شخصیتیں تہنیتی پیغامات
بھیجتی ہیں ۔ اقوام متحدہ اسکے علاج اور تعلیم کے تمام اخراجات برداشت
کرتا ہے۔ دنیا بھر میں اسے ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز کے طور پرجانا جاتا
یے۔ یہاں تک کہ ملالہ کو دنیا کے سب سے بڑے اعزاز نوبل انعام سے نوازا
جاتا ہے ۔اس کے بر عکس ہندوستان میں مہاراشٹرا کی سوریکھا بھوٹمانگے جسے
اعلیٰ ذات کے ہندو کے کھیت کے بغل میں کھیت خریدنے کے جرم میں بدترین سزا
دی جاتی ہے۔ اسے اور اسکی فیمیلی کو گھر سے باہر نکالا جاتا ہے اور اسکے
بیٹوں سے اسکا اور اسکی بیٹیوں کا ریپ کرنے کو کہا جاتا ہے۔ انکے انکار
کرنے پر انکے عضو مخصوص کاٹ دیے جاتے ہیں۔ اسکے بعد درندگی سے اسکا اور
اسکی بیٹیوں کا ریپ کرنے کے بعد بے رحمی سے قتل کرکے لاشیں قریبی نالے میں
پھینک دی جاتی ہیں۔
لیکن
سریکھا کے لیے نہ میڈونا کوئی گیت گاتی ہے اور نہ انجیلینا جولی کوئی
آرٹیکل لکھتی ہے، اقوام متحدہ اور امریکہ کی طرف سے کوئی پٹیشن دائر نہیں
کی جاتی ہئے اور نہ ہی کوئی celebrity ٹویٹ کرتا ہے کیونکہ سریکھا دنیا
کی سب سے بڑی مارکیٹ فری ڈیموکریسی میں رہتی ہئے جہاں کاسٹ سسٹم کلچر کا
حصہ ہے اور اندرونی معاملہ ہے۔
رائے نے امبیڈکر اور گاندھی اور دلتوں کے تعلق سے انکی کوششوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔
کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔
پہلے
حصے میں گاندھی جی کی افریقہ میں کی گئی کوششوں کا تنقیدی جائزہ ہے ۔
دوسرا حصہ گاندھی کے ہندوستان واپسی سے مہاتما بننے تک کی کہانی بیان کرتا
ہے ۔ تیسرے حصّے میں امبیڈکر کی درد بھری جدوجہدکا بیان ہے ۔ چوتھا اور
آخری حصہ امبیڈکر اور گاندھی کے ٹکراؤ کو بیان کرتا ہے ۔ اس حصہ میں گاندھی
کی کاسٹ سسٹم کے خلاف امبیڈکر کی لڑائی کو زائل کرنے کی کوششوں سے لیکر
پونہ پیکٹ تک کی جدوجہدکا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے ۔
عمومی
طور پر گاندھی جی کے بارے میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ وہ بھید بھاؤ یا
تفریق کے خلاف تھے لیکن رائے ثابت کرتی ہے کہ ایسا نہیں تھا ۔افریقہ میں
گاندھی کی کوششوں کا تنقیدی جائزہ لیتےہوئے وہ ثابت کرتی ہے کہ گاندھی خود
racist تھے۔
1893 میں افریقہ میں گاندھی جی کو سفید
فاموں کے لیے بنے فرسٹ کلاس ٹرین کے ڈبے سے باہر پھینک دیا گیا۔ عمومی طور
پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ گاندھی جی رنگ کے بھید بھاؤ کے خلاف تھے لیکن
گاندھی جی کا اصل اعتراض یہ نہیں تھا کہ انگریزوں نے انہیں سیاہ فام ہونے
کی بنیاد پر باہر پھینکا بلکہ اعتراض یہ تھا کہ انہیں اور افریقی حبشیوں کو
ایک جیسا سمجھ لیا گیا جبکہ ہندوستانی تاجر مقامی افریقیوں سے بہتر ہیں ۔
ڈربن پوسٹ آفس میں دو دروازے تھے ایک سیاہ فام لوگوں کا دوسرے سفید فام
لوگوں کا۔ ہندوستانیوں کو سیاہ فام لوگوں کے لیے بنا دروازہ ہی استعمال
کرنا ہوتا تھا۔ گاندھی نے برٹش حکومت کو خط لکھ کر اس کی شکایت کی
ہندوستانیوں کے ساتھ مقامی افریقیوں جیسا برتاؤ کیا جارہاہے انھیں یا تو
سفید فام کے دروازے سے داخل ہونے کی اجازت دی جائے کیونکہ وہ بھی برٹش ہی
کی طرح آریا نسل سے تعلق رکھتے ہیں یا پھر انکے لیے الگ سے تیسرا دروازہ
بنایا جائے۔ اسی طرح جب انھیں افریقہ میں مقامی افریقی باشندوں کے ساتھ قید
کیا گیا تب انکا یہی اعتراض تھا کہ ان اجڈ اور گوار لوگوں کے بیچ ہم
ہندوستانی کیسے رہ سکتے ہیں ہمارے لیے جیل میں بھی الگ سے انتظامات ہونے
چاہیے۔
گاندھی
کے متعلق یہ تصور کہ وہ سامراج مخالف تھے بھی درست نہیں ہے ۔ افریقی
زندگی سے اروندھتی رائے نے دو واقعات بتائے جس میں گاندھی جی نے خود برٹش
سامراج کے لیے جنگ میں حصہ لیا ۔ 1886 کی انگلو بور وار جس میں برٹش حکومت
نے بڑے پیمانے پر افریقیوں کا قتل عام کیا تیس ہزار سے زیادہ بڑے ،بچے
،بوڑھے اور عورتوں کو قتل کیا گیا۔ کھیتیوں کو جلا یا گیا اور کئی ہزار لوگ
بھوک سے تڑپ کر مر گئے۔ اس جنگ میں برٹش حکومت نے ہندوستانیوں کو بھی شامل
کیا ہتھیاروں اور ٹریننگ کی کمی کے سبب انھیں مزدوروں کی طرح جنگ میں
استعمال کیا گیا۔ گاندھی جی کے ذمہ ایمبولنس سروس دی گئی۔ اہنسا کے ماننے
والے گاندھی نے اس جنگ میں اپنی پوری خدمات سامراجی برٹش کے لیے پیش کیں،
نہ صرف پیش کی بلکہ
جنگ میں فتح کے بعد برٹش حکومت
نے اپنے فوجیوں کو انعامات سے نوازا تو گاندھی نے برٹش حکومت کو خط لکھ کر
اعتراض جتایا کہ اس انعام میں وہ خود بھی برابر کے حقدار ہیں۔
اسی
طرح زولو جنگ میں بھی گاندھی جی خود شریک ہوئے بلکہ مقامی ہندوستانیوں کو
بھی اکسایا کہ انھیں برٹش حکومت کا ساتھ دینا چاہیے ۔وہ ہندوستانیوں کو
مشورہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں
"جنگ کے دوران ہماری ذمہ
داری کیا ہوگی ؟ ہمیں یہ نہیں دیکھنا ہے کہ زولو حق پر ہیں یا نہیں ۔ ہم
نٹل میں برٹش حکومت کے رحم و کرم پر ہیں۔ اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ جو
کچھ مدد ہم کرسکتے ہیں ہمیں کرنی چاہیے۔یہ گفتگو چل رہی ہئے کہ ہندوستانی
جنگ کے دوران کیا کردار ادا کرینگے۔ ہم وہی کریں گے جو اس سے پہلے بور جنگ
میں کر چکے ہیں "
جنگ میں برٹش حکومت کو فتح حاصل
ہوئی اور ہزاروں کی تعداد میں زولو مارے گئے قتل و غارتگری اتنی بڑھی کہ
ونسٹن چرچل، جو جنگ کے اصل ذمہ دار تھے خود پریشان ہوگئے اور انھوں نے قتل و
غارتگری روکنے کی کوششیں شروع کیں لیکن گاندھی جی کی طرف سے کوئی شرمندگی
یا اظہار افسوس نہیں سنا گیا۔
گاندھی
جی نے ستیہ گرہ کا پہلا تجربہ افریقہ میں ہی کیا تھا۔ لیکن یہ ستیہ گرہ
غریب ہندوستانی مزدوروں کے بجائے دولت مند ہندوستانی تاجروں کے لیے تھی۔
گاندھی کی تمام تر کوششیں یہی تھیں کہ ہندوستانی تاجروں کو بھی تجارت کی
وہی سہولیات دستیاب ہوں جو انگریز تاجروں کو دستیاب تھیں۔
حالانکہ
یہ ستیہ گرہ ویسی کچھ کامیاب نہیں رہی لیکن اس سے گاندھی جی کو ذاتی طور
پر بہت فائدہ ہوا۔ گاندھی جی کے بزنس مین دوست نے انھیں 1100 ایکر کا پھلوں
کا فارم تحفے میں دیا جس میں ایک ہزار سے زائد مختلف پھلوں کے درخت تھے
۔اسی فارم میں انہوں نے روحانیت اور پاکیزگی کے تجربات کیے تھے ۔ افریقہ
میں گاندھی جی کی ستیہ گرہ برٹش کے خلاف نہیں تھی وہ برٹش حکومت سے کوئی
جھگڑا نہیں چاہ رہے تھے بلکہ وہ ان سے دوستانہ تعلقات چاہ رہے تھے تاکہ
ہندوستانی تاجروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دستیاب ہوں۔
اروندھتی رائے کے نزدیک گاندھی جی کا غریبوں سے ہمدردی ایک ڈرامہ یا ایک ڈھونگ تھا ۔ وہ کتاب کے صفحہ 62 پر لکھتی ہیں "
گاندھی
ہمیشہ کہتے تھے کہ میں غریبوں سے زیادہ غربت میں جینا چاہتا ہوں ۔ کیا
غربت دکھانے یا اپنانے کی چیز ہے ؟ غربت پیسے یا ملکیت نہ ہونے کا نام نہیں
ہے بلکہ غربت کسی چیز پر قدرت نہ ہونے کا نام ہے ۔ ایک سیاستدان کے طور پر
گاندھی کو طاقت چاہیے تھی اور وہ انہوں نےبہترین طریقے سے حاصل کی ۔ اگر
آپ طاقتور ہیں تو آپ سادگی کے ساتھ رہ سکتے ہیں لیکن غریب بن کر نہیں رہ
سکتے ۔ افریقہ میں گاندھی جی کو غریب بننے کے لیے فارم اور ہزاروں پھولوں
کے درخت درکار تھے ۔
جس وقت گاندھی ٹالسٹائی فارم
میں غریبی کی رسومات ادا کر رہے تھے ۔ اس وقت وہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم
پر آواز نہیں اٹھا رہے تھے۔ وہ غریب مزدوروں کے حقوق کے لیے نہیں لڑ رہے
تھے اور نہ ہی ان مجبور لوگوں کے لیے جنکی زمینوں پر غاصبانہ قبضہ کرکے
انھیں بے گھر کر دیا گیا تھا بلکہ وہ امیر ہندوستانی تاجروں کے لیے لڑ رہے
تھے تاکہ انھیں ٹرانسوال میں بزنس کی اجازت مل جائے۔"
افریقہ
اور ہندوستان دونوں جگہ گاندھی جی کے کارپوریٹس سے بہترین تعلقات رہے ۔
بلکہ ہندوستان میں بڑے کارپوریٹس سے پیسے لیکر غیر سرکاری تنظیمیں چلانے کا
کلچر گاندھی نے ہی شروع کیا ۔ رائے لکھتی ہیں " 1915 میں گاندھی جی لندن
ہوتے ہوئے ہندوستان آئے جہاں انھیں برٹش کی خدمات کے لیے کیسر ہند گولڈ
میڈل سے نوازا گیا ۔ وہ ہندوستان میں مہاتما(عظیم روح) کے طور پر آئے جو
افریقہ میں برٹش سامراج اور اسکے بھید بھاؤ کے خلاف لڑے ۔ جو ہندوستانی
مزدوروں کے ساتھ کھڑے رہے ۔ واپس آئے ہوئے ہیرو کی عزت افزائی کے لیے جی ڈی
برلا، ہندوستانی تاجر نے کلکتہ میں شاندار پارٹی دی۔ برلا کے برٹش کے
زمانے میں بھی بڑے کاروبار تھے۔ وہ گاندھی کا سب سے بڑا اسپانسر بن گیا ۔
گاندھی کے آشرم کے تمام اخراجات کے علاؤہ برلا کانگریس کو بھی ڈونییشن
دیتا تھا ۔ برلا کے علاؤہ دوسرے بھی اسپانسر تھے لیکن برلا ان میں سب سے
ممتاز تھا۔ برلا کے اخبار ہندوستان ٹائمز میں گاندھی کا بیٹا منیجنگ
ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتا تھا ۔
مہاتما جس گھریلو
کھادی اور چرخے کو پروموٹ کر رہے تھے وہ ایک مل مالک کے ذریعے اسپانسر کی
گئی تھی ۔ وہ آدمی جو مشین کے خلاف تھا انڈسٹریلسٹ کے پیسے لیکر اپنا مشن
چلا رہا تھا۔ یہ کارپوریٹس سے پیسے لیکر چلنے والی غیر سرکاری تنظیموں کی
شروعات تھی "
گاندھی کے
مہاتما بننے کی کہانی بھی دلچسپ ہے ۔ رائے نے پورے حالات بہترین انداز میں
قلمبند کیے کہ کس طرح گاندھی نے اپنی مہاتما والی امیج بنائی ۔ گاندھی خود
کو سناتنی ہندو کہتے تھے اور عیسائی دنیا میں خود کو مسیح کا اوتار کہلوانا
پسند کرتے تھے۔ بہت جلد لوگ انھیں مہاتما کے نام سے جاننے لگے۔ جہاں بھی
وہ سفر کرتے لوگ انکے درشن کے لیے ریلوے اسٹیشن پر پہنچ جاتے۔ ڈی جی
تنڈولکر نے مہاتما گاندھی کے ساتھ اس زمانے میں سفر کیا- لکھتے ہیں
"یہ
سادہ مذہب لاکھوں ہندوستانیوں کے دلوں میں بس گیا۔ وہ جہاں بھی جاتے
مہاتما گاندھی کی جے کے نعرے لگائے جاتے ۔ براسیل کی سیکس ورکرز،کلکتہ کے
مارواڑی تاجر،اریا کے قلی، ریلوے کے مزدور ہر کوئی انھیں کھادی اور چادر
پیش کرنا چاہتا تھا ۔ وہاں جہاں بھی جاتے محبتوں کی بارش ہوتی " ۔ ہندوستان
سے نکل کر گاندھی کی شہرت بیرون ملک تک سفر کرنے لگی۔ نیویارک کے کمیونٹی
چرچ نے گاندھی کو موجودہ دنیا کا سب سے عظیم انسان قرار دے دیا۔کنگ مارٹن
لوتھر جونیر نے یہاں تک کہہ دیا "مسیح نے روح اور جذبہ دیا تھا گاندھی نے
طریقہ کار دیا " ۔ یہ شہرت یہاں تک بڑھی کی
نوبل
انعام یافتہ فرانسسی ڈرامہ نویس نے گاندھی جی کی تعریف میں کتاب لکھ دی
"Mahatma Gandhi:The man who become one with the universal being"
یہ کتاب یورپ میں ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوکر فروخت ہوئی ۔
کتاب کے تیسرے حصہ میں اروندھتی رائے نے امبیڈکر کی درد اور جدوجہد بھری زندگی کو بہترین انداز میں قلمبند کیا ہے ۔
گاندھی
جی کو امتیازی ذلت کا احساس افریقہ میں اس وقت ہوا تھا جب انھیں سفید فام
والے فرسٹ کلاس ڈبے سے باہر پھینک دیا گیا تھا لیکن امبیڈکر کو یہ احساس
ذلت اسکول کے پہلے ہی دن ہوگیا تھا۔
امبیڈکر کا جنم
مہار فیمیلی میں ہوا تھا ۔ مہار اچھوتوں میں شامل ہوتے تھے اس لیے انھیں
زمین خریدنے کی اجازت نہیں تھی۔ ستروھیں صدی میں یہ لوگ شیواجی کی فوج میں
شامل تھے ۔ شیواجی کی موت کے بعد یہ لوگ پیشوا کے لیے خدمات انجام دینے لگے
۔ پیشوا کے زمانے میں مہار کمیونٹی پر بدترین مظالم ہوئے۔ پیشوا نے ان پر
لازمی کیا کہ گلے میں برتن لٹکائے جائیں اور پیچھے جھاڑو باندھی جائے تاکہ
انکا تھوک زمین پر نہ گر سکے اور انکے منحوس قدموں کو جھاڑو صاف کرتی چلے۔
اس ظلم سے تنگ آکر مہار، انگریزوں کے وفادار ہوگئے اور 1818 میں انگریزوں
کے ساتھ مل کر کورے گاؤں کے میدان میں پیشوا کو شکست دے دی۔ تبھی سے برٹش
نے مہار رجمنٹ قائم کی جو اب تک موجود ہے ۔
اسی مہار
سماج میں امبیڈکر کا جنم ہوا تھا۔ امبیڈکر کو عام ہندوؤں کے اسکول میں
جانے کی اجازت تو تھی لیکن اسے اپنے ساتھ بیٹھنے کے لیے پٹسن کی بوری لے
جانی ہوتی تھی تاکہ اسکول کا فرش اسکے نجس وجود سے گندہ نہ ہو جائے ۔ اسے
اسکول میں دن بھر پیاسا رہنا ہوتا تھا کیونکہ اسکول کے نل سے اسے پانی لینے
کی اجازت نہیں تھی ۔ ستارا کے حجام اسکے بال نہیں کاٹتے تھے حتیٰ کے
بکریوں بھینسوں کے بال کترنے والے حجاموں تک نے اسے منع کر دیا ۔ امبیڈکر
کے ساتھ ہر اسکول میں یہی سلوک ہوتا رہا ۔
امبیڈکر نے سخت حالات میں اپنی تعلیم جاری رکھی اعلی تعلیم کے لیے پہلے ممبئی پھر بیرون ملک سفر کیا۔
امبیڈکر
،یونیورسٹی آف کولمبیا نیویارک سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے واپس آئے لیکن
انکی واپسی گاندھی کی طرح شاندار نہیں تھی۔ نہ کوئی شاندار استقبالیہ تھا
اور نہ ہی کوئی دولت مند اسپانسر بلکہ اسے اپنی اسکالر شپ لوٹانے کے لیے
نوکری تلاش کرنی تھی ۔ نوکری کے دوران بھی امبیڈکر کے ساتھ امتیازی سلوک
جاری رہا۔ آفس کے کلرک اس ڈر سے کہ کہیں امبیڈکر انھیں چھو نہ لے فائل اسے
پھینک کر دیا کرتے تھے۔ پورے بروڈہ میں اسے رہنے کے لیے کسی نے مکان نہیں
دیا بالآخر وہ ممبئی واپس آگئے۔
کاسٹ
سسٹم کے خلاف امبیڈکر کی کوششیں مستقل جاری رہیں اور انھیں بہت جلد احساس
ہوگیا کہ ہندو دھرم میں رہتے ہوئے کاسٹ سسٹم سے نجات ممکن نہیں ہے ۔ 1936
میں امبیڈکر نے اعلان کیا " ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم ہندو کہلاتے ہیں اسلیے
ہمارے ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے ۔۔ ہمیں اپنی غلطی کی اصلاح کرنی ہوگی۔ میری
بدقسمتی کہ میں اچھوت پیدا ہوا لیکن اس میں میری غلطی نہیں ہے ۔ لیکن میں
ہندو نہیں مرونگا کیونکہ یہ میری قدرت میں ہے "
ہندوستان
اس زمانے میں بڑی سیاسی تبدیلیوں سے گزر رہا تھا ۔ بہت جلد وہ ایک نیشن
اسٹیٹ بننے والا تھا اور اس اسٹیٹ میں حکومت تعداد کی بنا پر طے ہونا تھی۔
ہندو احیاء پرستوں کا احساس تھا کہ نئی ریاست میں انھیں مسلمانوں کے جبر کے
اقتدار سے آزادی ملے گی لیکن امبیڈکر کے اس اعلان نے انھیں پریشان کردیا۔
دلتوں کو اپنے ساتھ ملائے رکھنے کے لیے ہندو لفظ کا استعمال ہونے لگا ۔ اس
سے پہلے مسلمان اور برٹش یہ لفظ استعمال کرتے تھے اور ہندوؤں کی شناخت
مختلف ذاتوں کی بنا پر ہوتی تھی ۔
ہندو احیاء پرست
شردھا نند، دیانند سرسوتی ،وویکانند وغیرہ نے یہ لفظ استعمال کرنا شروع
کردیا ۔ یہی سیاسی ہندوازم بعد میں ہندوتوا کہلایا۔ اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے
لیے اب کوئی چارہ نہیں تھا کہ کاسٹ سسٹم کو ختم کرنے کی بات کرکے دلتوں کو
اپنے ساتھ بنائے رکھے۔ ورنہ اگر دلتوں نے اسلام ،عیسائیت یا سکھ ازم قبول
کرلیا تو ہندوؤں کی حکومت کا خواب ادھورا رہ جاتا۔
ہندو
احیاء پرست مستقل کوششیں کررہے تھے کہ کسی طرح دلتوں کو اپنے فولڈ میں لے
لیں لیکن کوششیں زیادہ کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی تھیں ۔
امبیڈکر نے خود کو ہندو احیاء پرستوں کی ان کوششوں سے بالکل الگ رکھا۔ وہ ان کوششوں کے پیچھے کے مقاصد کو خوب سمجھ رہے تھے۔
لیکن
ہندو احیاء پرستوں کے علاؤہ ایک اور شخص بھی تھا جو دلتوں کو ہندو فولڈ
میں رکھنا چاہتا تھا اور شاید اسے روکنا امبیڈکر کے بس میں نہیں تھا کیونکہ
اسکی حیثیت ہندوستان میں کسی سیاسی رہنما کی نہیں بلکہ سنت اور مہاتما کی
تھی ۔ اسکے مکر کا کوئی علاج ڈاکٹر امبیڈکر کے پاس نہ تھا
گاندھی نے مسلمانوں،عیسائیوں اور سکھوں کو قریب کرنے کے بعد دلتوں کی طرف اپنی توجہ کی۔
1925 میں بھاؤ نگر میں صدارتی خطبہ دیتے ہوئے گاندھی نے کہا "
اگر
میں کوئی مقام اپنے لیے چاہتا ہوں تو وہ بھنگی کا مقام ہے۔ گندگی صاف کرنا
ایک مقدس کام ہے جو ایک برہمن بھی کر سکتا ہے اور بھنگی بھی ۔ برہمن اسکے
تقدس کو سمجھتا ہے جبکہ بھنگی اسکے تقدس کو نہیں سمجھتا۔ میں دونوں کی ایک
جیسی عزت کرتا ہوں ۔ دونوں کے بنا ہندو دھرم ادھورا ہے ۔لیکن میں خدمت کو
پسند کرتا ہوں ۔ اسلیے مجھے بھنگی پسند ہے ۔"
گاندھی بال میکی سماج کی بستیوں میں جانے لگے اور وہاں قیام کرنے لگے اور دلت بھی گاندھی جی سے قریب ہونے لگے۔
امبیڈکر
کا احساس تھا کہ کاسٹ سسٹم کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب دلتوں کے اندر
سیاسی بیداری پیدا ہو اور اسکے لیے ضروری تھا کہ ان کے نمائندے پارلیمنٹ
میں جائیں ۔ کانگریس دلتوں کو ریزرو سیٹ دینے تیار تھی لیکن امبیڈکر جانتے
تھے کہ ریزروسیٹ سے سیاسی قوت نہیں ملے گی اور دلت اس صورت میں بھی غلام ہی
رہیں گے ۔ امبیڈکر نے دلتوں کے لیے جدا گانہ انتخاب کی مانگ کی۔ کانگریس
اس تجویز پر ناراض ہوئی اور اسکا بائکاٹ کیا۔
امبیڈکر
نے دلتوں کی بڑی بڑی کانفرنس لینا شروع کی پہلی مہاڈ کانفرنس کی کامیابی
کے بعد امبیڈکر نے دوسری مہاڈ کانفرنس لی جس میں امبیڈکر اور انکے ساتھیوں
نے منو اسمرتی کی کاپیاں جلائیں ۔ امبیڈکر نے انقلابی تقریر کی اور دلتوں
کے اندر ایک جوش اور جذبہ پیدا کیا ۔
امبیڈکر
کی کانفرنس کے مقابلہ گاندھی نے بھی اسی مہینے پچھڑی ذاتوں کی کانفرنس لی
اور امبیڈکر کے انقلابی طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا یہ شیطانی طریقہ
ہے ہمیں پیار اور محبت سے احتجاج کرنا چاہیے۔
دوسری
گول میز کانفرنس میں کانگریس کی طرف سے گاندھی جی نے شرکت کی وہیں امبیڈکر
کو بھی دلتوں کے نمائندے کے طور پر بلایا گیا۔ گاندھی نے امبیڈکر کو دلتوں
کا نمائندہ ماننے سے انکار کردیا اور خود کو دلتوں کے نمائندے کے طور پر
پیش کیا۔ گاندھی مسلمانوں اور سکھوں کے لیے تو جداگانہ انتخابات کے لیے
تیار ہوگئے لیکن دلتوں کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ گاندھی اور امبیڈکر کے بیچ
دلتوں کی نمائندگی کو لیکر ٹکراؤ ہوگیا۔
راؤنڈ ٹیبل
کانفرنس کے ایک سال بعد برٹش گورنمنٹ، دلتوں کے جداگانہ انتخابات کے لیے
راضی ہوگئی۔ اس اعلان کے بعد گاندھی جی بہت ناراض ہوئے اور بلیک میل کرنے
کے لیے ، اسوقت وہ پونہ کی یروڈا جیل میں تھے ، مرن برت کا اعلان کردیا۔
برٹش گورنمنٹ نے گاندھی کی بات ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ یہ فیصلہ دلتوں کی رضا مندی سے ہی واپس لے سکتی ہیں۔
یہ
عجیب سچویشن تھی اعلی ذات کے ہندوؤں نے دلتوں کو ہمیشہ الگ رکھا۔ انکا
کھانا پینا،انکے گھر ،راستے ،اسکول یہاں تک کہ مندر بھی الگ رکھے لیکن آج
وہی دلت اپنا الگ انتخابی پروسس مانگ رہے تھے تو یہ دلیل دی جارہی تھی کہ
ہندو مذہب ٹوٹ جائے گا اور گاندھی جیسا سنت اور مہاتما آدمی اسکے لیے خود
کو بھوکا مارنے تیار ہوگیا۔
اعلیٰ
ذات کا ہندو بخوبی سمجھ رہا تھا کہ دلتوں کے لیے جداگانہ انتخابات کا مطلب
دلتوں کو طاقت ور بنانا ہوگا اسلیے وہ ہر قیمت پر دلتوں کے لیے اقتدار کا
دروازہ بند کرنا چاہ رہا تھا۔
گاندھی جی کے مرن برت کے سبب امبیڈکر ویلن بن گئے کہ انکی ضد کے سبب فادر آف نیشن کی زندگی داؤ پر لگ گئی۔
نرم
اور سخت ہندوتوادی انکے خلاف ہوگئے ۔ یہاں تک کہ ٹیگور اور نہرو جیسے لوگ
بھی گاندھی کے طرف دار ہوگئے۔ ملک کے سبھی بڑے سیاستدان امبیڈکر کے خلاف
ہوگئے یہاں تک خود امبیڈکر کے ساتھی اسکے خلاف ہوگئے۔ دلتوں کا احساس تھا
کہ اگر گاندھی جی کو کچھ ہو جاتا ہے اس صورت میں دلت ذمہ دار ٹھرائے جائیں
گے اور پورا سماج گاندھی کی موت کا بدلہ دلتوں سے لےگا۔
امبیڈکر
اپنی بات دلیل سے رکھنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ہندوستانی سماج کے سامنے وہ
اکیلے کیا کرسکتے تھے ۔ مجبوراً 24ستمبر 1932 کو امبیڈکر نے یروڈا جیل میں
پونہ پیکٹ سائن کر دیا ۔
اس ایکٹ کے مطابق دلتوں کو جداگانہ انتخابات کے بجائے ریزرو سیٹ ملنا طے پایا۔
امبیڈکر
اپنی جنگ ہارچکے تھے ۔ دلتوں کی تاریخ کی سب سے بڑی اور مضبوط آواز گاندھی
کے مکر کے سامنے ڈھ گئی۔ پونہ پیکٹ کے ذریعہ گاندھی نے یقینی بنا دیا تھا
کہ اقتدار ہمیشہ اعلیٰ ذات کے پاس رہے ۔ آج اسی سال بعد امبیڈکر کے خدشات
صد فی صد درست ثابت ہوئے۔ پیکٹ سائن کرتے وقت گاندھی کے ساتھ ، اسکا بزنس
مین دوست برلا، ہندو مہا سبھا کا بانی مدن موہن مالویہ (وہی ہندو سبھا جسکے
ایک کارکن گوڈسے نے بعد میں گاندھی کا قتل کیا ) ، ہندوتوا کا نظریہ ساز،
دامودر ساورکر اور ایم سی راجہ (دلت لیڈر جس نے اس وقت گاندھی کا ساتھ دیا
اور زندگی بھر پچھتاتا رہا ) ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گاندھی نے امبیڈکر کی
دستخط دلتوں کے نمائندہ کے طور پر لی جبکہ گول میز کانفرنس میں وہ خود کو
دلتوں کا نمائندہ بتا رہے تھے ۔
امبیڈکر نے گاندھی کے برت کے بارے میں لکھا
"
اس برت میں کوئی نیکی نہیں تھی۔ بلکہ وہ ایک گندی اور گھناؤنی حرکت تھی ۔
یہ مظلوم لوگوں پر جبر کی بدترین شکل تھی تاکہ وہ اپنا آئینی حق چھوڑدے
اور ہندوؤں کے رحم و کرم پر اپنی زندگی گزارے ۔ یہ ایک مکاری اور بدمعاشی
سے بھری حرکت تھی ۔ دلت کیسے اس آدمی کو سنجیدہ اور ایماندار مان سکتے ہیں ؟
امبیڈکر خود کہا کرتے تھے
"اگر سماج آپکے بنیادی حقوق دینے تیار نہ ہو تو کوئی پارلیمنٹ اور قانون آپ کو حقیقی معنوں میں وہ حقوق نہیں دلا سکتا "
امبیڈکر نے دستور بھی بنا کر دیکھا اور مذہب بھی تبدیل کرکے دیکھ لیا لیکن دلتوں کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔
کتاب
کے آخر میں ہندوستانی سماج میں دلتوں کی موجودہ صورتحال پر روشنی ڈال کر
بتایا گیا کہ وہ آج بھی اسی حالت میں ہئے جس میں بابا صاحب نے انھیں پایا
تھا۔ کاسٹ سسٹم آج پہلے سے زیادہ مضبوط ہے ۔
گاندھی
کے مکر نے امبیڈکر کی کوششوں کو نگل لیا۔ کروڑوں لوگوں کو پھر سے کبھی نہ
ختم ہونے والی ذلت بھری زندگی میں ڈھکیل دیا۔ ایسی ہی صورتحال کے لیے اقبال
نے کہا تھا ۔
آ بتاوں تجھ کو رمز آیۂ 'ان الملوک'
سلطنت اقوام غالب کی ہے اک جادوگری
خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری
کتاب کے آخری صفحہ پر اروندھتی رائے یہ سوال کرتی ہے ۔


کوئی تبصرے نہیں